اب کیا کریگی بی جے پی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کرناٹک میں اس کی کراری شکست کے بعد سامنے آیا ہے ۔کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے ایسا دور بے حد مشکل والا ہوتا ہے جب اس کی ساری پلاننگ ایک کے بعد ایک فیل ہو جاتی ہے اور اسے نئی پلاننگ کرنی پڑتی ہے ،لیکن اس میں سب سے بڑی دقت یہ پیش آتی ہے کہ اپوزیشن کے پاس اس کی ناکام پالیسیوں کی فہرست ہوتی ہے جسے عوام کے سامنے پیش کر کے وہ سرکار مخالف ماحول بنا دیتی ہے ۔بر سر اقتدار بی جے پی فی الحال اسی دور سے گذر رہی ہے ۔2014 میں حادثاتی طور پر اقتدار میں آنے والی بی جے پی اور اس کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی اتنے جوش میں تھے کہ انہوں نے زبانی اعلانات کی جھڑی لگا دی ۔کچھ دنوں تک تو ایسا لگا کہ بھارت دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک بننے ہی والا ہے اور نریندر مودی بھارت کو سپر پاور بنائے بغیر ماننے والے ہی نہیں ۔نوٹ بندی کے ذریعہ غیر ممالک سے کالا دھن لا کر ہر شہری کے کھاتے میں 15-15لاکھ ڈالنے سے لے کر تمام ملک کے غریبوں کو پکا گھر دینے تک ۔گنگا کی صفائی سے لے کر جی ایس ٹی کی نئی پالیسی کے تحت ملک کے معاشیات کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کے دعوے تک ۔آپ یاد کرتے جائیں اور ہم شمار کرواتے جائیں لیکن ان وعدوں کا سلسلہ ہی ختم نہیں ہوگا ۔لیکن جب پانچ برس گذر گیا تب مودی جی کو یاد آیا کہ بھلے ہی اس دوران انہوں نے ملک میں کم لیکن غیر ملکی ممالک کے دوروں میں زیادہ وقت گذارے ہوں اور یہ خبر اخبارات کی شہ سرخی بننے لگی ہو کہ "آج وزیر اعظم ملک میں تشریف لائے "ووٹ تو ملک کے ووٹر سے ہی لینے ہیں ،اور پانچ سال میں وعدوں اور دعووں کے علاوہ زمین پر کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہاہے۔ تو پھر وشو گرو کا نعرہ کام آیا ،اور بے وقوف کی حد تک سیدھے سادے شہریوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ملک کی سالمیت پر پاکستان کی جانب سے بہت بڑا خطرہ ہے ،جو بھارت کی سناتن تہذیب کو ختم کرنے کے ایک دم قریب پہنچ چکا ہے اور وزیر اعظم مودی جی اسی خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ساری دنیا مہں گھوم گھوم کر رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں ۔ملک کی سالمیت کے نام پر تو کسی بھی ملک کے شہری کا جذباتی ہو جانا فطری ہے سو لوگ مودی کے تمام وعدوں کو پس پشت ڈال کر ایک بار پھر اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔ لگے ہاتھوں پلوامہ میں فوجی قافلے پر حملہ بھی ہو گیا اور جوانوں کی اس شہادت نے بی جے پی کے سیاسی بیڑے کو 2019 میں پار لگا دیا ۔
اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ 2019میں برسر اقتدار آنے کے بعد نریندر مودی اپنے رویہ میں تبدیلی کرتے اور پہلے اپنے وعدوں کی تکمیل کی کوئی صورت نکالتے لیکن انہوں نے ایک بار پھر گذشتہ پانچ سالہ دور کی طرح شیخیاں بگھاڑنے کے اور کچھ نہیں کیا سوائے کانگریس اور اندرا فیملی کو گالی دینے کے ۔کانگریس اور علاقائی پارٹیوں کی سرکاروں کو سازش کر کے گرانے کے ،ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو دھمکانے اور جیل بھیجنے کے یا پھر اپنے چہیتے گجراتی فائننسروں کے قرض معاف کرنے اور انہیں ملک سے لے کر بیرون ملک تک سے قرض اور ٹھیکہ دلانے کے ۔جس کا سب سے بڑا ثپوت یہ ہے کہ ان 9سالوں میں آج ملک کے دس بڑے تجار کی فہرست بنائیں تو وہ گجراتی ہیں ،پندرہ کی فہرست بنائیں تو بارہ گجراتی ہیں ۔
اب ایک بار پھر 2024کا عام انتخاب سامنے ہے اور بی جے پی کے سپریمو یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ یہ انتخاب کیسے جیتا جائے ۔کرناٹک انتخاب میں ہنوتوا کا اپنا اصلی ایجنڈا انہوں نے پیش ضرور کیا لیکن وہ بیک فائر کر گیا اور نہ صرف لنگایتوں نے انہیں ریجیکٹ کر دیا بلکہ دلت سماج بھی کھڑگے کے ساتھ چلا گیا ۔ اور یہ اتنی بڑی سیاسی تبدیلی ہے جس کے بارے میں مودی اینڈ کمپنی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔حالانکہ ابھی تقریبا ایک برس عام انتخابات کو باقی ہے لیکن اس دوران بھی لگاتار اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ۔تلنگانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گڈھ اور راجستھان کے علاوہ میزورم میں بھی چناؤ ہے ۔اور اپنی پارٹی کے تنہا کھیون ہار نریندر مودی جی یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ زبانی بیان بازی کب تک ؟ناگپور سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ بھی صاحب کے لئے خوش کن نہیں ،ناگپور والے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر بی جے پی کی شکست کا یہ سلسلہ 2024تک جاری رہا تو پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا ؟کیونکہ مودی جی کو گدی پر بٹھانے کے بعد ان لوگوں کے تو پو بارہ ہو گئے تھے لیکن کہا جاتا ہے نہ کہ اچھے دن کے گذرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔اور سنگھ کے لوگوں نے ان 9سالوں میں پہلی بار اقتدار کا مزہ چکھا ہے ،اور اقتدار کا مزہ منہ کو خون لگنے جیسا ہے ۔اور اس کا سب سے زیادہ نقصان تنظیمی ڈھانچے پر پڑتا ہے ۔اور دوسری طرف اگر اقتدار بی جے پی کے نیچے سے سرک گئی تو پھر انتقامی کارروائیوں کے لئے بھی سنگھ کو تیار رہنا چاہئے ۔فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے حواری نہایت پریشان کن حالات کے شکار ہیں ۔جبکہ ملک کے عام شہری اس تشویش کا شکار ہیں کہ اپنی یقینی شکست کو سامنے دیکھ کر یہ گروہ اور اس کا مکھیا کہیں کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جو ملک کے بچے کھچے امن و امان کو بھی تحس نحس نہ کر دے ۔












