نئی دہلی، کرناٹک انتخابی نتائج کے بعد 224 نشستوں والی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو سرکار بنانے کے لئے اکثریت کے 113 سیٹوں کی ضرورت ہے اور کانگریس نے اس سلسلے میں بازی مار لی ہے۔ کانگریس 137سیٹوں پر پرچم لہرایا ہے، جبکہ حکمراں جماعت بی جے پی محض 65سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوپائی ہے۔ جے ڈی ایس سمیت دیگر جماعتوں کو 19 سیٹوں پر سمٹ گئی ہے۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے کانگریس کی جیت کے پیش نظر کہا ہے کہ یہ مینڈیٹ نریندر مودی، امت شاہ اور جے پی نڈا کے خلاف ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا: ‘پی ایم مودی 20 بار کرناٹک آئے، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم نے اس طرح مہم نہیں چلائی۔سابق وزیر اعلیٰ نے کرناٹک انتخابات کے نتائج کو اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی بنیاد قرار دیا۔انھوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ تمام غیر بی جے پی پارٹیاں اکٹھی ہوں گی اور بی جے پی کو شکست دیں گی۔ مجھے امید ہے کہ راہل گاندھی ملک کے وزیر اعظم بنیں گے۔واضح ہو کہ ریاست کرناٹک میں زبردست انتخابی مہم کے بعد 10 مئی کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اس میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور کانگریس پر حملہ آور ہوئے اور کئی متنازع معاملے بھی سامنے آئے تھے۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس بار ریاست میں 73.19فیصد پولنگ ہوئی، جو ریاست کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔ایچ ڈی کمارسوامی کی جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) رجحانات میں تیسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے نظر آ رہی ہے۔ پہلے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ معلق اسمبلی کی صورت میں حکومت بنانے میں جے ڈی ایس کا کردار اہم ہو جائے گا۔ لیکن موجودہ نتائج میں کانگریس کو جو برتری نظر آ رہی ہے اس کے پیش نظر ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔دہلی میں کانگریس کے صدر دفتر کے باہر کانگریس کے کارکنان اور رہنما جشن مناتے نظر آ رہے ہیں جبکہ ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں بھی ایسا ہی سماں نظر آ رہا ہے۔دریں اثنا سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں۔ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈز میں ‘کرناٹک الیکشن رزلٹو، ‘بی جے پی مکت ساؤتھ انڈیا، مینیفسٹو میٹرز، ووٹ کاؤنٹنگ، کرناٹک چناؤ جیسے ہیش ٹیگز شامل ہیں۔بہت سے لوگ اسے بی جے پی کے بجائے نریندر مودی کی شکست بتا رہے ہیں۔روشنی کے آر رائے نامی ایک صارف نے نریندر مودی کے ذریعے اٹھائے جانے والے معاملوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’وہ ہندو مسلم لے آئے، وہ پاکستان لے آئے، انہوں نے وکٹم کارڈ بھی کھیلا، انہوں نے جیتنے کے لیے سب کچھ کیا جو کر سکتے تھے۔اس کے باوجود وہ 75 سیٹ سے اوپر نہیں جا رہے ہیں۔ یہ مودی کی ہار ہے۔ یہ الیکشن ان کے چہرے پر لڑا گیا تھا۔‘جے اے ميگرے نامی صارف نے ایک ویڈیو ڈالتے ہوئے لکھا: ‘کنول کو کامیابی کے ساتھ ہٹا دیا گيا۔ جشن منانے کا وقت ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس فاتح۔
کلاسک موجیٹو نامی ایک صارف نے لکھا: ’کرناٹک کی کہانی۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا پہلا اثر۔اس کے ساتھ انھوں نے راہل کی یاترا کی ایک تصویر ڈالی ہے جس میں ‘ہی کیم، ہی واکڈ، ہی کنکرڈ یعنی وہ آیا، وہ چلا اور اس نے فتح کیا لکھا ہے۔بہوجن سماج پارٹی سے رکن پارلیمان کنور دانش علی نے ٹویٹ کیا: ‘حجاب، حلالہ، بجرنگ بلی، کامن سول کوڈ، لو جہاد، دی کیرالہ اسٹوری۔ پولرائز کرنے والا کوئی داؤ کام نہیں آیا۔ کرناٹک کے عوام نے فرقہ پرستی کو دانستہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ اب ملک کی باری ہے۔ 2024 میں ایسے ہی عوامی فیصلے آنے ہیں۔سوریا بارن ٹو ون نامی صارف نے لکھا کہ ‘جنوبی انڈیا اب سرکاری طور پر بی جے پی سے آزاد ہو گیا ہے۔کوئی بھی مقامی مسائل پر بات نہیں کی گئی۔یہ شکست بی جے پی کو کو سنہ 2024 کے عام انتخابات کے لیے بیک فٹ پر لے آئے گی۔
اس کے علاوہ واٹس ایپ پر ایک پیغام گردش کر رہا ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گذشتہ چھ برسوں میں بی جے پی کو 19 ریاستوں میں ناکامی ملی ہے اور جہاں وہ حکومت میں ہے وہاں ایک چھوٹے پارٹنر کی حیثیت سے لیکن انڈین میڈیا میں ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سارے ملک میں مسٹر مودی ہی جیت رہے ہیں۔ جالیٹیشین نامی ایک صارف نے لکھا: ‘میں سارے ساؤتھ انڈیا کا نفرت سے پاک ہونے پر احترام کرتا ہوں۔ کرناٹک والوں نے بی جے پی کو اس کی جگہ دکھا دی، ہم ہماری باری ہے کہ ہم بی جے پی کو 2024 میں رد کر دیں۔












