
فلسطین اور اسرئیل کے تنازع کو لیکر آج جو حالت ہیں اس کے لئے اقوام متحدہ کی وعدہ خلافیاں اور 75 برس سے جاری اسرائل کے مظالم کی طرف سے اقوام عالم کی چشم پوشی ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپریشن ’ طوفانِ اقصیٰ‘ کے نام سے کئے گئے اس حملے نے دنیا کو متحیر اور اسرائل کو سراسیمہ کر دیا۔ اس حملے میںاسرائل کے قیام سے اب تک نہ صرف جانی نقصان سب سے زیادہ ہوا ہے بلکہ اس کی خفیہ ایجنسی موساد کا وقار بھی خاک میں مل گیا ہے۔ اسرائل کے ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹا ہے۔ دو سو فوجی اور شہری یرغمال بنائے گئے ہیں۔ حماس کا یہ حملہ مسجد اقصیٰ میں مدعتوں سے چلی آرہی اسرائلی سیکیورٹی ایجنسیوں کی پر تشدد کاروائیوں اور غزہ میں اسرائلی فوج کے آپریشن اور ناجائز گرفتاریوں اور ناجائز قبضے والی زمین پر یہودیوں کی آبادکاری کا نتیجہ ہے جسے اسرائیل اور اس کے مغربی ہمنوا حماس کی دہشت گردانہ کاروائی قرار دے رہے ہیں ۔د نیا قابض طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ خود ہندوستان نے دو سو برس انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔ ہمارے عظیم مجاہدوں کو غاصب اور ظالم حکمرانوں نے دہشت گرد قرار دیا۔کیا اپنی زمین پر قابض طاقتوں کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت دہشت گردی ہے۔اس طرح کی مزاحمت کو اقوام متحدہ نے بھی دہشت گردی کے خانے میں نہیں رکھا ہے۔ دہشت گردی کی یہ تعریف یقیناََسیاسی مصلحتوںکی عکاس ہے۔ دو ہفتے ہونے کو آئے ، اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری ہے ۔ تقریباََ پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ ہزاروں زخمی ہیں بے شمار کثیر منزلہ عمارتیں اور مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں ۔ پانی اور بجلی کا نظام تہس نہس ہو چکا ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں اور عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غزہ میں ایک اسپتال پر فضائی حملے میں آٹھ سو افراد شہید ہوئے ہیں ا ن میں کثیر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ بڑی چالاکی سے اسرائل اور اس کے حلیف اس حملے کو حماس کے کھاتے میں ڈالنے کو کوشاں ہیں۔ کلیسائوں، مساجد اور پناہ گزین کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔جنگ بندی کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ انسانی امداد پہونچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس دوران 57 اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم OIC کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا گیا جس میں اسرائیلی حملوں اور فلسطین کی موجودہ صورتِ حال پر غور کیا گیا ہمیشہ کی طرح OIC کا کردار Oh, I see تک محدود رہا ۔تقریریں کی گئیں اور گزشتہ کئی موقعوں کی طرح فلسطین کے حق میں اور اسرائلی مظالم کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ۔ قرار داد میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کے لئے کہا گیا۔ اجلاس نشستن، گفتن ،برخواستن تک محدود رہا ،ظاہر ہے ایسی کسی قرارداد کا اسرائیل پر کیا اثر پڑ سکتا ہے ، لہٰذا بمباری بدستور جاری ہے۔ اور اب زمینی حملوں کی تیاری ہے۔لیکن اس بار کی وحشت ناکی نے گزشتہ مظالم کے رکارڈ توڑ رکھے ہیں۔ عرب دنیا ،بلکہ عالم اسلام میں حکومتوں کی جو بھی مصلحتیں یا مجبوریا ہوں ۔ لیکن عوام میں رد عمل نہایت شدید ہے ۔ امریکی صدر کے تل ابیب دورے اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی اسرائل نوازی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ایران کا ردعمل کافی شدید رہا ہے اور لبنان میں حزباللہ ملیشیا جس پر ایران کا اثر و رسوخ ہے نے حماس کی حمایت میں اسرائل پر حملے بھی شروع کئے ہیں۔ ایران اور اسرائل کے بیچ کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام کا واحد مقصدیہودی ریاست اسرئیل کا قیام ہی تھا۔ ورنہ آج تک کسی بڑے تنازعے کو حل کرنے میں کوئی کامیابی نہیں ملی ،قابض طاقتوں نے قبضے کے خلاف چلنے والی تحریکوں کو دہشت گردی قرار دے کر تحریکوں کو کچلنے اور ظلم ڈھانے کا جواز بھی حاصل کر لیا۔ اور اقوام متحدہ کچھ نہ کر سکا۔ وہی اسرائیل جس کے قیام کا وعدہ برطانوی حکمراں یہودیوں سے 1917 میں ہی کر چکے تھے ۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور فلسطین کا علاقہ بر طانوی قبضے میں تھا۔ فلسطین میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو دو سری جنگِ عظیم تک چلتا رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کے خوف سے بڑے پیمانے پر یہودی پناہ گزین فلسطین میں داخل ہو گئے۔اب تک فلسطین میں یہودی کافی بڑی تعداد میں آباد ہو گئے تھے۔ ا گر چہ فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے منصوبے پر بر طانوی حکومت کاربند تھی۔ لیکن برطانیہ کے انخلاء کے ساتھ ہی یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا او ر فلسطینیوں کا قتل عام شروع ہو گیا جس کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج تک جاری ہے۔75 سال پہلے تک فلسظین ایک حقیقت تھا اور اسرائل اک خواب لیکن آج اسرائل ایک حقیقت ہے اور فلسطین ایک خواب۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سیکیورٹی کونسل میں اب تک فلسطین اور اسرائیل کو لیکر سیکڑوں قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں۔ ایسی ہر قرارداد جس میں اسرائیل کو مقبوضہ علاقے خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہویا جس میں اسرائیل کی انسانیت سوز حرکتوں کی مزمت کی گئی ہو ان کو امریکہ ویٹو کرتا رہا اور اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ لاکھوں فلسطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینی پڑی۔11 مئی 1949 کو اسرائیل کو اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل ہو گئی۔12 مارچ 2002 کو سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں پہلی مرتبہ فلسطینی ریاست کا ذکر کیا گیا۔19 نومبر 2003 کو سلامتی کونسل میں امن منصوبے کے تنا ظر میں دو ریاستی حل کی توثیق کی گئی۔ پانچ سال کے وقفے کے بعد 16 دسمبر 2008 کو مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لئے پیش کی گئی قرار داد کو منظور کیا گیا۔ ا گرچہ امریکہ اسرائیل کی مخالفت میں اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی ہر قرارداد کو ویٹو کرتا آیا تھا لیکن 18 فروری2011 کو پیش کی گئی اس قرارداد کی جس میں مقبوضہ علاقوں میں اسرئیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا امریکہ نے حمایت کی۔اس مسلے کا دو ریاستی حل ہی ممکن ہے جس میں اسرائلی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک آذاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے امریکہ کے پچھلے صدر ڈونالڈ ٹر مپ نے مسئلہ حل کرنے میں مدد کرنے کے بجائے یوروشلم کو اسرائیل کی راج دھانی تسلیم کر کے حالات مزید پیچیدہ بنا دئے۔موجودہ بحران میں بھی امریکہ کے نئے صدر نے اسرئیل کی حکومت کی حمایت میں بیان دے کر کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے اسرائلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے نہ صرف حوصلے بلند کئے بلکہ جنگ بندی کی مخالفت کر کے ان کو مزید حملوں کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ سوال کیا جانا چاہئے کہ فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا کیوں نہیں ہے۔ بڑی طاقتوں کے ویٹو کے اختیارنے اقوام متحدہ کے اختیار محدود کر دئے ہیںاس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے فنڈ بند کر دئے جانے کی دھمکی بھی دی جاتی رہی ہے ۔ مسئلہ حل ہونے کی کوئی صورت باقی نہ رہنے اور ہر طرف سے مایوس ہو کر اس طرح کے رد عمل فطری ہے ۔
ہمارا ملک جس نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت کی اور ایک مدت تک اسرائل کو تسلیم تک نہیں کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے سات اکتوبر کے حماس کے حملوں کو دہشت گردی قرار دیکر اسرائل کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسرائلی وزیر اعظم سے بات کی حمایت کا اظہار کیا لیکن فلسطین کا نام تک نہیں لیا۔ بعد میں وزارت خارجہ نے وضاہت کی کہ ہندوستان مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کا پابند ہے اور فلسطین کو لیکر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وزیر ااعظم نے بھی بعد میں فلسطینی صدر سے بات کی اور فلسطین کی مدد جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ یوں حکومت نے توازن قائم رکھنے کو کوشش کی۔ اس دوران ’ گودی میڈیا ‘ کے کردار کا ذکر ہی فضول ہے۔ مضحکہ خیز سرخیوں سے صاف ظاہر کہ مقصد خبروں کی ترسیل نہیںبلکہ کچھ اور ہے ،تیسری عالمی جنگ کی خواہش اور پیشنگوئی، عالم اسلام کی باقی دنیا کے ساتھ جنگ خواہش کا اظہار ہی گودی میڈیا کا ایجنڈا ہے۔فرقہ پرست طاقتیں اس خوفناک صورتِ حال کو بھی اپنا فرقہ وارانہ ایجنڈا آگے بڑھانے میں استعمال کر رہی ہیں۔












