قریش "النکاح من سنتی” گروپ ایک بیداری گروپ ہے جو معاشرے میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے کام کرتا ہے ۔ابھی اس گروپ نے شادی بیاہ میں رائج بری روایتوں کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے ۔جس کے تحت ہفتہ کو ایوان غالب ماتا سندری روڈ پر اس تنظیم نے ایک جلسے کا اہتمام بھی کیا اور عوام کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلی برائیوں کو روکنے کے لئے خود آگے بڑھنا ہوگا ۔اس جلسے میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیا جس میں شادی بیاہ میں رائج بائیس غلط رسموں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کے خاتمے کی کوشش کا عہد ہے ۔
اپیل
1. لڑکی کو دیکھنے اور دکھانے کا طریقہ بدلنا چاہیے۔ بغیر بتائے بھی کسی لڑکی کو کسی شادی بیاہ یا تقریب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔2. نکاح مساجد میں پڑھایا جائے۔
3. کسی بھی پروگرام کا کھانا سادگی سے بٹھا کر کھلایا جائے۔ 4. آتش بازی D.J. بینڈ باجا، ڈانس وغیرہ سے احتراز کیا جائے ۔5. جہیز کا دکھاوا نہ کیا جائے بلکہ بیٹی کا حصہ دینے کا اہتمام کیا جائے ۔یہ اللہ کا حکم ہے ۔6. تمام رسومات کو روک دیا جائے جیسے شادی سے پہلے لین دین کے بڑے نقصانات ہیں ۔لال خط کو واپس اسی سادہ خط تک لایا جائے ۔شادی سے پہلے چوڑی پہنانا بری رسم ہے ۔ہلدی جیسے رسم کو خواتین تک محدود رکھا جائے ۔7۔نکاح میں اپنے پیاروں کے ساتھ سادگی کے ساتھ جا کر نکاح کر کے لائیں 8. اپنی حیثیت کے مطابق ولیمہ کریں ،یہ سنت ہے دکھاوا نہیں ۔9. جہیز مانگنا یا اس کی امید رکھنا اللہ کو ناراض کرتا ہے کیونکہ جو کچھ آپ کی قسمت میں لکھا ہوا ہے۔وہی آپ کو ملیگا ۔ 10. بیٹی اور بیٹے کے ساتھ انصاف کرو، حصہ دیں تاکہ آپ قرض دار نہ رہیں ۔11. بیٹی کی اولاد کی پیدائش پر چھٹی جیسی رسومات کو ختم کریں۔ ہدیہ دیا جائے ۔12. بہن یا پھوپھی کی شادی میں بھات دے کر احسان کر کے انہیں شرمندہ نہ کریں۔13. جھوٹ جیسی رسم جس کا نام ہی رسم جھوٹ ہے، اسے سچ میں تبدیل کریں ۔ 14. دولہے کو سہرہ باندھ کر سہرہ بندھائی لینا لالچ نظر آتا ہے ۔اس رسم کو ختم کر کے بہنوئی کو کبھی بھی تحفہ یا ہدیہ دیا جا سکتا ہے ۔15۔ اگر دینا چاہیں تو غریب رشتہ دار کی ناداری کو دور کرنے یا ان کے علاج و معالجہ میں مدد کر سکتے ہیں ۔ 16. زکوٰۃ کی رقم سے اپنے پڑوسیوں، قریبی دوستوں، غریبوں وغیرہ کی مدد کریں۔ 17. ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ہمیں دینی اور مذہبی تعلیم کا نظم کرنا چاہیے۔
18. اگر ان تمام بیجا رسومات کو ترک کر دیا جائے تو ہمیں اس کا اجر ملے گا۔بیٹیوں کے ساتھ ہمیشہ بیٹوں جیسا رشتہ رکھیں۔19. صحت کے لیے، اپنے اپنے علاقوں میں، جم یا دیسی طریقہ کے کسرت کا انتظام کیا جائے ۔ 20. کاروباری لوگ خلاف قانون کوئی کاروبار نہ کریں چاہے وہ ان کا پشتینی کاروبار ہی کیوں نہ ہو ۔کیونکہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ۔21. اپنے علاقے میں ڈسپنسری اور صحت کی تمام سہولیات کا انتظام کریں جس سے ہماری خواتین کو ڈیلیوری کے وقت بے شرمندگی کا سامنا نہ ہو ۔22۔ موت میں آنے والے رشتہ داروں کو لین دین کرنا گندہ عمل ہے ۔
من جانب سرپرست مولانا خورشید قریشی
قریش النکاح من سنتی گروپ
ہیڈ آفس F-100۔ گراؤنڈ فلور، دلشاد کالونی، دہلی-95 فون: 011-35756656
ReplyForward |












