لکھنؤ ،سماج نیوز سروس: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کی جانب سے گود لیے گئے گاؤں ڈگریا میں قومی خدمت اسکیم (این ایس ایس) کے تحت جاری خصوصی کیمپ کے چوتھے دن ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بیداری اور شجرکاری مہم کے موضوع پر ایک اہم پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ماحولیاتی مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر این ایس ایس کے رضاکاروں نے گاؤں کے باشندوں کے ساتھ مل کر انہیں ماحولیاتی مسائل، ان کے اسباب اور ممکنہ حل سے واقف کرایا اور اس بات پر زور دیا کہ ماحول دوستی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ ایک صحت مند، خوش حال اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔اس موقع پر این ایس ایس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نلنی مشرا نے رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف ایک مہم یا وقتی سرگرمی نہیں بلکہ یہ ہم سب کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی ترقی اور بے تحاشا شہری توسیع نے قدرتی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں فضائی، آبی اور زمینی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں نوجوانوں بالخصوص این ایس ایس کے رضاکاروں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر نلنی مشرا نے کہا کہ درخت لگانا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے رضاکاروں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں، لگائے گئے پودوں کی مناسب نگہداشت کریں اور گاؤں کے لوگوں کو بھی اس جانب راغب کریں، تاکہ ماحول کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے تحفظ، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کر کے بھی ہم ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ این ایس ایس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں سماجی ذمہ داری، خدمتِ خلق اور قومی تعمیر کا جذبہ بیدار کرنا ہے، اور اس طرح کی سرگرمیاں ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔












