تہران، (یو این آئی) ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے۔ مختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ۔سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہسہ امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے پر امن مظاہرین پر تشددکیا تو امریکہ ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔ امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔












