دیوبند، رمضان المبارک کی اہمیت وفضیلت اور اس ماہ میں کی جانے والی خصوصی عبادات کا ذکر کرتے ہوئے مدرسہ تعلیم القرآن قدیم مدرسہ اصغریہ کے مہتمم سید عقیل میاں حسین نے صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کی خاص فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں صلوۃ التسبیح پڑھنے کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ اس نماز میں اللہ کی تسبیح چونکہ کثرت سے پڑھی جاتی ہے اس لئے اس نماز کو صلوٰۃ التسبیح کہتے ہیں ۔ انہوں نے تمام روزہ داروں سے اپیل کی کہ وہ چار رکعت صلوۃ التسبیح کا لازمی طور پر اہتمام کریں کیوں کہ اس نماز سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس نماز کو پڑھنے کی برکت سے پچھلے اور بعد کے گناہ ، نئے اور پرانے دانستہ اور نادانستہ ، کبیرہ ، صغیرہ ، پوشیدہ اور ظاہری سب گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینا ہم گنہ گار اور خطا کار ہیں اس لئے ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ استغفار کے ساتھ جب بھی موقع ملے صلوۃ التسبیح پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ ہمارے گناہ معاف ہوجائیں۔ سید عقیل میاں حسین نے کہا کہ سنن ابوداؤد، ترمذی اور سنن ابن ماجہ کے علاوہ حدیث کی متعدد کتابوں میں مذکور ہے کہ اگر ہر روز صلوٰۃ التسبیح پڑھ سکتے ہوں تو پڑھ لیں ، روزانہ پڑھنا ممکن نہ ہو تو ہر جمعہ کو پڑھ لیں اور ہر جمعہ کو پڑھنا ممکن نہ ہو تو ایک ماہ میں ایک بار ضرور پڑھ لیں ، لیکن اگر ہر ماہ اس کی پابندی نہ کرسکیں تو ایک سال میں ایک مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کریں اور کسی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنی پوری زندگی میں ایک بار صلوۃ التسبیح ضرور پڑھ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ پانچ وقت کی نماز میں جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان المبارک کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں، لغزشوں کے لئے کفارہ ہیں۔ متعدد احادیث میں اذکار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ صلوۃ التسبیح بھی ایک نماز ہے لہٰذا اس کو پڑھنے سے سابقہ گناہوں کی معافی ومغفرت پر کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے ۔ معروف محدث امام بیہقی نے شعب الایمان میں تحریر کیا ہے کہ امام حدیث شیخ عبداللہ بن مبارک صلوٰۃ التسبیح پڑھا کرتے تھے اور سلف صالحین بھی اس کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ اس نماز کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے ، دن یا رات جب چاہے ادا کرسکتے ہیں سوائے ممنوع اوقات کے ۔












