شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی، ایک بار پھر آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک وشنو بھاگوت نے یہ بیان دیا ہے کہ بھارت میں کسی بھی ذات اور مذہب کے لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بار پھر ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے اہم بیاندیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے لیکن وہ اپنی بالادستی کا دعویٰ ترک کر دیں۔بھاگوت نے مزید کہا کہ سیدھی سی بات ہے کہ ہندوستان کو ہندوستان ہی رہنا چاہئے۔ آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے آباؤ اجداد کے دھرم کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
محبت کی یہ زبان بالکل نئی ہے کیونکہ ایک طرف وہ مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اسی بیان میں ان کا یہ فرمان بھی شامل ہے کہ مسلمانوں کو اپنی بالا دستی کا دعوی ترک کر دینا چاہئے ۔یعنی انہیں یہ کہنے کا بھی اختیار نہیں کہ ان کے آباؤاجداد نے ماضی میں اس ملک کی تہذیب و ثقافت کی تعمیر میں کوئی رول ادا کیا ہے ۔یعنی مسلمانوں کو اگر اس ملک میں رہنا ہے تو انہیں یہاں موجود اکثریتی طبقہ کی تاریخ کو ہی اپنی تاریخ ،ان کی ثقافت کو اپنی ثقافت ،ان کے مذہبی ہیرو کو اپنا ہیرو ،اور ان کی مذہبی آستھا سے اپنی عقیدت کا رشتہ استوار کر کے اس پر فخر کرنا چاہیے۔
واضح ہو کہ موہن بھاگوت ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بھارت میں رہنے والا ہر شہری ہندو ہے اور رفتہ رفتہ اس نے اپنے مذاہب اور پنتھ کو تبدیل کیا ہے ۔ایسے میں وہ چاہیں تو اپنے پرانے مذہب میں لوٹ سکتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف خود کو پکا سناتنی کہنے والے کلشریشٹھ اور ان کی سرپرستی میں چلنے والا ایک گروہ مسلمانوں کو اتنا معذور بنا دینا چاہتا ہے کہ وہ تنگ آکر خود ہی اپنا مذہب تبدیل کر لیں۔
سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن جس میں وشنو شنکر جین نے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ 1991 کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ اس اپیل کے مطابق پلیسیز آف ورشپ ایکٹ اس ملک کے آئین کے آرٹیکل 32سے متصادم ہے اور موجود آئین کی خلاف ورزی ہے کہ اس ملک میں ہزاروں سالوں کی بادشاہت میں جتنے بھی سناتنی ہندووں کے منادر توڑ کر (جن کی تعداد لاکھوں میں ہیں) ، اسلامی مساجد یا مزارات و خانقاہیں بنائی ہیں انہیں جیسی ہیں ویسی رہنے دی جائیں ۔
کلشریشٹھ کا صاف کہنا ہے کہ تمام سناتنی ہندووں کو چاہئے کہ وہ بیدار ہوں اور ایسے تمام اسلامی ڈھانچوں کو بابری مسجد کی طرح ایک رات میں مسمار کر دیا جائے۔ کلشریشٹھ اور وشنو شنکر جین کا صاف کہنا ہے کہ جب ورشپ ایکٹ ہی غیر آئینی ہے تو پھر دو یاتین مندر ہی ہمیں کیوں دی جائیں ؟ ہمیں 40ہزار مندر بھی ملنی چاہئے جس کو مغل یا اس کے پہلے کے عہد میں توڑ کر وہاں مسجد یا دیگر مذہبی ڈھانچے کو ہماری سرزمین پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ کلشریشٹھ نے صاف لفظوں میں کہا کہ یہ ہماری انسانیت ہے کہ ہم عدالت جارے ہیں جبکہ یہ کورٹ کا معاملہ ہے ہی نہیں۔ یعنی اب اس ملک میں یہ لوگ ایک نئے قسم کی خانہ جنگی کو اپنے چینل کے ذریعہ دعوت دے رہے ہیں اور عام ہندووں سے اپیل کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں آپ کے آس پاس جتنے بھی مسجد اور مزارات ہیں اگر آپ کو لگے کہ وہ عام سرکاری زمین پر بنے ہیں تو آپ اس کی فوٹو اور جگہ کی تفصیل نوٹ کر کے ہمیں پوسٹ کریں اور کوشش کریں کہ اپنے مقامی عدالت میں اس کے خلاف کیس بھی درج کرائیں ۔
واضح ہو کہ کلشریشٹھ اور وشنو جین ملک میں موجود وقف ایکٹ 95کو بھی آئین مخالف قرار دیتے رہے ہیں اور اس ایکٹ کو کالعدم کرنے کا بھی ایک کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے انتظار میں ہے ۔یعنی وقف کی زمینوں پر بنے مساجد و خانقاہیں بھی ان کی نظر میں سرکاری زمینوں پر ہی بنائے گئے ہیں لہٰذا انہیں بھی مسمار کرنا آئینی ہی ہوگا۔بظاہر یہ دونوں بیانات الگ الگ ہیں ۔لیکن پہلی ہی نظر میں یہ پتہ چلتا ہے کہ دونوں بیانات کا ایک ہی مقصد ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ موہن بھاگوت ایک تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے بول رہے ہیں لہٰذا ان کا بیان سدھا ہوا ہے ۔جبکہ کلشریشٹھ اور ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین اپنا بیان اپنے یو ٹیوب چینل سے نشر کر رہا ہے ۔اس ویڈیو کلپ میں یہ دونوں ان تمام ہندووں کو بھی کھری کھوٹی سناتا ہوا نظر آتا ہے جو ملک کے آئین کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں ۔کل شریشٹھ نے اس ویڈیو میں ہلدوانی معاملے پر بھی زہر اگلا ہے ۔اور وہ وہاں کے تمام باشندوں کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا کہہ رہا ہے ۔ معلوم ہو کہ یہ دونوں بیانات اس وقت آئے ہیں جب سپریم کورٹ میں پلیسیز آف ورشپ ایکٹ کے خلاف دائر پٹیشن پر کارروائی شروع ہو چکی ہے اور فروری سے اس پر باضابطہ مباحثہ شروع ہوگا ۔یہ وہی وقت ہے جب 9 ریاستوں میں اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور پھر اس کے نتائج کے آتے ہی عام انتخاب 2024 کا اعلان ہوجائے گا۔












