آخر کار سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد دہلی میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب پر امن ماحول میں ہو گیا، لیکن اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخاب پر ابھی سوالیہ نشان بر قرارہے۔ یہ بات تو پہلے ہی واضح ہو چکی ہے کہ بی جے پی جو گذشتہ پندرہ برس سے کارپوریشن پر قابض تھی وہ کسی بھی قیمت پر کارپوریشن عام آدمی کے حوالے نہیں کرنا چاہتی۔بی جے پی اب دھیرے دھیرے کھل کر جارحانہ رویہ اختیار کرتی جا رہی ہے خاص طور پر وہاں جہاں لاکھ کوششوں کے باوجود اسے سیاسی کامیابی نہیں مل پا رہی ہے۔دہلی کارپوریشن کا انتخاب اس کی تازہ مثال ہے جس کے نتائج کو عام ہوئے بھی تقریباً ڈھائی ماہ ہو گئے لیکن لاکھ کوششوں کے بعدبڑی مشکل سے کونسلرس کو حلف دلایا جا سکا۔وقفہ وقفہ سے تین بار کی کوشش کے بعد جب معاملہ سپریم کورٹ گیا تب جاکر سپریم کورٹ نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے 24گھنٹے کے اندر نوٹیفکیشن کرانے اور پھر مئیر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخاب کا حکم دیا لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود میئر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب تو ہوگیا لیکن اسٹینڈنگ کمیٹی کا انتخاب ہنگامے کی نذر ہو گیا۔اور اب یہ حالت ہے کہ جس طرح میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب نہ ہونے کا ٹھیکرہ بی جے پی عام آدمی پارٹی کے سر پھوڑ رہی تھی ٹھیک وہی صورت حال اب بی جے پی کا ہے ،اس کے ممبران کیمرے میں پوڈیم اور مائک توڑتے بھی نظر آرہے ہیں اور بیلٹ باکس سمیت بیلٹ پیپر کو پھاڑتے بھی۔اور اس لئے کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کے کونسلرس کو سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخاب کی کوشش پوری رات ہوتی رہی اور ایک اندازے کے مطابق تیرہ بار سے زیادہ سدن کی کارروائی کو معطل کیا گیا لیکن ’آپ‘ کی میئر شیلی اوبرائے اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں اور پھر سدن کی کارروائی کو جمعہ 10بجے تک کےلئے ملتوی کر دیا۔یوں تو’ آپ‘ کو یک گونہ سکون حاصل ہو گیا کہ میئر اور ڈپٹی میئر کی سیٹ پر اس کے نمائندے منتخب ہو گئے لیکن یہ ان کی ادھوری کامیابی ہے کیونکہ جب تک اسٹینڈنگ کمیٹی پر اس کا مکمل قبضہ نہیں ہوتا دہلی کے لوگوں سے کئے گئے اس کے وعدے پورے نہیں ہوںگے۔اروند کجریوال کے لئے میئر کا منتخب ہونا اس لئے بھی بہت اہم نہیں ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن میں اسٹینڈنگ کمیٹی ہی تمام مالیاتی فیصلے کر سکتی ہے اور اس سلسلے میں میئر کی حالت ملک کے صدر کی طرح ہے۔ دراصل اسٹینڈنگ کمیٹی دہلی کارپوریشن کی سب سے طاقتور کمیٹی ہے۔
دہلی کارپوریشن میں میئر اور ڈپٹی میئر کے پاس فیصلے لینے کی قوت کافی کم ہیں۔ تقریباً تمام قسم کے معاشی اور انتظامی فیصلے 18رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی ہی لیتی ہے اور ان کے بعد مئیر کو پاس کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جسے پاس کرنے کو وہ مجبور ہوتا ہے۔ اس لئے اسٹینڈنگ کمیٹی کافی پاور فل ہو جاتا ہے اور اس کا چیئر مین ایک قسم سے ایم سی ڈی کا اصلی سیاسی ہیڈ ہوتا ہے۔
دہلی کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے 18 اراکین کا انتخاب دو طریقے سے ہوتا ہے۔ پہلے6 کا انتخاب سدن میں کیا جاتا ہے۔یہ ووٹنگ سیکریٹ ہوتا ہے،یہ انتخاب ریاستی اسمبلی کی طرح پریفرینس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یعنی سبھی کونسلر اپنے پسندیدہ نمبر پر پریفرنس کے طور پر نمبر دیتے ہیں۔ اگر پہلے پریفرنس کی بنیاد پر انتخاب نہیں ہوتا ہے تو پھر دوسرے اور پھر تیسرے پریفرنس کی کاؤ نٹنگ کی جاتی ہے نظام کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جو اچھا خاصا پیچیدہ ریاضی کا فارمولہ ہے۔
عام آدمی پارٹی نے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب تو آسانی سے جیت لیا، لیکن 6 وارڈمیں اپنے 4 امیدواروں کو جتانے میں اسے مشکل پیش آرہی ہے۔ایک تو ان کے پاس ان چاروارڈوں کو جیتنے کے لیے سب سے پہلے پرنس ووٹ ضرورت سے کافی کم ہے۔ دوسری پریشانی یہ ہے کہ ڈپٹی میئر کے انتخاب میں عام آدمی پارٹی کے کچھ کونسلروں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ کئے ہیں جس سے حساب کافی الجھ گیا ہے۔ کل 18 نشستوں کی اسٹینڈنگ کمیٹی میںچھ کے علاوہ 12کو 12 الگ الگ زون سے منتخب کیا جاتاہے۔ زون کی ووٹنگ میں ایلڈرمین بھی ووٹ دیتے ہیں جن کو گورنر نامزد کر چکے ہیں اور وہ بھی صرف تین زون سے۔ اور اس طرح بی جے پی کو سات ممبران آسانی سے مل گئے ہیں اور اگر اب بی جے پی ہاؤس سے اسٹینڈنگ کمیٹی کی 3 سیٹیں جیت لیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی 7 ممبران الگ الگ زون سے چن کر آجاتے ہیں تو بی جے پی کے پاس اسٹینڈنگ کمیٹی میں 18 میں سے 10 ممبران ہو جاتے ہیں، اور پھر عام آدمی پارٹی اپنے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے ہونے کے باوجود اپنا پراجیکٹ پاس نہیں کروا پائےگی،اور دونوں پارٹیوں کے درمیان جھگڑا مستقل ہوتا رہے گا۔












