نئی دہلی، :123 وقف جائیدادوں کے معاملے پر آج دہلی ہائی کورٹ نے سنوائی کرتے ہوئے دہلی وقف بورڈ سے کہا ہے کہ ان جائیدادوںکو واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کےلئے ایک الگ سے پٹیشن دائر کی جائے۔ جسٹس منوج کمار اوہری کی بینچ نے وقف بورڈ کی ان پراپرٹیز کی پھر سے جانچ کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی زیر التوا پٹیشن میں بورڈ کے ذریعہ داخل کی گئی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔حالانکہ عدالت نے اس درخواست پر کسی بھی طرح کی راحت دینے سے انکار کردیا ہے۔ وزارت شہری شہری ترقیات کے ایل این ڈی او نے حال ہی میں دوممبران پر مشتمل کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ کی مساجد درگاہ اور قبرستان سمیت 123جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔سنوائی کے دوران بورڈ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل راہل مہرا نے کہا کہ بورڈ کوان پراپرٹیز سے آزاد کرنے کےلئے مرکزی حکومت کے پاس کوئی پاور نہیں ہے انہوںنے مزید کہا کہ ان پراپرٹیز کو سال 1970,74,76اور 1984میں کئے گئے چار سروے کی بنیادپر صاف طو رسے نشاندیہی کی گئی تھی اور بعدمیں صدرجمہوریہ کے ذریعہ یہ تسلیم کیاگیاتھا کہ یہ جائیداد وقف بورڈ کی تھیں ۔ راہل مہرا نے کہا کہ قانونی منصوبے کے تحت پراپرٹیز کو وقف بورڈ سے بیدخل کرنے کی مرکزی اور ریاستی حکومت کی کوئی سوچ نہیں ہے جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹرجنرل چیتن شرما نے بورڈ کی درخواست کی مخالفت کی۔ اور کہا کہ پہلے سے داخل کی گئی پٹیشن سنوائی کے دائرے سے باہر ہے جس پر راہل مہرا نے عدالت سے ایک نئی اپیل دائر کرنے تک اسٹے دینے کی اپیل کی۔ حالانکہ بینچ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپیل داخل کرنے سے کون روکتا ہے۔ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے دعوی کیا ہے کہ وزارت نے پہلے ایک ممبر پر مشتمل کمیٹی بعد میں دوممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی لیکن ان کمیٹیوں کی رپورٹ وقف بورڈ کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی انہوںنے کہا کہ مسجدوں درگاہوں اور قبرستان سمیت 123پراپرٹی کا استعمال مسلم طبقہ کررہا ہے اور انہیں مرکزی حکومت کے ذریعہ قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے مزید کہا کہ مرکز کے 8فروری کو جاری کئے گئے نوٹس کو چیلنج دینے کےلئے وقف بورڈ ایک نئی اپیل دائر کرے اس حکم کے ساتھ عدالت نے معاملے کو 4اگست تک کےلئے لسٹیڈ کردیا ہے۔












