ڈھاکہ، (یو این آئی)بنگلہ دیش کے بلے باز نجم الحسن شانتو نے کہا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس سے پہلے اور ان کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات سے نمٹنے کے لیے اکثر کھلاڑیوں کو ایک طرح کی اداکاری” کرنی پڑتی ہے، جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہو۔جب شانتو سے ہندوستان اور سری لنکا میں فروری-مارچ میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شرکت سے متعلق جاری تنازع پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ "ہم کسی بھی ورلڈ کپ میں اچھا نتیجہ حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ پچھلی بار (ٹی20 ورلڈ کپ 2024 میں) ہمارے پاس اچھا موقع تھا، لیکن ہم اس کا استعمال نہیں سکے۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ ہر ورلڈ کپ سے پہلے کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے۔”انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی کے طور پر اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے، لیکن ہم ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے یہ سب چیزیں ہمیں متاثر نہیں کر رہیں، کیونکہ ہم پیشہ ور کرکٹر ہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ یہ آسان نہیں ہے۔ بہتر ہوتا کہ ایسی چیزیں نہ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ کھلاڑی پھر بھی کوشش کرتے ہیں کہ سب باتوں کو ایک طرف رکھ کر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔”شانتو نے مزید کہا کہ میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ چیزیں ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ آخرکار ہم جہاں بھی ورلڈ کپ کھیلیں، مجھے لگتا ہے کہ کھلاڑیوں کو ایسا دکھانا ہوگا جیسے انہیں کوئی بات بھی پریشان نہیں کر رہی اور وہ ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔”ٹی20 ورلڈ کپ کی پہلی گیند پھینکے جانے میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، لیکن بنگلہ دیش کی شرکت پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔اس تنازع اس وقت ہوا ملی جب بی سی سی آئی نے کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) سے مصطفیٰ ظہور رحمان کو آئی پی ایل 2026 کی ٹیم سے ہٹانے کے لئے کہا۔ بی سی سی آئی نے واضح طور پر سکیورٹی وجوہات کا ذکر نہیں کیا، لیکن ملک کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان سیاسی تناؤ کے دوران مصطفیٰ ظہور کو خریدنے پر کے کے آر کے مالک شاہ رخ خان پر تنقید کی تھی۔بنگلہ دیشی حکومت نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی لگا دی، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو اطلاع دی ہے کہ ٹیم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہندوستان کا دورہ نہیں کرے گی اور اپنے ورلڈ کپ میچ سری لنکا میں کھیلنا چاہے گی۔












