دوبئی، 17جنوری، سماج نیوز سروس: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کیساتھ رہنا چاہتا ہے ،جنگوں سے کچھ حاصل نہیں ،ان سے غربت اور بے روزگاری ہی آتی ہے ،ہم نے اپنا سبق سیکھ لیا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ’’کشمیر جیسے سلگتے ہوئے مسائل‘‘ پر’’سنجیدہ اور مخلصانہ بات چیت‘‘ پر بھی زور دیا۔دبئی میں قائم العربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تین جنگوں کے بعد اپنا سبق سیکھا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اب وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ امن چاہتا ہے۔’’میرا ہندوستانی قیادت اور وزیر اعظم مودی کو پیغام ہے کہ آئیے میز پر بیٹھیں اور کشمیر جیسے سلگتے ہوئے نکات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ بات چیت کریں۔انہوںنے
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد سے دونوں فریقین کے تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات کرنے کیلئے انہیں ایک میز پر لانے کی استدعا کی ۔اس کے علاوہ شریف نے ’’کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘‘، اور ہندوستان کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا بھی ذکر کیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم امن سے رہیں اور ترقی کریں یا آپس میں جھگڑا کریں اور وقت اور وسائل ضائع کریں۔انہوںنے کہا کہ ’’ہماری بھارت کے ساتھ تین جنگیں ہو چکی ہیں، اور وہ صرف لوگوں کے لیے مزید مصائب، غربت اور بے روزگاری لے کر آئی ہیں‘‘۔’’ ہم نے اپنا سبق سیکھ لیا ہے، اور ہم بھارت کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، بشرطیکہ ہم اپنے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوں۔‘‘ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا’’ہندوستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہم پڑوسی ہیں۔ آئیے بہت دو ٹوک رہیں، چاہے ہم اپنی پسند کے پڑوسی نہ ہوں، ہم ہمیشہ کے لیے وہاں ہیں اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم امن سے رہیں اور ترقی کریں یا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کریں اور وقت اور وسائل کو ضائع کریں۔ یہ ہم پر منحصر ہے۔شریف نے کشمیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ ’’پاکستان امن چاہتا ہے لیکن کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکنا چاہیے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں انجینئرز، ڈاکٹرز اور ہنر مند مزدور موجود ہیں۔ شریف نے کہا کہ ہم ان اثاثوں کو خوشحالی اور خطے میں امن کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں قومیں ترقی کر سکیں۔پاکستان بموں اور گولہ بارود پر وسائل ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ انہوںنے کہا کہ ’’ ہم ایٹمی طاقت ہیں، مکمل طور سے اسلحوں سے لیس ہیں، اور اگر خدا نہ کرے، جنگ چھڑ جائے تو کون زندہ رہے گا کہ وہ بتاسکے کہ کیا ہوا؟‘‘ انٹرویو کے حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ ’’وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلسل اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے دوطرفہ مسائل خصوصاً جموں و کشمیر کا بنیادی مسئلہ بات چیت اور پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔تاہم، وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب بھارت 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اقدام کو واپس لے ۔ بھارت کے اس اقدام کو منسوخ کیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران العربیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ موقف بالکل واضح کیا۔












