• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 28, 2026
0 0
A A
ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے
Share on FacebookShare on Twitter
یہ جملہ کسی ادبی نشست میں کہا گیا کوئی علامتی فقرہ نہیں، نہ کسی فلسفی کی تحریر کا اقتباس ہے۔ یہ ایک فلسطینی بچے کی زبان سے نکلا ہوا وہ سچ ہے جس نے پوری دنیا کے جھوٹے ضمیروں کو ننگا کر دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو میں جب اس بچے سے سوال کیا گیا کہ ’’تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘ تو اس نے ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا کسی روشن مستقبل کا خواب بیان نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی حقیقت کہہ دی جس نے انسانیت کے تمام دعوؤں کو زمین بوس کر دیا: ’’ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، ہم کسی بھی لمحے گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں‘‘۔
یہ جواب دراصل ایک بچے کا نہیں، ایک پوری نسل کا نوحہ ہے۔ یہ اس قوم کے بچوں کی اجتماعی آواز ہے جن کے لیے بچپن تحفظ کا نام نہیں بلکہ خطرے کی ایک طویل زنجیر ہے۔ دنیا کے بچے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، فلسطین کے بچے اگلے لمحے کی زندگی کی دعا مانگتے ہیں۔ دنیا کے بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں، فلسطین کے بچے ملبے میں دبے اپنے بہن بھائیوں کو تلاش کرتے ہیں۔ دنیا کے بچے کہانیوں میں شہزادے بنتے ہیں، فلسطینی بچے خبروں میں شہید بن جاتے ہیں۔ غزہ کے بچے اس دنیا کے شاید واحد بچے ہیں جو پیدا ہوتے ہی موت سے آنکھ مچولی کھیلنا سیکھ لیتے ہیں۔ ان کی ماؤں کی لوریوں میں نیند نہیں، خدشات ہوتے ہیں۔ ان کے باپوں کی دعاؤں میں ترقی نہیں، بقا کی التجا ہوتی ہے۔ ان کے اسکول محفوظ عمارتیں نہیں بلکہ ممکنہ قبرستان ہوتے ہیں۔ ان کے بستوں میں کتابوں کے ساتھ یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ ’’کیا آج واپس آ سکیں گے؟‘‘
یہ بچے بہت جلد سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں بڑے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہاں بڑا ہونا دراصل مرنے کے قریب ہونا ہے۔ یہاں جوانی خوابوں کی تعبیر نہیں بلکہ جنازوں کی قطار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک فلسطینی بچہ کہتا ہے: ہم بڑے نہیں ہوتے کیونکہ بڑے ہونے سے پہلے ہی ہمیں مٹا دیا جاتا ہے۔ فلسطینی بچوں کی شہادت کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک منظم ظلم کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ قتل ہیں جو ’’دفاع‘‘ کے نام پر کیے جاتے ہیں، وہ بم ہیں جو ’’سیکورٹی‘‘ کے نام پر گرائے جاتے ہیں، وہ لاشیں ہیں جنہیں ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کہہ کر فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ دنیا نے ظلم کے لیے نئی زبان ایجاد کر لی ہے تاکہ قاتل کو شرمندگی نہ ہو اور مقتول کی چیخ دب جائے۔
اقوامِ متحدہ ہر سال بچوں کے حقوق کا دن مناتی ہے، قراردادیں منظور ہوتی ہیں، رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں، مگر جب غزہ کے بچے مارے جاتے ہیں تو یہی ادارے محض ’’تشویش‘‘ کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اعداد و شمار جمع کرتی ہیں، مگر قاتل کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں کرتیں۔ عالمی میڈیا چند دن تصاویر دکھاتا ہے، پھر اگلی خبر پر چلا جاتا ہے۔ یوں فلسطینی بچوں کی لاشیں خبروں کی بھیڑ میں گم ہو جاتی ہیں۔ اصل سانحہ یہ نہیں کہ فلسطینی بچے مارے جا رہے ہیں، اصل سانحہ یہ ہے کہ ان کا قتل معمول بنا دیا گیا ہے۔ دنیا نے اس ظلم کو قبول کر لیا ہے۔ اسکرینوں پر بچوں کی لاشیں اب چونکاتی نہیں، دل نہیں ہلاتیں، جیسے یہ سب ’’نارمل‘‘ ہو چکا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت دم توڑتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں بچوں کا قتل فرعونیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروایا تاکہ اقتدار محفوظ رہے۔ آج وہی فرعونیت جدید ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور جدید بیانیے کے ساتھ فلسطین میں دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج فرعون کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی کھڑی ہیں، اور موسیٰؑ کی ماں کی طرح بچے کو دریا میں چھپانے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی کیونکہ پورا فلسطین ہی آگ میں گھرا ہوا ہے۔ غزہ کے بچے صرف بموں سے نہیں مرتے، وہ خوف، بھوک، محاصرے اور عالمی بے حسی سے بھی مارے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک مسلسل انتظار ہے۔ اگلے دھماکے کا، اگلی لاش کا، اگلی تباہی کا۔ یہ بچے کھیل کے دوران بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ موت زمین سے نہیں، فضا سے اترتی ہے۔
فلسطینی ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ صرف زندگی کو خوش آمدید نہیں کہتی، بلکہ شہادت کے امکان کو بھی قبول کرتی ہے۔ اس کی دعاؤں میں لمبی عمر کی خواہش کم اور ثابت قدمی کی التجا زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو یہ نہیں سکھاتی کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ اگر وقت آ جائے تو کیسے ڈٹ جانا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں بچوں کی شہادت پر تعزیت کے بجائے جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں عمارت کے نیچے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ تھا، اس لیے پورا خاندان مٹا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ غزہ میں بچوں کے لیے محفوظ جگہ آخر کہاں ہے؟ فلسطینی بچوں کی قبریں خاموش نہیں ہوتیں، وہ سوال کرتی ہیں۔ وہ عالمی طاقتوں سے پوچھتی ہیں کہ تمہاری جمہوریت کہاں گئی؟ تمہارے انسانی حقوق کہاں دفن ہو گئے؟ وہ مسلم دنیا سے بھی سوال کرتی ہیں کہ تمہاری تعداد کا فائدہ کیا، اگر تم ایک بچے کے جنازے پر بھی متحد نہیں ہو سکتے؟ یہ المیہ صرف فلسطین کا نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کے زوال کا آئینہ ہے۔ وہ امت جس کے نبیؐ نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، آج اس جسم کا ایک حصہ کٹ رہا ہے اور باقی حصے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے بچوں کی حفاظت کھو دی، انہوں نے اپنا مستقبل بھی کھو دیا۔ فلسطین میں مستقبل کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکولوں پر بم، اسپتالوں پر حملے، پناہ گاہوں کی تباہی یہ سب محض عسکری کارروائیاں نہیں، یہ نسل کشی کی واضح علامات ہیں۔
’’ہم فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے‘‘ یہ جملہ ہماری تہذیب، ہماری سیاست، ہماری اخلاقیات اور ہماری خاموشی کا محاسبہ ہے۔ یہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی انسان ہیں؟ یا صرف مفادات کے اسیر؟ اگر آج بھی دنیا نے فلسطینی بچوں کے خون کو نظرانداز کیا، تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب بچوں کو مارا جا رہا تھا تو تم کہاں تھے؟ تم نے کیا کہا؟ تم نے کیا کیا؟
یہ کالم محض آنسوؤں کے لیے نہیں، احتساب کے لیے ہے۔ فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، مگر وہ تاریخ سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے خون سے وہ سوال لکھ جاتے ہیں جس کا جواب کبھی مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ یاد رکھنا چاہیے: فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، لیکن وہ ہماری انسانیت کا فیصلہ ضرور کر جاتے ہیں۔ جب ہم فلسطین کی دہلیز پر موجود اس المیے پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر وہ شخص جو اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، وہ درحقیقت ظالم کا ساتھی بن جاتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں جب انہیں فلسطینی بچوں پر لاگو ہونا ہوتا ہے۔ ہمارے زمانے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم معلومات کے دور میں جی رہے ہیں مگر حساسیت کے بحران کا شکار ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بچوں کے اعضاء بکھر رہے ہیں اور ہم اپنی روزمرہ مصروفیات میں ملوث ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا پر فلسطین کے حوالے سے پوسٹیں اور اسٹوریز ضرور وائرل ہوتی ہیں مگر کیا یہ سب ہماری ذمے داری سے فرار کا راستہ نہیں بن گیا ہے؟ کیا ہم محض ایک ’’لائک‘‘ یا ’’شیئر‘‘ کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا؟
فلسطینی بچوں کا مسئلہ محض ایک انسانی مسئلہ ہی نہیں، یہ ہماری مشترکہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ان بچوں کی معصوم آنکھوں میں ہماری اپنی اولاد کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کے خوف میں ہماری اپنی بے بسی کی کہانی پنہاں ہے۔ اگر آج ہم ان کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تو کل ہماری اپنی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ تم نے خاموشی کیوں اختیار کی؟ اس تناظر میں ہمیں اپنے رویوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہماری دعائیں صرف زبانی جمع خرچ ہیں یا ہم ان کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی طاقت کے مطابق ان کی مدد کے لیے کوئی راستہ تلاش کیا ہے؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو مظلوم کی آواز بنے، نہ کہ خاموش تماشائی بن کر رہ گئے۔ فلسطینی بچے ہمارے زمانے کے سب سے بڑے انسانی المیے کا نشان ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ظلم کبھی دور دراز کا واقعہ نہیں ہوتا، وہ ہماری دہلیز پر دستک دے سکتا ہے۔ آج اگر ہم فلسطین میں ہونے والے مظالم کے خلاف نہیں اٹھیں گے تو کل یہی ظلم کسی اور شکل میں ہمارے سامنے آ سکتا ہے۔
آئیے، ہم عہد کریں کہ فلسطینی بچوں کی آواز بنیں گے۔ ہم صرف آنسو بہانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن طریقے سے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہم اپنی طاقت کے مطابق ان کی مدد کریں گے اور دنیا کے ہر فورم پر ان کی بات پہنچائیں گے۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی انسانیت کو بچا سکتے ہیں۔ یہ کالم ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فلسطینی بچے بڑے نہیں ہوتے، مگر وہ ہماری انسانیت کے پیمانے ہیں۔ ان کی زندگیاں ہمارے ضمیر کا امتحان ہیں۔ آئیے، ہم اس امتحان میں پاس ہونے کی کوشش کریں اور ان معصوم روحوں کے ساتھ کھڑے ہو کر دکھائیں۔
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist