تہران، (یو این آئی) ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دیاکہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے اور وہ کسی صورت معاہدے سے الگ نہیں ہوگا۔اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے نام لیے بغیر امریکہ کو خبردار کیاکہ وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، انہوں نے ساتھ ہی واضح کیاکہ ایران کا اتحادی لبنان سمیت تمام مزاحمتی محاذ جنگ بندی کا کبھی علیحدہ نہ ہونے والا حصہ ہے اور یہی 10 نکاتی تجویز کا پہلا نکتہ ہے۔ڈاکٹر باقر قالیباف نےکہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف لبنان کے مسئلہ پر عوامی سطح پر اور واضح طور پر زور دے چکے ہیں، اس معاملے سے انکار یا پیچھے ہٹنےکی کوئی جگہ ہی نہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نےکہاکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت ہوگی اور سخت ردعمل آئے گا۔انہوں نے کہا کہ آگ کو فوری طور بجھایا جائے۔یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنان ایران جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور وہ ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز کو بھی مسترد کرچکے ہیں اور نئی 10 نکاتی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے تاہم امریکا نے نئی تجاویز کی وضاحت نہیں کی۔تہران، 10 اپریل (یو این آئی) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، ایران لبنان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ یہ دھوکہ دہی اور ممکنہ معاہدوں سے وابستگی کی کمی کی خطرناک علامت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنادیں گے، اس صورتحال میں ایران لبنانی عوام کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑے گا۔رپورٹس کے مطابق ترک صدر اردوان کی بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، اس موقع پر ترک صدر نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کو پائیدار امن کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو دیرپا امن کے حصول کے لیے انتہائی حد تک استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔












