ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے زور دیا ہے کہ تہران جنگ شروع نہیں کرے گا اور مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے لیکن اس بار واضح ضمانتوں کا حصول ضروری ہے۔ انہوں نے ایک حکومتی اجلاس کے دوران کہا کہ ہم مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن ہمیں ضمانتیں چاہیے کہ مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو اس کا خاتمہ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ اس سے ان کا اشارہ واشنگٹن کی جانب تھا جو ایران کے خلاف فوجی حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔یہ ایرانی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے پاس جوہری معاہدہ کرنے کا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام آپشنز میز پر ہیں اور ہم ان کے لیے تیار ہیں۔ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزارت دفاع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو گی۔دریں اثنا مغربی ذرائع نے "رائٹرز” کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں تشدد کے ذمہ داروں اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور ان کے معاونین ایسے حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے دیرپا اثرات مرتب ہوں۔ ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان حملوں کا ہدف ایرانی بیلسٹک میزائل اور ایران کے جوہری پروگرام ہو سکتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ نئے مظاہروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایران پر بمباری پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس ہفتے مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہام لنکن” کی قیادت میں ایک بحری فورس کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔












