کلکتہ (یواین آئی)ضمنی انتخاب میں کامیاب دو ممبران اسمبلی کی حلف برداری کو لے کر جاری تنازع کے درمیان وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اس بیان پر کہ خواتین راج بھون جانا نہیں چاہتی ہیں کیوں کہ وہ خود کو وہاں محفوظ تصور نہیں کرتی ہیں ’’،کے بعد راج بھون اور حکومت کے درمیان تنازع میں مزید شدت آگئی ہے ۔خیال رہے کہ لوک سبھا انتخاب کی مہم کے دوران راج بھون میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والی ایک خاتون نے پولس میں شکایت کی تھی کہ راج بھون میں گورنر نے ان کے ساتھ جنسی چھیڑ خوانی کی تھی۔اس کے علاوہ ایک خاتون نے دہلی کے ایک ہوٹل میں گورنر کے ذریعہ زیادتی کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا اس کے بعد سے ہی گورنر اور حکومت کے درمیان تعطل جاری ہے ۔ترنمول کانگریس کے دو نومنتخب ممبران اسمبلی رایت حسین سرکار اور سیانتکا بندوپادھیائے کی حلف برداری کو لے کر کئی دنوں سے تنازع چل رہا ہے ۔ اسمبلی کے اسپیکر بیمان بنرجی نے صدر دروپدی مرمو کو بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے خط لکھا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو اس تنازع پر پہلی مرتبہ تبصرہ کیا۔انہوں نے کہا،کہ ‘میری پارٹی کے نومنتخب ممبران اسمبلی ایک ماہ سے بیٹھے ہیں۔ لوگوں نے منتخب کیاہے ۔دونوں ممبران اسمبلی نے ممبرا سمبلیکی حیثیت سے حلف لینے راج بھون جانے سے انکار کردیا۔ لڑکیوں نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ وہ راج بھون جانے سے ڈرتی ہیں، خوف کے اس ماحول میں راج بھون کیوں جائے گا؟۔اگر وہ اسمبلی نہیں آسکتے ہیں تو اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو حلف لینے کیلئے نامزد کریں۔ اگر نہیں تو اسمبلی میں جائیں گے ۔ اگر ضروری ہو تو فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر گورنر حلف لے سکتے ہیں۔راج بھون کے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کے تبصروں کی مذمت کی گئی ہے ۔ راج بھون کے کارکنوں کو جاری کردہ بیان کے مطابق 21 جون کو ترنمول کے دونوں نو منتخب امیدواروں کو بتایا گیاتھا کہ 26 جون کو راج بھون میں دوپہر 12.30بجے حلف برداری کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد سیانتکا نے 24 جون کو گورنر سے کہا کہ وہ اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے حلف لینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں حلف برداری کو یقینی بنانے کی بھی درخواست کی۔ اس کے بعد سیانتکا کو 25 جون کو راج بھون نے بتایا کہ آئینی اصولوں اور ضابطوں کے مطابق گورنر کے سامنے حلف لینا ضروری ہے ۔ اسی دن، سیانتکا نے دوبارہ گورنر سے فیصلہ بدلنے کی درخواست کی۔ خط میں آرٹیکل 188 کا حوالہ دیتے ہوئے وہ اسمبلی میں تقریب حلف برداری منعقد کرنے کی درخواست کی گئی۔ اس کے بعد 26 جون کو راج بھون میں حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ گورنر انتظار کرتے ر ہے ۔مگر کوئی حلف لینے کیلئے نہیں آیا۔اس کے بعد گورنر دہلی کے دورے پر روانہ ہوگئے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نو منتخب ممبران کی درخواست کے بعد، ان کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے حلف برداری کی تقریب کو تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔اس درمیان وزیر اعلیٰ نے اس طرح کا بیان دے کر تعطل کو مزید گہرادیاہے ۔4 جون کو لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج بھی سامنے آئے ۔ سیانتکا کو برہانگر اور رایت حسین بھگوان گولا سے منتخب ہوئے تھے ۔ اس کے بعد حلف کو لے کر تنازع جاری ہے ۔ حلف برداری کی تقریب میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سیانتکا اور رایت حسین جمعرات کو امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے کئی گھنٹے تک اجتجاج کرتے رہے ۔سیانتیکا بنرجی نے کہاکہ پارٹی لیڈر کا فیصلہ آخری ہے ۔ ہم راج بھون نہیں جائیں گے ۔ دو مقامات پر ضمنی انتخابات ہوئے ۔ لیکن راج بھون سے مجھے صرف ای میلز آئے ۔ مجھے وہاں اکیلے کیوں بلایا جارہا ہے ؟ میں محفوظ محسوس نہیں کر رہی تھی۔ میں نے سنا ہے کہ راج بھون میں کئی واقعات ہوئے ہیں۔بی جے پی کے ریاستی صدر سکانتا مجمدار نے تاہم جمعرات کو سیانتیکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیاکہ صرف انہیں حلف کیلئے بلایا گیا ہے ۔انہوں نے رایت حسین کو بھیجے گئے حلف کے دعوت نامہ کی کاپی پوسٹ کرتے ہوئے لکھاکہ‘راج بھون نہیں جا نا چاہتے ہیں یہ الگ بات ہے مگر جھوٹ بولنے سے ڈرو۔ عزت مآب گورنر نے نہ صرف آپ کو مدعو کیا ہے ۔ عوام کا نمائندہ آئینی سربراہ کے بارے میں جھوٹ بولنے سے گریز کریں۔ ریت حسین سرکار کو بھی دعوت نامہ موصول ہوا۔ خط کو دیکھو۔ اگر تھوڑی سی بھی شرم کرو۔












