دمشق :جرمنی، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اسلام پسند گروہ ھیئۃ التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے نمائندوں کے ساتھ دمشق میں بات چیت کر رہے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمنی کی وزارت خارجہ نے منگل کو تصدیق کی کہ اس کے سفارت کار ایچ ٹی ایس کی طرف سے مقرر کردہ عبوری حکومت کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے، اور امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے شام کی نئی قیادت کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوششوں میں شامل ہوں گے۔وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق جرمنی کی بات چیت شام کے عبوری عمل اور اقلیتوں کے تحفظ پر مرکوز ہوں گی۔تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ھیئۃ التحریر الشام کے القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہونے کی وجہ سے جرمنی مسلسل اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
فرانس نے بھی شام میں اپنی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ شام کے لیے فرانس کے خصوصی ایلچی ژاں فرانکوئس گیلوم نے کہا کہ ان کا ملک عبوری دور میں شامیوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے۔ژاں فرانکوئس گیلوم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فرانس اس انتقال اقتدار کے دوران جو ہمیں امید ہے کہ پرامن ہو گا، شامیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔‘اس تنازع کے خاتمے نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی پالیسیوں پر بحث کو دوبارہ شروع کر دیا ہے، خاص طور پر جب کہ اس ملک نے شام کی خانہ جنگی کے دوران تقریباً 10 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی تھی۔ ابھی کے لیے، شامیوں کے لیے سیاسی پناہ کے طریقہ کار کو ان کے آبائی وطن میں حالات کا از سر نو جائزہ لینے تک کے لیے روک دیا گیا ہے۔
جرمنی فرانس، امریکہ، برطانیہ اور عرب ریاستوں سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کر رہا ہے، کیونکہ شام ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔اطالوی وزیراعظم نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اچھی خبر قرار دیا اور شام کی نئی قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نے بھی دمشق میں شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ھیئۃ التحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی سے بھی ملاقات کی، جو اب اپنا اصلی نام احمد الشرع استعمال کرتے ہیں۔
فرانس شام کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے 12 سال بعد پہلی بار منگل کو اپنے چار سفارت کاروں کو دمشق بھیجے گا۔قائم مقام فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ کے مطابق، سفارت کاروں کا ہدف "شام میں فرانس کے اثر و رسوخ کو بحال کرنا، نئے حکام کے ساتھ ابتدائی رابطے قائم کرنا اور آبادی کی انسانی ضروریات کا جائزہ لینا ہو گا۔”
فرانس کا شام کے ساتھ 2012 میں سفارتی تعلقات منقطع ہو گیا تھا۔ مسٹر بیروٹ نے کہا کہ شام میں کئی سو فرانسیسی شہری موجود ہیں اور پیرس بیروت میں رومانیہ کے سفارت خانے اور اس کے سفارتی مشن کے ذریعے شام میں حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔مسٹر بیروٹ نے کہا کہ فرانس پہلے ہی شام میں حزب اختلاف کے اقتدار پر قبضے کا خیر مقدم کر چکا ہے۔ انہوں نے شام میں نئے حکام کو "حوصلہ افزا اور ذلت آمیز” قرار دیا، جبکہ اس سے قبل کہا تھا کہ فرانس عارضی سیاسی” کے عمل میں شامی اپوزیشن کی حمایت اسی صورت میں کرے گا جب وہ شامی معاشرے کے تمام نمائندوں کے مفادات کو مدنظر رکھے۔”












