آئے دن جمہوری اقدار کے پرخچے اڑانے والی دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کو ان دنوں پتنگے لگے ہوئے ہیں۔اور جیسا کہ روایت ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی سپہ سالار زبانی تلوار بازی کرنے میدان میں اتارا جاتا ہے جو بات کا بتنگڑ بنا کر یہ باور کراتا ہے کہ اس ملک پر ماضی میں حکومت کرنے والی پارٹیاں ملک دشمنی میں ملوث رہی ہیں اور بی جے پی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو ملک کو دنیا کے نقشہ پر پہچان دلا سکتی ہے۔راہل گاندھی کو ملک کی سالمیت کے لئے ایک خطرہ بتانے والے بی جے پی لیڈر کرن رجیجو اس کی تازہ مثال ہیں۔
بی جے پی کی یہ مجبوری بھی ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح نان ایشو کو ایشو بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ملک میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کلین سویپ کی توقع کو زبردست دھچکا لگا ہے ساتھ ہی ضمنی انتخابات میں بھی اسے مختلف ریاستوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اور اسی درمیان بھارت جوڑو یاترا سے کانگریس کےلئے ملک کے شہریوں کی ہمدردی بڑھتی جارہی ہے اور اس کا ثبوت بھی ملنا شروع ہو گیا ہے۔ موجودہ کانگریس پارٹی پر براہ راست حملہ سے بھی بی جے پی ہچکچا رہی ہے کیونکہ کانگریس صدر کی حیثیت سے کھڑگے کھڑے ہیں جو ایک دلت چہرہ ہیں اور ان پر کیا جانے والا حملہ ملک کے دلتوں کی بد زنی کا باعث بھی ہو سکتاہے ایسے میں لے دے کر راہل گاندھی ہی بچتے ہیں جن کے خلاف زہر اگلا جا سکتا ہے۔راہل گاندھی اس لئے بھی بی جے پی کے نشانے پر ہیں کہ انہوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار کھل کر آر ایس پر براہ راست بیان دینا شروع کر دیا ہے۔راہل گاندھی نے یہ دیکھ لیا ہے کہ ملک میں نفرت کی کاشت کون کر رہا ہے، لہٰذا ادھر ادھر نشانہ بازی کرنے اور اشارے کنائے میں بات کرنے کے بجائے انہوں نے ہندوتوا کے بنیادی فلسفہ کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔راہل گاندھی کو یہ کام اس لئے بھی کرنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ سافٹ ہندوتوا اور ہارڈ کور ہندوتوا جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی ،اگر کچھ ہوتی ہے تو وہ سناتنی پرمپرا ہے جس کو ملک کے اکثریتی ہندو مانتے ہیں اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی آئین ہند کی تشکیل کی گئی تھی۔لیکن اس آئین کے سب سے بڑے ناقدوں نے ہی آج مذہبی منافرت کے زینے سے بھارت کی اس عظیم روایت کے شامیانے میں اتنے سوراخ کر دئے ہیں کہ آج ملک کے لوگوں کو نفرت کی آندھی سے کہیں پناہ نہیں مل رہا ہے۔یقینا اس سچائی کا اعتراف کرنے والے ملک میں کروڑوں ہیں لیکن آگے بڑھ کر اس ماحول کو ختم کرنے کےلئے کوئی تیار نہیں۔
راہل گاندھی نے سر سے کفن باندھ کر اس جھوٹے ہندوتوا کو چیلنج کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ نہ صرف ہندوتوا کے نشانے پر ہیں بلکہ نام نہاد سوشلسٹ بھی ان سے خائف ہیں کیونکہ سب کو اپنا ووٹ کھسکتا نظر آ رہا ہے اور کوئی بھی پارٹی اپنے اقتدار کو کھونا نہیں چاہتی۔
ابھی جس طرح بی جے پی راہل گاندھی پر حملہ آور ہو رہی ہے اس کی بڑی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہنڈن برگ نے مودی اقتدار کے فائننسر اڈانی پر براہ راست حملہ کر دیا ہے اور اس راز کو فاش کر دیا ہے کہ موجودہ حکومت کی مقبولیت سوائے ایونٹ مینجمنٹ کے اور کچھ نہیں اور اس پر مذہبی آستھا کا تڑکا لگا کر عام شہریوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ملک کے قیمتی اثاثوں کو پرائیوٹائزیشن کے نام پر اڈانی اور امبانی جیسے گنتی کے چند لوگوں کو اس لئے لیز پر دیا جارہا ہے تاکہ وہ بی جے پی کے پارٹی فنڈ میں ہزاروں روپئے دے سکیں۔پورا ملک بے روزگاری اور مہنگائی سے خستہ حال ہے لیکن سرکار انتخاب در انتخاب سرکار بنانے اور گرانے کے کام میں مشغول ہے۔ایسے حالات میں ایک بار پھر عام انتخاب ہونے والا ہے اور سرکار کی مجبوری ہے کہ وہ انتخابی میدان میں جاکر عوام کے سامنے اپنا دس سالہ رپورٹ کارڈ پیش کرے لیکن اس کے سامنے ترقی کا کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جس کے مد نظر عام لوگ اسے ووٹ دیں۔
راہل گاندھی اس سلسلے میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔لیکن حزب اختلاف میں موجود کانگریس کے علاوہ باقی ساری پارٹیاں علاقائی ہونے کی وجہ سے کانگریس سے اس لئے خوفزدہ ہیں کہ وہ اس محاذ کے لیڈر نہ بن جائیں۔
لندن میں راہل نے موجودہ ملک کے سیاسی حالات کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ حقیقت حال ہے لیکن بی جے پی کے دم پر پیر رکھنے کے مترادف ہے اور اس سے اس کاچراغ پا ہونا فطری ہے۔کیونکہ یہ پارٹی اور اس کے اندھ بھکتوں کو مودی اینڈ کمپنی نے یہی سمجھا رکھا ہے کہ بھارت بہت جلد وشو گرو بننے والا ہے۔مودی کی بی جے پی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنے کارپوریٹ دوستوں کی مدد سے ملک کے تمام میڈیا ہاؤ س کو خرید لیا ہے اور تمام سرکاری ایجنسیوں کا استعمال اقتدار پر برقرار رہنے کےلئے کیا جا رہا ہے۔ایسے میں راہل گاندھی کو ملک کے لئے خطرناک ثابت کرنے کے سوا ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن بھی نہیں ہے۔کیونکہ راہل گاندھی کی وجہ سے نہ صرف مودی بلکہ ان کے فائننسروں کی ساکھ کو بھی زبردست دھکا لگا ہے اور اس نقصان کو برداشت کرنا بی جے پی اور آر ایس کے بس کی بات نہیں۔












