جب بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے کی مہم شروع کی تھی تو یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ یہ مہم ثمر آورنہیں ہوگی کیوں کہ ماضی میں بارہا اس طرح کی کوششیں ہوئی ہیں اورناکام رہی ہیں لیکن اب جب کہ آئندہ 23جون کو بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ملک کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں میٹنگ میں شامل ہو رہی ہیں اور مرکزی حکمراں جماعت کے خلاف صف بند ہو کر وزیر اعظم نریندرمودی کی ناکامیوں کو عوام الناس کے سامنے مضبوطی کے ساتھ رکھنے کافیصلہ کر رہی ہیں تو اب وہ تمام لوگ جو نتیش کمار کی اس مہم کے نکتہ چیں تھے وہ بھی نتیش کی سیاسی بصیرت وبصار ت کے قائل ہوگئے ہیں۔واضح ہو کہ نتیش کمار کی اسی مہم کی وجہ سے حالیہ نیتی آیوگ کی میٹنگ میں ملک کے گیارہ وزیر اعلیٰ نے شرکت نہیں کی اور پھر پارلیامنٹ کی نو تعمیرعمارت کے افتتاح کا بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ اگرچہ نو تعمیر پارلیامنٹ کی عمارت کے افتتاحی اجلاس سے اپوزیشن کے دور رہنے کی وجہ کچھ اور بتائی جا رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب ملک کی تمام چھوٹی بڑی غیر بھاجپائی سیاسی جماعتیں آئندہ پارلیامانی انتخابات کے مدنظر صف بند ہو رہی ہیں۔حال ہی میں نتیش کمار نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے قومی صدر کھڑگے سے مل کر یہ پیغام دیا ہے کہ اب کانگریس بھی چاہتی ہے کہ آئندہ پارلیامانی انتخابات میں اپوزیشن متحد ہو کر مقابلہ کرے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا ساتھ ملنے سے بھی یہ اتحاد قدرے مستحکم ہوا ہے کہ دہلی اور پنجاب میں عآپ کی حکومت ہے اور قومی سطح پر بھی اس کے کارکن فعال ہیں۔
بہر کیف! اب یہ طے ہو چکا ہے کہ آئندہ پارلیامانی انتخابات میں ایک کے مقابلے ایک امیدوار کا نسخہ آزمایا جائے گاتاکہ غیر بھاجپائی ووٹوں کے انتشار کو روکا جا سکے۔ نتیش کمار اس مہم کے آغازمیں ہی اپنا موقف واضح کر چکے ہیں کہ پارلیامانی انتخابات سے پہلے وزیر اعظم کے امیدوار کے اعلان کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ جب ہم موجودہ حکمراں جماعت کو حکومت سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوں گے تو خود بخود یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ کون سی پارٹی ملک کی قیادت کرے گی اور کس پارٹی کے لیڈر وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ نتیش کمار نے بارہا یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس ملک کی قیادت کرنے والے لیڈران کی کمی نہیں ہے ۔ درجنوں ایسے لیڈران ہیں جنہیں ایک دہائی سے زیادہ ریاستوں کی قیادت کرنے کا تجربہ ہے اور قومی سیاست میں بھی فعال رہے ہیں۔ غرض کہ ان کا اشارہ واضح ہے کہ اگر اپوزیشن اپنی اس مہم میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ آئندہ پارلیامانی انتخاب میں حکمراں جماعت کو حکومت سے بے دخل کردیتی ہے تو اپوزیشن کے درمیان لیڈرشپ کا کوئی بحران نہیں رہے گا۔ حال میں کانگریس کی طرف سے جو اشارہ ملا ہے وہ بھی خوش آئند ہے کہ وہ قومی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود نتیش کمار کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنی ہے اور قومی لیڈر شپ کا فیصلہ بھی نتیش کمار کے اوپر چھوڑ رکھا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ پارلیامانی انتخاب میں شمالی ہند کا ایک بڑا کردار ہوتا ہے کہ پارلیامانی سیٹوں میں شمالی ہند کی نصف حصہ داری ہے ۔ بالخصوص اتر پردیش ، بہار، بنگال، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور جھارکھنڈمیں اگر اپوزیشن اتحاد قائم ہو جاتا ہے تو ملک کی سیاسی تصویر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس لئے نتیش کمار نے اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو کو بھی اس بات کے لئے راضی کر لیا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر قدم بڑھائیں اور کانگریس کو بھی اشارہ دے دیا ہے کہ اتر پردیش میں اکھلیش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک مایاوتی کا سوال ہے تو اب اس کا ووٹ بینک اتنا مؤثر نہیں رہا جتنا ایک دہائی پہلے ہو اکرتا تھا کیوں کہ گذشتہ اسمبلی اور پارلیامانی انتخابات میں حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ مایا وتی کے پائوں سے زمین کھسک چکی ہے ۔ البتہ اتر پردیش میں مسلم قیادت کے لئے آزمائش کا وقت ہوگا کہ پارلیامانی انتخاب میں ان کے ووٹوں میں جو انتشار واقع ہوتا ہے اس پر کس طرح قابو پایا جا سکتاہے۔ کیوں کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اترپردیش میں کانگریس ہوں کہ سماجوادی پارٹی ان میں کوئی ایسا مسلم لیڈر نہیں ہے جو پوری ریاست میں اپنی مضبوط پکڑ رکھتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ انتخابی موسم میں کئی علاقائی سیاسی جماعتیں مبینہ طورپر خود کو مسلم سیاست کی قیادت کادعویٰ کرنے لگتی ہیں اور امیدواروں کی کثرت کی وجہ سے ان کے ووٹ تین تیرہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔حال ہی میں اترپردیش میں میونسپل انتخاب میں یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ کس طرح مسلم ووٹوں کے انتشارنے انہیں رسوا کیا ہے۔
غرض کہ نتیش کمار کی قیادت میں جو اپوزیشن اتحاد وجود میں آیا ہے اگر پارلیامانی انتخابات تک قائم رہا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمراں جماعت کے سامنے ایک بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے البتہ اس اتحاد کے بڑے لیڈر مثلاً شرد پوار، کانگریس کے کھڑگے، تریمول کانگریس کی ممتا بنرجی،سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اڑیسہ کے نوین پٹنایک کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کی علاقائی پارٹیوں کے لیڈران مثلاًشیو سیناکے ادھو ٹھاکرے اور تمل ناڈو میں اسٹالن کا رخ مثبت رہا تو آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بھی نئی فضا قائم ہوسکتی ہے کہ کرناٹک میںحالیہ اسمبلی انتخاب میں خوش آئند نتیجہ سامنے آچکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ بارہ جون کو نتیش کمار کی دعوت پر پٹنہ میں جو اپوزیشن اتحاد کا مظاہرہ ہونے والا ہے اوریہ امید ہے کہ 18سے زیادہ غیر بھاجپائی سیاسی جماعتوں کے لیڈران اس میٹنگ میں شامل ہونے والے ہیں اگر نتیش کمار کی یہ میٹنگ حسب خواہ کامیاب ہو جاتی ہے تو قومی سطح پر ایک نئی سیاسی فضا قائم ہونے کی امید مستحکم ہو سکتی ہے۔ مگرجیسا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں ہوتی رہی ہیں اور عین وقت پر لیڈر شپ کے نام پر رسّہ کشی کا شکار ہوتی رہی ہیں اگر اس باربھی وہ عمل دہرایا گیا تو پھر نتیش کمار کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے۔ شاید اس لئے نتیش کمار اپنا ہر ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہے ہیں اور تمام غیر بھاجپائی سیاسی جماعتوں کے قائد سے دست بستہ گذارش بھی کر رہے ہیں کہ جب تمام اپوزیشن کا مشن صرف اور صرف مرکز کی حکمراں جماعت کو حکومت سے بے دخل کرنا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کی آواز ایک ہونی چاہئے اور سب کے ارادے بھی نیک ہونے چاہئیں۔
پروفیسر مشتاق احمد












