اب ملک میں نفرت انگیز بیان کا مطلب ہے کسی مسلمان کے منہ یا قلم سے نکلی ہوئی وہ آواز جو حکومت وقت کے کسی عمل پر اعتراض کے زمرے میں آئے ۔ہیٹ اسپیچ کے سلسلے میں یہ تعریف اب پورے ملک کے نوکر شاہوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ کہ ملک کے پچیس کروڑ مسلمان اب اس جمہوری ملک میں خوف و دہشت کی زندگی جینے پر مجبور ہیں ۔
ابھی پچھلے دنوں ہندو دھرم کے جگت گرو آچاریہ پرم ہنس کا ایک بیان ٹوئٹر پر ٹرینڈ ہوا جس میں اس نے نہایت بیباکی سے ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں کو جہادی کہتے ہوئے ان کے قتل عام کی ضرورت پر زور دیا ۔اس بیان میں اس نے وزیر اعظم کو بھی شامل کیا اور کہا کہ میں نے پردھان منتری سے کہا کہ ایک دن کے لئے مجھے پردھان منتری بنا دیں لیکن وہ دن جمعہ کا ہو میں ملک سے جہادیوں کا نام و نشان مٹا دونگا ۔جگد گرو نے اس کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے دن مجھے معلام ہے کہ کس وقت یہ جہادی کہاں ملتے ہیں ۔میں وہاں سے انہیں سیدھے جنت کے سفر پر روانہ کر دونگا ۔اس نے موہن بھاگوت کا نام لے کر کہا کہ وہ بار بار اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہیں لیکن پہلے اکھنڈ بھارت بنانے کا مطلب ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان کے جہادیوں کو بھی ہندوستان میں شامل کرنا اس طرح تو ان جہادیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائےگا لہذا ضرورت ہے کہ پہلے ملک کے مسلمانوں کو ٹھکانے لگایا جائے اور اس کے لئے مجھے ایک گھنٹے کے لئے پردھان منتری بنانے کی ضرورت ہے ہے ۔اس نے مسلمانوں کے قتل عام کو ودھ قرار دیا ۔در اصل ہندو میتھو لوجی کے مطابق انسانوں سے دشمنی کرنے والے راکھچھشوں کے قتل کو ودھ کہا جاتا ہے اور یہ کام ہندو دیوی دیوتا سمئے سمئے پر کرتے رہے ہیں تاکہ مانو جاتی کی حفاظت ہو سکے ۔رام کے ذریعہ راون اور اس کے فوجیوں کا قتل بھی ودھ کے زمرے میں ہی آتا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ جب یہ ودھ مکمل ہو جائے گا اس کے بعد رام راجیہ بنانے میں کوئی اڑچن نہیں رہیگی اور پھر ملک کو ہندو راشٹر آسانی سے بنایا جا سکتا ہے ۔
افسوسناک سچائی یہ ہے کہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ ہونے والے اس بیان پر بھی امن و امان کی دہائی دینے والوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور اس شخص پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ایسے میں جب کہیں سے ہیٹ اسپیچ پر لگام لگانے کی آواز اٹھتی تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہیٹ اسپیچ کے معنی بدل دئے گئے ہیں اور سرکاری افسر مسلمانوں کی جانب سے دئے گئے کسی بیان کو ہی ہیٹ اسپیچ کے زمرے میں میں شامل کرتے ہیں چاہے وہ آئین کے دائرے میں سرکار ی پالیسیوں پر اعتراض ہی کیوں نہ ہو ۔
کرناٹک کے سلسلے میں جو رپورٹ انڈین ایکسپریس نے شائع کی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے لیکن یہ سلسلہ تو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے ۔اور ایسے بیانات نے ہی ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کیا ہے ۔اور اس سے جس پارٹی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اس سے سب واقف ہیں ۔انتخاب در انتخاب بی جے پی کی کامیابی کا راز ہی ہیٹ اسپیچ میں چھپا ہے ۔لیکن چینلوں پر یا اخبارات میں جو مبصرین سیاسی ماحول کا تجزیہ کرتے ہیں ان کی نظر بھی بھی ایسے بیانات کی سنگینی تک نہیں پہنچتی ۔اور جب کبھی کوئی انٹرنیشنل میڈیا ان بیانات کی روشنی میں بھارت میں اقلیتی طبقہ کی حالت زار پر تبصرہ کرتا ہے تو سرکار اسے ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی قرار دے کر یکسر نظر انداز کر دیتی ہے ۔
انڈین ایکسپریس(INDANEXPRES) نے کیس واپس لینے کے معاملات کی چھان بین کی ہے۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2019 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی حکومت ملزمان کو اندھا دھند رہا کر رہی ہے۔ صرف اکتوبر 2022 میں،ہی 34 مقدمات میں ملزمان کو بری کرنے پر پولیس، محکمہ قانون اور محکمہ استغاثہ کے اعتراضات کو مسترد کر دیاگیا۔ ان تمام ملزمان پر نفرت انگیز تقریراوذ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کا الزام تھا۔ان 34 کیسوں کے علاوہ، دی انڈین ایکسپریس نے-2019 ۔2009کے دوران 10 سال کی مدت میں کیسز کا جائزہ لیا۔ ان ملزمان میں سے سنگھ پریوار سے جڑے گروپوں کے 113 کارکن 16 مقدمات میں ملوث ہیں۔ ہندو جاگرن ویدیکے (HJV)، بنیادی طور پر وشو ہندو پریشد سے وابستہہے اس کے علاوہ بجرنگ دل ہے، شری رام سینا ہے۔ باقی 18 کیس کسانوں اور دیگر گروپوں کے احتجاج سے متعلق ہیں، جن میں 228 افراد شامل ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، محکمہ داخلہ نے یکم اکتوبر 2022 کو ایک حکم نامہ جاری کیا، جس کی آڑ میں ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم اس نے محکمہ پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ وہ 34 مقدمات کی واپسی کے لیے متعلقہ عدالتوں میں ضروری درخواستیں دیں۔
19 ستمبر 2022 کو ریاستی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے رکھے گئے دستاویزات کے مطابق، ریاستی پولیس، محکمہ پراسیکیوشن اور محکمہ قانون نے ان 34 مقدمات میں سے ہر ایک کو واپس لینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ "واپس لینے کے قابل نہیں” ہیں۔ ,
دی انڈین ایکسپریس کے ذریعے حاصل کیے گئے ریکارڈ کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے حکم کی بنیاد پر آٹھ مقدمات میں ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
اس سروے میں بھی سب کچھ آئینے کی طرح صاف ہے کہ سرکاری سطح پر کس شدو مد کے ساتھ نفرت انگیزی کے ملزموں کو سرکار کی اعانت حاصل ہے ۔کس طرح آئین وقوانین کا مذاق اڑانے والے لوگوں پر سے سرکار کیس اٹھا رہی ہے ۔اور انہیں یہ اجازت دے رہی ہے کہ وہ معاشرے میں نفرتی بیانات کی فصل اگائیں تاکہ بی جے پی کے حق میں لوگ گول بند ہو سکیں ۔
شعیب رضا فاطمی












