مدھیہ پردیش کے سیدھی میں پرویش شکلا نامی ایک شخص نے ایک نچلی ذات کے شخص کے منھ پر پیشاب کیا جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، لوگوں نے گرفتاری کی مانگ کی، مجرم گرفتار بھی ہوا، اس بیچ پولیس اور مجرم کے درمیان کچھ ڈرامائی منظر بھی دیکھنے کو ملے، پہلے تو پرویش شکلا تھانے میں اپنے ٹشن میں نظر آیا جس سے شیوراج سنگھ چوہان کی سرکار اور پولیس انتظامیہ کو زبردست تنقید کا نشانہ بننا پڑا، پھر شاید حکم صادر ہوا کہ مجرم کا استقبال مجرم کی طرح کیا

جائے نہ کہ مالک کی طرح، پھر کیا تھا، اداکاری شروع ہوگئی، وہی پولیس مجرم کو الٹا سیدھا س
ناتی اور دھکا دے کر گاڑی میں بٹھاتی نظر آئی۔
وہیں دوسری طرف مدھیہ پردیش کے ہی اندور میں ایک قبائلی نوجوان کو غنڈوں کے ہاتھوں یرغمال بنانے کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہ منظر انتہائی شرمناک اور ناقابل برداشت تھا۔ جس نوجوان پر حملہ کیا گیا وہ دھار ضلع کا رہنے والا ہے، جو اندور میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتا ہے اور مزدوری کرتا ہے۔
ایک ٹویٹر یوزر لکھتا ہے کہ بی جے پی کے دور حکومت میں دلتوں کو ہراساں کرنے، ڈرانے اور ان پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ رکا نہیں ہے، بلکہ بڑھ گیا ہے، دلت، پسماندہ، قبائلی، اقلیتی، خواتین، بزرگ، کیا یہ طبقے کبھی خود کو محفوظ محسوس کر سکیں گے؟ اسی طرح یوپی کے سون بھدر میں ایک دلت نوجوان کو ایک کانٹریکٹ لائن مین نے بے رحمی سے پیٹا۔بتایا جا رہا ہے کہ دلت لڑکے نے اپنے ماموں کے گھر کی لائٹ صحیح کی تھی جو معاملہ لائن مین کی بوکھلاہٹ تک جا پہنچا تھا۔
ایک ٹویٹر یوزر نے تشدد کا ویڈیو اپلوڈ کرکے لکھا ہے کہ مدھیہ پردیش کی حکومت گولو گوجر کو گرفتار کرے، اس کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کرے۔کسی نوجوان کو گاڑی میں اٹھا کر چپل سے مارنا، تلوے چٹوانا اور گالیاں دینا کوئی عام جرم تو نہیں ہوسکتا؟

ایک ٹویٹر یوزر نے پی ایم او کو ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ پانچ دس لوگوں کا یہ ٹولہ اس معصوم بچے پر اپنی طاقت دکھا رہا ہے اور زبردستی اس سے رام/ہنومان کہلوا رہا ہے۔اگر یہ بچہ مسلمان ہے تو اس بچے کا مسلمان ہونے میں کیا قصور ہے، جو اس بچے کو ہندودہشت گرد تنظیم کے لوگ بے دردی سے مار رہے ہیں، اور آپ کی حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتی؟
یہ سارے ٹویٹس اور اس جیسے درجنوں ٹویٹس روزانہ ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں ظلم و بربریت، غنڈہ گردی، مذہبی منافرت اور کٹرپنتھی سوچ کے لوگ نچلے طبقے کے کسی فرد پر ستم آزمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی حکومت کو ان مظالم کی اور انسانیت سوز ان حملوں کی خبر نہیں ہوتی، ضرور ہوتی ہوگی، سب سے تیز خبر رسانی کے آلات و افراد حکمرانوں کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت اس ظلم کو روکنے میں ناکام ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس حکومت کا مشن ہی نفرت کراؤ، لوگوں کو آپس میں لڑاؤ اور حکومت کروہے۔ کیا یہی ”ڈوائڈ اینڈ رول“ کی سیاست نہیں ہے؟ اور اس مشن کو آگے بڑھانے میں سرکار کو گودی میڈیا کا مکمل تعاون حاصل ہے، کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک میں ہندو مسلم اور اونچ نیچ کی بحث کے ذریعے میڈیا نے نفر ت کے ماحول کو فروغ دیا ہے، نفرت آمیز فلموں کا پرموشن ہو،یا بھاجپا کی کسی بھی ملک مخالف پالیسی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش، مذہب کے نام پر ڈبیٹ ہو یا سرکاری چمچوں کی حمایت ان سبھی کاموں میں آج کے گودی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے، آج نچلی ذاتیوں پر ظلم ڈھانے والے نوے فیصد لوگ یا تو میڈیا سے متاثر ہوئے ہیں یا خاص طبقے کے ساتھ انتظامیہ اور حکومت کے نرم رویے سے۔ جس میڈیا کو سرکار سے سوال کرنا چاہیے تھا اور ملکی مسائل، ترقیاتی مسائل، معاشی مسائل اور روزگار کے مسائل پر ڈبیٹ کروانا چاہیے تھا وہ گودی میڈیا حکومت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ناکام لوگوں کی تعریف میں قصیدے پڑھ رہا ہے۔ کیا آپ نے گودی میڈیا چینلوں پر کوئی ایسا ڈبیٹ دیکھا ہے جس کا عنوان ہو”روزگار دے سرکار“ بڑھتے ڈیژل اور پیٹرول کے دام، پریشان ہے عوام“ گیس سلنڈر پر کھانا بنانا ہوا مشکل“ دال چاول اور آٹا پر ٹیکس کیوں؟ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی کیوں؟ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کی کمی کیوں؟ سرکاری کرسیوں پر بیٹھے ہیں نواب کون دے گا سرکاری خزانے کا حساب؟“ کیا آپ نے اس طرح کے عنوان پر بحث ہوتی دیکھی ہے؟ نہیں نا، ہاں! کچھ یوٹیوب چینلز والے ضرور ان مدعوں پر بولتے نظر آتے ہیں؛ لیکن ان کی آواز کہاں تک پہنچے گی، پھر جو لوگ گودی میڈیا چینلوں کو دیکھ دیکھ کر اندھ بھکت بنے ہوئے ہیں ان کا علاج کون کرے گا؟ کیا ان گنے چنے سوشل میڈیائی چینلوں کے ذریعے ان کا علاج ممکن ہے؟ ٹیکنیکل سائنس کے مطابق اندھ بھکتی تو ایسی بیماری ہے کہ جس نے یہ بیماری لگائی ہے وہی اسے درست کر سکتا ہے، لہذا جب تک ملک میں گودی میڈیا کا کام جاری رہے گا تب تک اندھ بھکتوں کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔
دو ہزار چوبیس کے پارلیمانی انتخابات بہت دور نہیں ہیں، اس وقت میڈیا کو کیسی بحث کرنی چاہیے، ظاہر ہے کہ عوامی مدعوں پر بات کرنے کی ضرورت تھی، سرکار کے وعدوں کو یاد دلانے کی ضرورت تھی، مہنگائی اور بے روزگاری پر سر پیٹنے اور ڈبیٹ کرانے کی ضرورت تھی، حکومت کی ناکامیوں پر سوال اٹھانے کی ضرورت تھی؛ لیکن میڈیا میں آج کل کیا چل رہا ہے؟ پاکستان سے آنے والی سیما کی پریم کہانی، جیوتی اور آلوک موریا کی داستان دلفریب اور اب یونیفارم سول کوڈ پر مذہبی ڈبیٹس۔ ابھی لاء کمیشن نے یو سی سی پر صرف رائے طلب کی ہے اور گودی میڈیا اپنے آپ میں یہ فیصلہ کرکے بیٹھ گیا کہ یو سی سی اس ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے، یوسی سی کی مخالفت کرنے والوں سے الٹے سیدھے سوال پوچھے جارہے ہیں، انہیں قدامت پسند بتایا جارہا ہے، کیا یوسی سی ہی اس ملک کا سب سے بڑا مدعا ہے؟ کیا یوسی سی کی بدولت ہی لوگوں کو روزگار ملے گا؟ کیا یوسی سی ہی ملک کی ترقی کا ذریعہ ہے؟ کیا یوسی سی مہنگائی کم کرنے کا بِل ہے؟ کیا یوسی سی پیٹرول اور ڈیژل کے داموں کو کم کرنے کا قانون ہے؟ کیا یو سی سی کھانے پینے کی اشیاء سے ٹیکس ہٹانے کی بات ہے؟ کیا یو سی سی غیر ممالک سے کالا دھن لانے میں مدد کرے گا؟ کیا یو نیفارم سول کوڈ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس“ نعرے کو کامیاب کرنے کا واحد راستہ ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو میڈیا کو چاہیے کہ وہ یونیفارم سول کوڈ سے پہلے عوامی مدعوں کو اجاگر کرے اور اپنے اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر دیش کو بربادی کی طرف جاتے ہوئے نہ دیکھے بلکہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور ملک کے حق میں کی جانے والی صحافت کو فروغ دے۔
موجودہ سرکار تو آنے والے لوک سبھا چناؤ تک مکمل کوشش، بلکہ سازش اور پروپیگنڈہ کرے گی کہ لوگوں کا دھیان زمینی مدعوں سے بھٹکائے رکھے، انہیں مذہب اور نفرت کے مسائل میں الجھائے رکھے، ابھی یونیفارم سول کوڈ چناؤ سے قبل کا سب سے بڑا ڈھول معلوم ہورہا ہے جس کے شور کے سامنے، غریبوں، بے روزگاروں، مہنگائی کے ماروں اور بے یار و مددگاروں کی چیخوں کو کوئی سننے والا نہیں ہے۔
از: آفتاب اظہرؔ صدیقی












