نئی دہلی، جنتر منتر پہنچنے والی کھاپ پنچایتوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ 16 مئی کو ہریانہ سے کھاپ پنچایت پیدل مارچ کرتے ہوئے دہلی پہنچے گی۔ 16 مئی کو ہی اتر پردیش سے کھاپ کے لوگ پیدل مارچ کرتے ہوئے دہلی کی سرحد پر پہنچیں گے۔اس میں کوئی تشدد نہیں کرے گا، کوئی نظم و ضبط نہیں توڑے گا۔ جب ملک کی بیٹی ساکشی ملک اور ونیش پھوگاٹ خود اسٹیج پر آئیں گے اور کہیں گے کہ انصاف ہوگیا تب ہی کھاپ اپنی کارکردگی ، روکینگے ورنہ لڑائی طویل عرصے تک چلے گی۔پولس نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولس کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ہم امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔سنگھو بارڈر پر بڑی تعداد میں پولس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور پولس نے بیریکیڈز کی کئی قطاریں بنا رکھی ہیں۔ جنتر منتر پر پہلوانوں کے خلاف پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔دہلی پولس نے سنگھو سرحد پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور پہلوانوں کے حق میں کسانوں کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی کال سے پہلے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مٹی سے لدے ڈمپر بھی تعینات کیے ہیں۔ دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت میں کسانوں اور متحدہ کسان مورچہ کے ملک گیر احتجاج کے درمیان سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش کے کئی ایم لیڈروں کے جنتر منتر پر احتجاجی مقام کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ، اتر پردیش، راجستھان اور ہریانہ کے کھاپ پنچایت کے رہنما احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت کے لیے جنتر منتر تک مارچ کر رہے ہیں۔اولمپک میڈلسٹ بجرنگ پونیا نے احتجاج کرنے والے پہلوانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اتوار کو کینڈل مارچ نکالنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ پونیا نے کہا کہ ہفتہ کو تشکیل دی گئی دونوں کمیٹیوں کو مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ واضح ہو کہ ہندوستان کے چوٹی کے پہلوان، بشمول بجرنگ پونیا، ساکشی ملک اور ونیش پھوگاٹ گزشتہ دو ہفتوں سے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر اور بی جے پی کے رکن پارلیمان برج بھوشن شرن سنگھ کی مبینہ طور پر خواتین پہلوانوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتاری اور برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیکن جب اس پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی تو پچھلے بارہ دنوں سے پہلوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھ گئے جومسلسل جاری ہے اور اب اس دھرنے میں کھاپ پنچایتوں کے ساتھ بھارتیہ کسان یونین کےنلوگ بھی شامل ہو گئے ہیں۔
اس دوران ڈبلیو ایف آئی کے صدر برج بھوشن نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہکھاپ کے میرے چچا اورتاؤ، میں آپ کو دہلی آنے سے نہیں روک رہا ہوں، لیکن جس دن دہلی پولس کی تفتیش ختم ہو جائے گی اور اگر میں قصوروار پایا گیا تو میں خود آپ سب کے درمیان آؤں گا۔آپ سب جوتے مارکر مارکر میرا قتل کردینا۔آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے گاؤں کا کوئی بچہ، عورت، لڑکی کشتی کھیلتی ہو تو ان سے 1 منٹ کے لیے اکیلے میں پوچھناکہ برج بھوشن پر لگائے گئے الزامات صحیحہیں؟ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بچے غلطیاں کرتے ہیں، آپ نہیں کرتے۔مہم (روہتک) چوبیس سروکھپ پنچایت نے ہفتہ کو ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ بلائی۔ اس میں 65 کھاپ ممبران نے حصہ لیا۔ یہیں پر جنتر منتر جانے کا فیصلہ ہوا۔ تحریک کی منصوبہ بندی کے لیے 31 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔سروکھپ پنچایت کے چیف سکریٹری رامفل راٹھی نے کہا کہ کھاپس کے ساتھ ساتھ کسان اور سماجی تنظیمیں بھی خواتین پہلوانوں کی حمایت میں ہیں۔ برج بھوشن شرن سنگھ پر سنگین الزامات ہیں، اس کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ حکومت برج بھوشن کو فوری گرفتار کرے، ورنہ کھاپیں سخت قدم اٹھائیں گی۔8 مئی کو ٹیم فورس کے ساتھ دہلی کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ متحدہ کسان مورچہ (غیر سیاسی) نے ملک بھر کے کسانوں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کرنے اور دہلی کا محاصرہ کرنے کی حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسان لیڈر ابھیمنیو کوہار نے بتایا کہ ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسان دہلی جائیں گے۔ریسلر بجرنگ پونیا نے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کی حمایت کے لیے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا- کھیل کے میدان کو فتح کیا، اب جنتر منتر کو فتح کرنے کے بعد جائیں گے۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا- اگر آپ زندہ ہیں تو زندہ دکھنا ضروری ہے۔آپ کو بتادیں کہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف گزشتہ ماہ 23 اپریل سے ریسلرز ہڑتال پر ہیں۔ پہلوانوں نے برج بھوشن پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ دہلی پولس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔اس سے قبل 18 جنوری کو پہلوانوں نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ تاہم وزارت کھیل کی مداخلت کے بعد پہلوانوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی تھی۔ اس کے بعد وزارت کھیل نے پہلوانوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پہلوانوں نے اب کمیٹی پر ہی سوال اٹھا دیے ہیں۔آج دہلی کے جنتر منتر پر پہلوانوں کی حمایت میں کھاپس کی مہا پنچایت ہو رہی ہے۔ اس میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ادھر برج بھوشن نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بجرنگ پونیا اور ونیش پھوگٹ کے درمیان کھیل ختم ہو گیا ہے۔ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ونیش پھوگٹ، بجرنگ پونیا اور ساکشی ملک کی قیادت میں دہلی کے جنتر منتر پر پہلوانوں کی ہڑتال 14ویں دن بھی جاری ہے۔ پہلوانوں کی شکایت پر دہلی کے کناٹ پلیس پولس اسٹیشن میں برج بھوشن کے خلاف 10 دن پہلے جنسی ہراسانی اور پوسکو ایکٹ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔












