کانگریس کے 85 ویں اجلاس کے موقع پر اس کے 137 سالہ نظریاتی سفر پر مشتمل اشتہار شائع ہوا ہے۔ جس میں کانگریس سے بغاوت کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے والے وی پی سنگھ کا فوٹو تو موجود ہے لیکن 1885 سے 1947 تک کانگریس کے صدر رہے سات مسلمانوں (بدرالدین طیب جی، رحمت اللہ ایم سیانی، نواب سید محمد بہادر، سید حسن ایمام، حکیم اجمل خان، مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری صاحب) میں سے کسی کو پوسٹر میں جگہ نہیں ملی۔ گاندھی، پٹیل، نہرو کے ساتھ جیل جانے والوں میں سے بھی کسی پر کانگریس کی نگاہ نہیں پڑی۔ گاندھی جی کو پورے ملک میں متعارف کرانے والے علی برادران ہوں یا افغانستان میں بنی بھارت کی عبوری حکومت کے وزیراعظم مولوی برکت اللہ، یہ حکومت راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی صدارت میں بنی تھی۔ یا پھر چھوٹا گاندھی کہلانے جسٹس عباس طیب جی ہوں، کسی کا بھی فوٹو اشتہار میں شامل کرنے کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ سوال ہے کہ کیا نئے بھارت کی یہ بدلی ہوئی کانگریس ہے، جس میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے؟ کیا کانگریس کا یہ نئی طرح کا سیکولرزم؟ جو بھارت جوڑو یاترا کی تصویر سے کچھ مختلف ہے۔
حالانکہ چھتیس گڑھ کے اجلاس میں جو سفارشات پاس کی گئی ہیں۔ ان میں پارٹی کو مضبوط بنانے کےلئے نوجوانوں، پچھڑوں، اقلیتوں، خواتین اور دلتوں کا تنظیم میں کوٹا مقرر کرنے کی تجویز موجود ہے۔ اس پر کتنا عمل ہوگا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے متعلق کیا صرف کانگریس کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے یا پھر دوسری سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ یوپی کے اسمبلی انتخابات 2022 کے دوران وائرل ہوئی ویڈیو کے مطابق سماجوادی پارٹی نے اپنے اسٹیج سے مسلم لیڈران کو دھکا دے کر نیچے اتار دیا تھا۔ حالانکہ کہ انتخابات میں بیشتر حلقوں میں مسلمانوں کا 80 فیصد ووٹ سماج وادی پارٹی کو ملا تھا۔ مسلم ووٹوں کی وجہ سے ہی اسے اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس کے برعکس یادو اکثریتی علاقوں سے سماجوادی پارٹی کو کامیابی نہیں ملی۔ الیکشن کے بعد مایاوتی نے کہا تھا کہ مسلمانوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے دلتوں نے الیکشن میں بہوجن سماج پارٹی کو مسترد کر دیا تھا۔ ضمنی انتخاب میں دھرمیندر یادو نے اپنی ہار کا ٹھیکرا مسلمانوں پر پھوڑا۔ جبکہ یادو ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں ہار کا منھ دیکھنا پڑا تھا۔ رامپور کی پارلیمانی و اسمبلی سیٹ جان بوجھ کر اکھلیش یادو نے بی جے پی کی جھولی میں ڈال دی۔
مغربی بنگال میں ممتا بنرجی اور دہلی میں کجریوال پورا زور خود کو ہندو ثابت کرنے میں رہا ہے۔ ممتا بنرجی کو مسلمانوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کےلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ ان کی دلچسپی مسلمانوں کو صرف ووٹ بنک بنا کر رکھنے میں ہے۔ انا تحریک کے بعد جب عام آدمی پارٹی بنی تو کئی مرتبہ کجریوال سے مسلمانوں کے مسائل پر بات ہوئی۔ ہر بار انہوں نے یہی کہا کہ ہم سب کے لئے کام کریں گے۔ مسلمانوں کا نام نہیں لے سکتے۔ مسلمانوں کی بات کرنے سے ہندو ووٹ دور ہو جائیں گے۔ دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے کجریوال حکومت نے تلنگانہ کی طرز پر وقف بورڈ کے ذریعہ مسلم علاقوں میں کرائے کی عمارتوں میں اسکول کھولنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مگر اس منصوبہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا تاکہ ان پر مسلمانوں کو فائدہ الزام نہ لگ جائے۔ دہلی فساد پر خاموشی اور کورونا کے دوران مرکز تبلیغی جماعت پر لگے تالے نے کجریوال کی سیاسی سوچ سے پردہ اٹھا دیا۔
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوئی مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے کی سیاست۔ اس نے اکثریت واد ایسا نریٹیو سیٹ کیا کہ سیکولر جماعتیں بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں بچ سکیں۔ سیاست دان ڈرنے لگے کہ ان پر مسلمانوں کی منھ بھرائی کا الزام نہ لگ جائے۔ لالو پرساد یادو اور نتیش کمار جیسے لیڈران کی وجہ سے بہار اس سیاست سے زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ بی جے پی کی سوشل انجینئرنگ نے کئی طبقات کو متاثر کیا لیکن اس کا سب سے زیادہ منفی اثر مسلمانوں پر پڑا۔ 2014 میں سب سے کم 23 اور 2019 میں 27 مسلم ممبران الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے۔ 2011 کی مردم شماری میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے حساب سے پارلیمنٹ میں مسلم ممبران کی تعداد کم از کم 76 ہونی چاہئے۔ لیکن 1952 سے اب تک پارلیمنٹ میں مسلم ممبران کی سب سے زیادہ تعداد 1980 میں 49 تھی۔
سچر کمیٹی نے 64 اضلاع کی نشاندہی قابل ذکر مسلم آبادی کے لئے کی تھی۔ موجودہ حکومت نے مسلم آبادی والے 40 اضلاع کو تعلیمی بیداری مہم کے لئے منتخب کیا تھا۔ ووٹوں کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو 218 پارلیمانی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں سے 35 سیٹیں ایسی ہیں جو وہ بغیر کسی کی مدد کے جیت سکتے ہیں۔ یعنی ان پر مسلم ووٹ اکثریت میں ہیں۔ بلحاظ ریاست دیکھیں تو آسام 4 مغربی بنگال 9 بہار 3 جموں وکشمیر 5 کیرالہ 4 تلنگانہ 1 لکشدیپ 1 اور یوپی میں 8 ہیں۔ 21 سے 30 فیصد مسلم ووٹ والی 38 اور 145 سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹ 11 سے 20 فیصد ہیں۔ موٹے طور پر پارلیمنٹ کی 80 سیٹیں ایسی ہیں جو تھوڑی سوجھ بوجھ سے کام لیں تو مسلمان جیت سکتے ہیں۔ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی نے ان میں سے 58 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ سیاسی طور پر اتنے اہم مقام کے باوجود مسلمان حاشیہ پر کیوں ہیں۔ یہ سوال پریشان کرنے والا ہے۔ جبکہ دو چار پارلیمانی سیٹوں پر اثر انداز ہونے والے طبقات کو سیاسی جماعتیں اپنے ساتھ لانے کےلئے بے چین رہتی ہیں۔
غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی سمجھ کی بے انتہا کمی ہے۔ انہیں اپنے ہی علماء، دانشوروں اور باشعور حضرات نے گمراہ کر سیاسی طور پر پسماندہ رکھا۔ تاکہ وہ ان کے ووٹوں کا سودا کر سیاسی جماعتوں سے قیمت وصول کر سکیں۔ دراصل فسادات ہوں یا ہجومی تشدد، تعلیم کی کمی ہو یا سرکاری ملازمتوں سے دوری، گندی بستیوں میں قیام ہو یا مسئلہ صحت، انہیں دوسرے طبقات سے الگ تھلگ کرنا ہو یا متشدد بتانے کی کوشش۔ ان تمام مسائل کا حل سیاست کے پاس ہے۔ جس سے جان بوجھ کر مسلمانوں کو دور رکھا گیا ہے۔ اس کے لئے جہاں نام نہاد یا تھوپے ہوئے مسلم رہنما گناہ گار ہیں وہیں سیاسی جماعتیں۔ اس وقت جبکہ ہر مسلمان یہ بات محسوس کر رہا ہے تو ہمارے علماءاور دانشور قوم میں سیاسی سمجھ پیدا کرنے کے بجائے آر ایس ایس سے مکالمے کی وکالت کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اٹل حمایت کمیٹی بنائی تھی۔ مسلمان جب بھی آر ایس ایس کے ذمہ داروں سے ملتے ہیں۔ وہ انہیں ایک نیا جھنجھونا تھما دیتے ہیں۔ جسے وہ قوم کے درمیان آ کر بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ وقت آگیا ہے جب اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کر کے اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے لئے منصوبہ بند طریقے سے کام کیا جائے۔ بھلے ہی کانگریس کے جے رام رمیش نے اشتہار میں کسی مسلم کا فوٹو شامل نہ کئے جانے پر غلطی مانی ہو۔ لیکن یہ کل کی سچائی ہے، آج فوٹو ہٹایا گیا ہے کل ٹکٹ کے لئے انکار کیا جائے گا۔ پھر شاید مسلمانوں کے وجود کا انکار، غور کیجئے آئندہ کا بھارت کیسا ہوگا۔












