منہاج احمد
نئی دہلی،31جنوری ، سماج نیوزسروس: گذشتہ روز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس کانفرنس کی سرپرستی ایم آر ایم کے سرپرست اور آر ایس کے سینئیر لیڈر اندریش کمار جی نے کی۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ہمالہ سے ہند مہاساگر تک بھارت ہی بھارت ہے۔اور جس طرح کشمیر بھارت کے لئے جنت ہے اسی طرح پوری دنیا کے لئے بھارت جنت ہے۔تقریر کی حد تک اندریش کمار جی کا یہ جملہ بے حد تالیاں بٹورنے والا ہے لیکن کیا 2014 کے بعد سے اب تک ملک میں اقلیتوں اورخاص کر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے وہ ایسا ہے کہ اس کے بعد بھی دنیا بھارت کو جنت قرار دے ؟مسلمانوں کے حوالے سے اندریش جی سے یہ سوال اس لئے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ وہ مسلم راشٹریہ منچ کے سر پرست اعلی ہیں اور جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے ان کا قد اتنا بلند ہو گیا ہے کہ اب عام لوگوں کی رسائی بھی ان تک نہیں ہو پاتی۔
اب تو اندریش کمار جی شاید ان لوگوں کو بھی بھول گئے جن مسلم منچ کے لوگوں کو لے کر وہ 2014 میں کشمیر گئے تھے اور مسلم علاقہ میں ان داڑھی اور ٹوپی والوں کا جم کر استعمال کیا تھا۔انتخاب کے نتائج انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں ان کی تنظیم ایم آر ایم نے زمینی سطح پر کام کرکے مودی جی کے حق میں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کیا ہے۔لیکن افسوس کہ وہ ان تمام مسلم راشٹریہ منچ کے مسلمان کارکنوں کو بھول گئے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے گرد ایسے نئے نئے لوگ اپنا گھیرا بنا کر کھڑے ہو گئے جو پہلے کبھی اور کہیں نہیں تھے۔ایم آر ایم کے مسلم کارکن اس نظر انداز کرنے کی وجہ سے یا تو ایم آر ایم سے دور چلے گئے یا پھر آج بھی اپنے ہی سماج سے ذلیل ہوکر در بدر کی خاک چھان رہے ہیں۔
حالانکہ 2014 کے بعد مرکزی حکومت کے تمام اداروں میں ایم آر ایم کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا ہے کہ تمام شعبہ اردو عربی اور فارسی میں ہونے والی تقرری بھی اندریش جی کے اشارے پر ہی ہوتا ہے۔اکیڈمیوں کے سکریٹری سے لے کر قومی کونسل کے ڈائریکٹر اور ان کی کمیٹیاں ان کی مرضی سےبہی بنائی جاتی ہیں۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر تک کی تقرری میں ان کا عمل دخل ہوتا ہے ،لیکن ان سب میں زیادہ تر عہدے ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جو صاحب ثروت ہوتے ہیں۔ممکن ہے اندریش جی کو خود یہ معلوم بھی نہ ہو کہ ان کے آس پاس گھیرا ڈالے ہوئے مفاد پرست لوگ کیا کیا کر رہے ہیں۔لیکن انہیں یہ تو اندازہ ہوگا ہی کہ وہ لوگ یکایک کہاں چلے گئے جو 2014 اور اس کے پہلے ان کے ساتھ تھے۔آپ کو بتاتے چلیںکہ اس وقت علماءاور دانشور طبقے کے تقریباً 150افراد تھے ۔ جومسلسل الگاؤ وادی لیڈروں کے نشانے پر تھے ۔ جنہیں روزانہ حراساں کرنے کےلئے الگاؤ وادی گروپ کے فائربرانڈ افراد جارحانہ انداز میں دھمکیاں دے رہے تھے کہ ”جولوگ دہلی سے آئے ہیں یا تو وہ واپس جائیں ورنہ ان کی لاشیں جائیں گی“ ان جیسے دلیر کیڈر کے لوگوں کو کشمیر میں جیت ملنے اور سرکار بننے کے بعد بھی دہلی والے انہیں بھول گئے اور روزانہ ارد گرد چمچے لوگ یا پھر جن کی رتّی برابر بھی قربانیاں نہیں ہیں وہ لوگ ناک کے بال بن کر گھوم رہے ہیں۔ شیر کشمیر اسٹیڈیم میں اس وقت کے سنگھٹن جنرل سکریٹری رام لال نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ ” بھاجپا سے منسلک لوگ دودھاری تلوار پر چل رہے ہیں جب وہ اپنے قوم میں جاتے ہیں تو انہیں تذلیل کیا جاتا ہے اوریہی لوگ جب پارٹی میں جی جان سے خون پسینہ بہاتے ہیں اور کیڈر کے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے ہیں تو وہ لوگ بڑے پریشان ہوتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔اسی مجمع سے انہوںنے ایک اپیل کی تھی کہ اقلیتی مورچہ سے وابستہ کارکنان کو سینئر جونیئر سبھی احترام کے نگاہ سے دیکھیں تب بھی ان کی محنتوں کا ثمرہ نہیں دیا جاسکتا۔ اب پارٹی کو غور کرنا چاہئے کہ 2014 کشمیر الیکشن میں جو لوگ اپنی جان کی بازی لگارہے تھے وہ اب کہاں ہیں کیا ایسی کمی رہی کہ انہیں گمنام ہونا پڑا۔ یا ان کو بھلادیاگیا۔ اس سلسلہ میں منتھن کے ساتھ ساتھ ازالہ بھی ہونا چاہئے۔ورنہ وہ دن دور نہیں کہ منجھے ہوئے لوگ کہیں کھوجائیں اور پارٹی کو بھی کف افسوس ملنا پڑے۔












