دو دن قبل اتوارکو عرب ملک قطر کے دوحہ شہر میں فٹبال کا ورلڈ کپ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا ۔ چونکہ فٹبال کے کھیلوں کا یہ میلہ اس بار قطر میں منعقد ہوا تھا اس لئے اس نے اس کی پوری شاندار انداز میں میزبانی بھی کی ۔اتوار کو ہی فیفا کے میچوں کا فائنل میچ بھی کھیلا گیا جس میں دنیا کی بڑی اور اہم ٹیموں ارجنٹینا اور فرانس کے درمیان دلچسپ مقابلہ تھا۔شاید فٹبال کی تاریخ میں اتنا دلچسپ میچ کبھی کھیلا گیا ہو ۔بلاشبہ ارجنٹینا نے فرانس سے پوری توانائی اور ہنر کے ساتھ فرانس سے آخری دم تک مقابلہ کیا وہ دیکھنے لائق تھا ۔شروع میں لگ رہاتھا کہ ارجنٹینا سے فرانس شکست کھاجائیگا لیکن ارجنٹینانے اس کا لگاتار دو گول کر کے قرض ادا کردیا ۔لیکن جیسے ہی آخری منٹ میںفرانس نے تیسرا گول کیا تو میسی کے چہرے پر پریشانی جھلکنے لگی ،لیکن یہ پریشانی زیادہ دیرنہ رہی اور انہوںنے ارجنٹینا کی لاج رکھ لی اور فرانس کیخلاف تیسرا گول ماردیا ۔لیکن3-3گول کی اس برابری کی وجہ سے دونوںمیں ہار جیت کا کوئی فیصلہ نا ہو سکا اور دونوں کو ایک بار پھر کھیلنے کا موقع دیا گیا ۔اگلے زائد وقت میں بھی دونوں ٹیمیں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکیں ۔لہذا آخیر میں پنالٹی شوٹ آئوٹ میں ارجنٹینا کے مشہور اسٹرائیکرمیسی کے شاندار گولز کی مدد سے ارجنٹینا 4-2 سے میچ جیت گیا۔ اس کھیل کو طویل وقت تک لوگ یاد رکھیں گے ۔میسی کو نہ صرف مین آف دی میچ قرار دیا گیا ،بلکہ انہیں ورلڈ چمپئن کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔میسی اس وقت دنیا کے ٹاپ اسٹرائیکر ز میں سے ایک اور ارجنٹینا کی ٹیم میں تیز اسکوربنانے والے کھلاڑی ہیں۔وہ دنیا کے شائقین کے دلوں میں بستے ہیں اور بچہ بچہ ان کے کھیل کا دیوانہ ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ رونالڈو اور ڈیگو میرا ڈونا جیسے نامی فٹبال پلیئرکے بعد ارجنٹیناکے لیونل میسی ایسے پلیئر ہیں جن کی نصف سے زائددنیا دیوانی ہے اور ان کے کھیل کی مداح ہے ۔بھارت میں اس میچ کو بڑے شوق اور تیاریوں سے دیکھا گیا ۔لوگوں نے کام کاج چھوڑ کر میچ کے لئے وقت نکالا اور اس سے محظوظ ہوئے۔
گویا اس طرح ارجنٹینا ٹیم فٹبال کی دنیا کا بادشاہ بن گئی اور فرانس کو شکست دے دی ۔فائنل میچ میں فرانس کے خلاف ارجنٹینا کے شاندار مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے شائقین کا یہاں تک کہنا ہے کہ ارجنٹینا کو یہ میچ فرانس جبڑے سے چھیننا پڑا ،کیونکہ یہ جیت اتنی آسان نہیںتھی۔الغرض ،اس میچ کی یادیں زیادہ دنوں تک دلوں میں پیوست رہیں گی ،وہیں اس کی قطر کی جانب سے شاندارمیزبانی بھی خوب یاد رکھی جائے گی۔لیکن اس میچ میں بھارت کی غیر موجودگی سے بڑی کسک محسوس کی جارہی تھی ۔فٹبال کے شائقین اس کمی کو دل سے محسوس کر رہے تھے اور آئندہ بھارت کے فیفا کھیلوں میں شامل ہونے کی تمنا کررہے تھے ،لیکن وہیں اس ملے جلے جذباتی اظہار کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک ایسا میسج بھی وائرل ہورہا تھا جو ذہنوں کو جھنجوڑنے والا تھا ۔سوال یہ گردش کررہا تھا کہ ہمارے ملک کی ٹیم فیفا میں شرکت کرنے سے کیوں پیچھے رہی ،کیا ایک سو چالیس کروڑ کی آبادی والے بھارت میں گیارہ کھلاڑی بھی تیار نہیںکئے جاسکتے جو فیفا میںبھارت کی نمائندگی کر سکیں ؟۔یقینا یہ سوال دلوں کو چھوجانے والا تھا جس پر غور خوض کیا جانا چاہئے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم جس طرح کی سیاست سے نبرد آزما ہیں ،اس ماحول میں دنیا کے کسی بھی تقابلی پروگرام میں ہم شاید ہی جا سکیں ۔اس سوال کو ٹٹولیں تو ہمیں اس کاجواب بھی مل جائے گا ،بد قسمتی سے آج ہم ایک ایسی گندی سیاست سے دوچار ہیں جہاں دن و رات ایک دوسرے کو مذہبی نفرت کی چاشنی پینے پر مجبور کیا جاتا ہے ،کس کو کیا کھانا چاہئے ،کیا پہننا چاہئے ،کس کے کپڑے کس رنگ کے ہونے چاہئیں اور جسم کے کس حصہ میں پہنے گئے ہیں! ،کو ن کس کپڑے سے پہچانا جاتا ہے ،وغیرہ ۔ہم اس لڑائی سے باہر نہیں نکل پارہے کہ ہم کچھ اور سوچ پائیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی اوچھی سیاست کا ہی پیش خیمہ ہے کہ ہم آج ہم گیارہ کھلاڑی بھی تیار کرنے سے قاصر ہیں اور اندورن ملک جہالت اور مذہبی خطوط پر سماج کو تقسیم کرنے والی سیاست سے بری طرح نبرد آزما ہیں۔ اس لئے جہاں ایسی سیاست کی جارہی ہو اور ایک دوسرے کی اقتدار کے لئے ٹانگ کھینچی جارہی ہو وہا ںیہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ملک عالمی پیمانے پر کوئی بڑی حصہ داری کیلئے اپنے کھلاڑیوں کو تیار کر سکے؟ ۔اس سمت میں ہم کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔












