راجستھان میں اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان کی کشیدگی منگل کو اس سطح پر پہنچ گئی کہ سچن پائلٹ اپنی ہی حکومت کے خلاف پارٹی کی تمام ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ پائلٹ اپنے باغیانہ رویے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سچن پائلٹ کی اشوک گہلوت کے ساتھ تناؤ اور پارٹی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ نے کانگریس کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے اور کانگریس کے سینئر لیڈروں کو برسوں پرانا بنگال کا بحران یاد آنے لگا ہے۔تو کیا سچ مچ سچن پائلٹ کانگریس کے لیے دوسری ممتا بنرجی بننے کے راستے پر ہیں؟
یاد کیجئے نوے کی دہائی والی ممتابنرجی کو جو بنگال یوتھ کانگریس کی لیڈر تھیں اور بنگال کانگریس کے صدر سومن مترا تھے ممتا سومن مترا کے ساتھ مل کر کانگریس کے لیے بہت بہتر کردار ادا کر رہی تھیں۔ کانگریس نے 1996 کے اسمبلی انتخابات میں 82 سیٹیں بھی جیتی تھیں۔ اور اس کے بعد لیفٹ فرنٹ سے مرکزی کانگریس کمیٹی کے بہتر تعلقات کو لے کر ممتا کی مرکزی کانگریس پارٹی سے ان بن ہو گئی۔ممتا لیفٹ فرنٹ کی مخالفت کر رہی تھیں اوروہ اس اختلاف کو مرکزی سرکار تک لے جانا چاہتی تھیں لیکن مرکزی کانگریس پارٹی ممتا بنرجی کے اختلاف کو مغربی بنگال تک ہی محدود رکھنے کے حق میں تھی۔اب ممتا کی سیاسی خواہش یہاں سومین مترا کے تعلقات میں دراڑ بن گئی۔ ممتا نے سومین مترا کے سامنے ریاستی کانگریس صدر کے عہدے کا دعویٰ پیش کر دیا جس میں ممتا کوشکست ہوئی اور سومن مترا اس الیکشن میں جیتنے میں کامیاب رہے، اس سے ناراض ہو کر ممتا نے نئی پارٹی ترنمول کانگریس بنائی اور آج وہ بنگال میں حکومت کر رہی ہیں۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سچن پائلٹ میں ممتا بنرجی والی انرجی ہے ؟قوت برداشت ہے ؟اور زمین پر اتنی مظبوط پکڑ ہے ؟
راجستھان میں بھی پچھلے کچھ عرصے سے کانگریس کے لیے حالات نہایت نازک ہیں۔ انتخابی سال میں جب کانگریس راجستھان میں دوبارہ اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھ رہی ہے، گہلوت-پائلٹ کشمکش اس کی راہ کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں کے درمیان لفظوں کی جنگ بہت شدید رہی ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے سچن پائلٹ کے لیے غدار کا لفظ بھی استعمال کیا۔ کانگریس صدر کے انتخاب کے دوران پائلٹ-گہلوت کے درمیان جاری دشمنی نے زور پکڑ لیا۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جہاں پائلٹ باغی رویہ اختیار کر رہے ہیں وہیں کانگریس کی اعلیٰ قیادت اشوک گہلوت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
سچن پائلٹ کے رویے کو دیکھ کر سیاسی ماہرین مختلف اندازے لگا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سچن پائلٹ گوجر برادری میں اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے تحت وہ اپنی پارٹی بنانے کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ اور لوگ یہ قیاس کررہے ہیں کہ وہ کسی دوسری پارٹی میں بھی اپنا مستقبل آزما سکتے ہیں۔بی جے پی کے علاوہ عاپ میں بھی ان کی پزیرائی ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ سب قیاس آرائیاں ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ سچن پائلٹ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ لیکن اتنی بات تو کی ہی جاسکتی ہے کہ انتخابی سال میں پائلٹ کا کوئی بھی فیصلہ راجستھان کانگریس کی صحت کو متاثر کرے گا۔












