نئی دہلی 17جولائی سماج نیوز
18 جولائی کو دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی میٹنگ ہونے والی ہے ۔میٹنگ کے سلسلے میں جب یہ خبر آئی کہ اس میں این ڈی اے کی تیس پارٹیاں شامل ہو رہی تو کانگریس صدر کھڑگے نے نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے یہ پوچھا کہ کیا وزیر اعظم ان تیس پارٹیوں کا نام بتانے کی زحمت کرینگے ؟
واضح ہو کہ لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے سیاسی شطرنج کا آغاز ہو چکا ہے۔ جہاں 17 اور 18 جولائی کو بنگلورو میں کانگریس پارٹی کی میزبانی میں 26 اپوزیشن پارٹیاں ایک میگا میٹنگ کے لیے جمع ہوئی ہیں۔وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں 18 جولائی کو ان کے اتحادیوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔
کانگریس صدر کھرگے نے پیر کو اسی سلسلے میں ایک ٹوئیٹ کر کے کہا کہ میں حیران ہوں کہ پی ایم مودی نے ایک بار راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ میں اکیلا ہوں جو تمام اپوزیشن سے زیادہ مضبوط ہوں۔ اگر وہ اکیلے ہی اپوزیشن پر حاوی ہیں تو پھر 30 سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیوں کر رہے ہیں؟ اس کے ساتھ وہ کم از کم ان 30 جماعتوں کے نام ہی بتا دیں۔ کیا وہ جماعتیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ بھی ہیں؟
کھرگے نے مزید کہا کہ کانگریس
اتحاد کے حوالے سے جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے ہیں۔ ہم نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ۔
اس کے ساتھ ہی کھرگے نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ دیکھ کر ڈر گئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، اس لیے وہ اپنی طاقت دکھانے کے لیے پارٹیوں کے دھڑے اکٹھے کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی کے قومی صدر نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کی اہم میٹنگ سے عین قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے تمل ناڈو کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر تعلیم ڈاکٹر کے۔ ہم پونموڈی کے خلاف ای ڈی کے چھاپوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت اپوزیشن کو دھمکانے اور الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔












