جنوبی ہندوستان کے معروف سماجی دانشور پیریار نے کہا تھا ’’کسی سماج کی قوت اس کے تمام افرادکے ساتھ مساویانہ سلوک کرنے کی اس کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے ‘‘۔انڈیا اتحاد کی تشکیل کے وقت اس محاذ میں شامل تمام جماعتوں کے ذہن میں بھی جانے انجانے یہ بات رہی ہوگی ،کیونکہ اصل جو مدعا ہے وہ بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت جمہوری طرز حکومت کی مخالف ہے اور اس کی بنیاد میں ہی نابرابری کا پتھر چنا ہوا ہے۔ مساویانہ سلوک ہونا ہر اس فرد کے ساتھ جو کسی سماج یا گروہ کی اکائی ہو اسی طرح ناگزیر ہے جیسے انسان کا زندہ رہنے کے لئے سانس لینا ۔ہمارا موجودہ معاشرہ بادشاہت کے خلاف بغاوت کی کامیابی سے وجود میں آیا ہے ۔اور اسی لئے اس معاشرے میں نابرابری کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اسی لئے بہت سوچ بچار کے بعد ہمارے قائدین آزادی نے بعد از آزادی ہمارے نظام کی بنیاد سیکولرزم پر رکھی اور عوام کو یہ باور کرایا کہ سیکولرزم ایک سائنسی اصطلاح ہے جو انسانی سماجی ارتقا کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ انقلاب اور جمہوریت کے تصورات کے ساتھ پروان چڑھی ہے ۔اسے ایک ایسا معاشرتی نظام بھی کہا جاتا ہے جس کی بنیاد مذہب کی بجائے سائنس پر ہو اور جس میں ریاستی امور کی حد تک مذہب کی مداخلت کی گنجائش نہ ہو ۔سیکولر نظام میں ریاست کا جدید سماجی منصب ملک کے بنیادی معاشی ڈھانچے میں عوام کے پیداواری تعلقات میں سلیقہ اور آہنگ پیدا کرنا ہے ،نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے ،دوسرے ملکوں سے روابط رکھنا ہے ،معاشی معاشرتی اور سیاسی ،جس سے ملک کے عوام کو خوشحالی اور سماجی انصاف حاصل ہو ۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے یہ بات نکلی کہ جب یہ سب ریاست اور حکومت کا منصب ٹھہرا تو پھر مذہب کو سیاست سے علیحدہ کرنا ہی ہوگا ۔کیونکہ مذہب کا منصب تو یہ ہوا کہ انسان اور اس کے خدا کے درمیان تعلقات کی شناخت کرے ،اور اس کی روحانی تسکین کا سامان فراہم کرے ۔ظاہر ہے یہ وہ مقام نہیں جہاں ریاست کوئی کار نمایاں انجام دے سکتی ہے ۔یہ فرد کا اپنا نجی معاملہ ہے ۔مذاہب بھی ایک نہیں کئی ہیں اور ہر مذہب میں کئی فرقے ہیں ایسے میں اگر مذہب ریاست میں اور ریاست مذہب میں دخل انداز ہونگے تو دونوں کو ہی خطرہ ہے اور عوام کو مصائب کا سامنا کرنا پڑیگا ۔اور یہی وجہ ہے کہ سیکولرزم کا بنیادی اصول یہ طئے ہوا کہ مذہب کو سیاست سے الگ کیا جائے اور سیاست انسانوں کے معاشی تعلقات کو سنوارنے اور ان کی تنظیم سے متعلق رہے ۔
آزادی کے وقت ہمارے قائدین نے جب سیکولرزم طرز حکومت کو اپنایا تو اس وقت ان کے سامنے پوری دنیا کا نقشہ بھی تھا اور مستقبل کی دنیا کو بھی وہ دیکھ رہے تھے کہ آنے والے دور میں سائنسی ترقی کس حد تک جا سکتی ہے ۔اور جب تک ہم اپنے ملک کی فکری سطح کو مذہبی چوکھٹے سے باہر نہیں نکالینگے ہماری ترقی کے امکان محدود ہی رہیںگے ۔
پیریار کا جو جملہ میں نے ابتدا میں تحریر کیا ہے اس میں لفظ مساویانہ اسی ہم آہنگی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں تمہارا تیقہ عبادت تمہیں مبارک میں اپنے طور پر سجدہ کرونگا ۔باقی رہا لین دین، اٹھنا بیٹھنا، پڑھنا لکھنا،کھیلنا کودنا سب ایک ساتھ ہوگا ۔اور نہ تو حکومت کسی کو مذہب کی بنیاد پر چھوٹا بڑا قرار دیگی اور نہ ہمیں بطور شہری یہ حق حاصل ہوگا کہ کسی کو چھوٹا یا بڑا قرار دیں ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ساری باتیں آئین تک محدود ہو کر رہ گئیں اور ایک طبقہ جو جنگ آزادی میں کبھی شامل نہیں ہوا ،مجاہدین آزادی کے خلاف مخبری کی ،ان کے راستے میں قدم قدم پر روڑے اٹکائے اور انگریزوں سے انعام حاصل کرتے رہے بعد از آزادی اس سیکولر نظام کو مذاہب کے خلاف محاذ آرائی قرار دیتے ہوئے اس آئین کو ہی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور بھارت کے لئے ایک ایسے نظام حکومت کی سفارش کی جس کا کوئی تاریخی سراغ کہیں نہیں ہے ۔رام راجیہ ایک ایسا ہی خیالی تصور حکومت ہے جس کو نافذ کرنے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کیونکہ ایسے نظام کو نافذ کرنے کے لئے پورے ملک کو ایک مذہب ماننے کے لئے مجبور کرنا ہوگا ۔جبکہ ہمارےملک میں مذہب تو بڑی چیز ہے اپنی علاقائی شناخت چھوڑنے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔
لیکن فی الوقت برسر اقتدار حکومت کو یہ ضد ہے کہ وہ اس پورے ملک کو ایک رنگ میں رنگ کر دکھائے گی اور یہ ثابت کریگی کہ سیکولرزم کوئی نظریہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس قدیم ہندو فلسفہ جس کا تعلق وید پران اور اپنشد سے ہے وہی فلسفہ دائمی ہے اور اسی کی بنیاد پر نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا نے اھر چلمے کا عہد کر لیا تو پھر یہ پوری دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے ۔وشو گرو بننے کا سارا کھیل یہی ہے لیکن ان نظریہ سازوں کو یہ کون سمجھائے کہ بھائی موجودہ دور میں کوئی بھی ملک یا فرد کسی بھی نظریہ کو قبول کرنے سے پہلے اس کو سائنسی اصول کے میزان پر رکھ کر دیکھتا ہے اور یہ ایک افسوسناک سچ ہے کہ وید ہو پران یا اپنشد ان میں مناجات کے سوا اور کچھ نہیں لہٰذا ان مناجات اور منتر کے بل پر نظام حکومت چلانا مشکل نہیں نا ممکن ہے ۔کل ملا کر سیکولر نظام حکومت کا اس دنیا کے پاس کوئی بدل نہیں لہذا جب تک اس کا متبادل اور اس سے بہتر کوئی نظام ہمیں مل نہیں جاتا ہمیں اسی کو دھو مانجھ کر اس میں شامل ہو گئی برائیوں کو دور کر کے استعمال میں لانا ہوگا ۔
(شعیب رضا فاطمی)












