دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریلوئے نظام بھارت کا ہے جہاں کی اکثریت اسی سفر کے ذریعہ اپنی منزل مقصود تک پہنچتی ہے خاص طور پر غریب طبقہ سے لیکر مڈل کلاس خاندان بلکہ اس سے بھی بہتر خاندان کے لوگ سفر کیلئے ریل کو پہلی ترجیح دیتے ہیں چونکہ یہ ایک سستا آرام دہ سفر ہوتا ہے اور وقت پر مسافرین کو منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اگر چہ کہ یہ نظام بہتر ہو ورنہ اگر کبھی اس نظام میں خلل پڑجائے تو مسافرین میں جان کے لالے پڑجاتے ہیں وقت آزمائش میں ڈال دیتا ہے میزبان مہمان کی آمد کیلئے بے چین ہوجاتے ہیں ضروری کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے بھارت کا ریلوئے نظام اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے جسکی بنیاد بھارت میں انگریزوں نے ڈالی تھی لیکن آزاد بھارت کے 75 سال مکمل ہوچکے ہیں ملک آزادی کا امرت مہو تسو منارہا ہے پھر بھی ان پچھتر سالوں میں اس ریلوئے نظام کو آرائش و آسائش بنانے میں جدید ٹکنالوجی سے لیس بنانے میں حکومتیں ناکام رہی ہیں جسکے سبب بھارت میں ریل حادثات وقفہ وقفہ سے پیش آتے ہیں۔جب سال 2014 میں مودی حکومت دہلی کے تخت پر براجمان ہوئی تب مودی جی نے ریلوئے کی بہتری کیلئے 137 بلین امریکی ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس وقت کے وزیر ریلوئے سریش پربھو نے بھی کئی ایک بلند بانگ دعوئے کیئے تھے کہ ریلوئے کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت اربوں روپیہ خرچ کرے گی لیکن قریب قریب ان دس سالوں میں مودی حکومت نے سوائے بلند بانگ دعوؤں کے علاوہ کچھ نہیں کیا کیونکہ مودی حکومت کی قلعی اس وقت کھل گئی جب اڑیسہ کے بالاسور مقام پر تین ٹرینیں تصادم ہوگئی جسمیں لگ بھگ 288 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور 900 سے زائد زخمی ہوگئے یہ حادثہ تاریخ کا ایک المناک باب بن گیا اس حادثہ کے بعد ڈیجیٹیل انڈیا اور بھارت کی ٹکنالوجی پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئے کہ آخر اتنا بڑا ٹرین حادثہ کس کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے؟اس حادثہ کا زمہ دار کون ہے؟کیوں بھارت کی ٹکنالوجی اس حادثہ کو روکنے میں ناکام ہوگئی؟ماہرین نے اسطرح کے حادثات ہونے کی اہم وجوہات بتائی ہیں ایک تو یہ کہ موسم گرما میں جب درجہ حرارت 40 ڈگری کے پار چلا جاتا ہے تو ریل کی پٹریاں زیادہ خطرناک ہو جاتی ہیں کیونکہ پٹریاں دن کے وقت میں دھوپ کی شدت سے پھیلتی ہیں اور رات میں ٹھنڈ کے سبب سکڑتی ہیں اس پھیلنے اور سکڑنے کے عمل کی وجہہ سے ریل کی پٹریوں میں دراڑیں آجاتی ہیں جو حادثہ کا سبب بن سکتی ہیں دوسری وجہہ ٹکنالوجی کے ناکارہ ہوجانے سے یہ حادثات پیش آتے ہیں جیسے کہ بھارت کے ریلوئے ٹریک میں استعمال کیا جانے والا ایک ڈیوائس ہے جو ایک ٹرین کو ایک طے شدہ دوری پر روکنے میں مدد کرتا ہے اگر کوئی ٹرین یکساں پٹری پر آتی ہے تو آٹومیٹک بریکنگ سسٹم نافذ ہو جاتا ہے اور ٹرین رک جاتی ہے شاید اڑیسہ کے بالاسور میں ایسا نہیں ہو سکا اور ٹرینوں میں تصادم ہوگیا تیسری جو وجہ بیان کی گئی وہ یہ کہ سگنلنگ کے سافٹ ویر کے ناکارہ ہوجانے سے دو ٹرینیں ایک ہی ٹریک پر آجاتی ہیں جو حادثہ کا سبب بن سکتی ہے چوتھی جو وجہ بیان کی گئی وہ فش پلیٹ ہوسکتی ہے دراصل فش پلیٹ دو پٹریوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہےاگر فش پلیٹ ڈھیلی ہوجائے یا اسکے پیچ ناکارہ ہوجائے تو یہ خامی بھی حادثہ کا سبب بن سکتی ہے پانچویں اور آخری وجہ جو ماہرین نے بیان کی ہے وہ یہ کہ ٹیرر اینگل چونکہ اڑیسہ چھتیس گڑھ مغربی بنگال کے علاقوں میں ماؤنواز سے متاثرہ علاقے ہیں اگر کوئی قصداً ریلوئے ٹریک کے فش پلیٹ کھول دیتا ہے تو اسطرح کے حادثے رونما ہوتے ہیں لیکن ان پانچ وجوہات میں بالا سور حادثہ کااصل سبب کہیں نہ کہیں تکنیکی خامیوں کے باعث ہی ہوا جسکی زمہ دار حکومت ریلوئے وزیر اور محکمہ ریلوئے ہی ہوسکتا ہے ۔
مرکزی وزیر ریلوئے اشونی ویشنو نے مقام حادثہ پہنچ کر اعلی سطحی جانچ کا حکم دیا جسکی رپورٹ آنے کے بعد پتہ چل جائے گاکہ اس حادثہ کی اصل وجہ کیا تھی لیکن ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مرکزی وزیر ریلوئے اتنے بڑے حادثہ کے بعد فوری اپنی وزارت سے مستعفی ہوجاتے کیونکہ یہ ایک اخلاقی زمہ داری بھی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا لال بہادر شاستری جب وزیر ریلوئے تھے اور ایک ریلوئے حادثہ پیش آنے کے بعد انھوں نے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے اور اخلاقی طور پر زمہ داری کو قبول بھی کیا تھا بھارت کی عوام کی اتنی اچھی قسمت کہاں کہ انھیں ایماندار سیاستداں نصیب ہوسکے دلچسپ بات تو یہ بھی ہیکہ موجودہ حکمرانی کے بیشتر وزراء کو بھارت کی عوام جانتی تک بھی نہیں ہے کیونکہ ہر شہر،ہر کام، ہر افتتاح، ہر مہم، میں صرف مودی جی کی تشہیر ہوتی ہے حتی کہ وندے بھارت ٹرین کا ملک بھر کے الگ الگ مقامات پر آغاز کیا جارہا ہے لیکن کہیں بھی ریلوئے وزیر کا چہرہ دیکھنے میں نہیں آیا اور شائد اڑیسہ ریل حادثہ سے قبل ریلوئے وزیر سے ملک کی اکثریت ناآشنا تھی اسی وجہ سے ہر ٹرین کو مودی جی جھنڈی دکھاکر روانہ کرتے ہیں لیکن جب بالاسور ریل حادثہ پیش آتا ہے تو مودی حکومت کی منطق ظاہر ہوجاتی ہے اور وزیر ریلوئے کو سامنے پیش کرتے ہوئے جوابدہ بنادیا جاتا ہے اور مودی جی بظاہر صرف مقام حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا کی سرخیوں کو بٹورتے ہوئےاپنی زمہ داری ادا کرنے والے بن جاتے ہیں اور جانبدار میڈیا بھی اس دورے کی خوب تشہیر کرتا ہے لیکن افسوس کے گودی میڈیا مہلوکین اور ورثاء پر حکومت کو فوقیت دے رہی تھی کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ حکومت سے سوال کرے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے ریکارڈ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں ٹرین حادثات میں تقریباً 2.6 لاکھ لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جسمیں 70 فیصد افراد ٹرین کی زد میں آکر یا ٹرین سے گرنے سے ہلاک ہوئے این سی آر بی کی رپورٹ یہ بتاتی ہیکہ ہر سال 20 تا 25 ہزار اوسطاً افراد ٹرین حادثہ کا شکار ہوتے ہیں ہاں سال 2020 میں ٹرین حادثات میں بھاری کمی واقع ہوئی تھی جسکی وجہ کورونا وباء تھی کیونکہ ریلوئے سفر بند تھا جسکے سبب ٹرین حادثات اوسطاً تناسب بہت کم رہا لیکن اچانک یہ تناسب سال 2021 میں بڑھ جاتا ہے ریلوئے حادثات کو این سی آر بی پانچ وجوہات میں درجہ بندی کرتا ہے ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہونا،ٹرین سے گرکر،آگ کالگنا، ٹرینوں کا آپس میں تصادم،پٹری سے اترنا،و دیگر شامل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے ریلوئے نظام میں تساہلی سے کام لینا کہاں تک صحیح ہے؟سوال یہ بھی ہیکہ صرف تکنیکی خرابی کا نام دے کر کوئی بھی اپنی زمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا؟ بلکہ حکومت ہو کہ محکمہ ریلوئے اپنے اندر احساس زمہ داری کو پیدا کرتے ہوئے تکنیکی خرابیوں کو دور کرے صرف وندے بھارت کا آغاز کرکے ریلوئے کی ترقی کا بھدا مذاق نہ بنائے بلکہ پورے ریلوئے نظام کو بہتر بنانا حکومت کی اولین زمہ داری ہے چونکہ ہر روز کروڑوں عام افراد ریل کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں جنکا تحفظ کرنا سہولتیں فراہم کرنا اور سفر کو سہل بنانا بھی حکومت کی زمہ داری ہے ورنہ اگر ایسے ہی ریلوئے کےحادثات کسی خامی کی وجہ سے پیش آتے رہیں تو سوال حکومت اور ریلوئے پر یہی اٹھے گا کہ ان عام افراد کی جانوں کا زمہ دار کون ہوگا؟
انسانی جانوں کے ناقابل تلافی نقصان پر صرف سوگ منانے اور حکومت کے آنسوؤں سے کسی کی جان واپس تو نہیں آسکتی سینکڑوں خوشحال گھر ماتم میں تبدیل ہوگئے، کوئی باپ کے شفقت بھرے سایہ سے محروم ہوگیا تو کوئی ماں کے آنچل سے، کسی کی گود خالی ہوگئی تو کوئی بھائی بہن جیسے مضبوط رشتہ سے محروم ہوگیا الغرض کے کوئی بھی سونچے بناء اپنے سجائے گئے ادھورے خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلاگیا اس حادثہ سے حکومت کو اور محکمہ ریلوئے کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ دوبارہ کوئی ایسا حادثہ تکنیکی خامی یا لاپرواہی کی وجہ سے پیش نہ آئے ورنہ ناکام حکمرانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سرفراز احمد












