ہندوستانی سماج میں خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو ہر مذہب کے اپنے اپنے رسم و رواج ، طور طریقے، رہن سہن تہذیب و ثقافت الگ الگ ہیں خاص طور پر ہمارے ملک کی اہم ترین اگر رسم ہے تو وہ ہے شادی بیاہ تقاریب یا ازدواجی زندگی کا بندھن یہ وہ رسم ہے جو کسی بھی مذہب اس سے مستثنیٰ نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ مسلم معاشرے میں شادی ایک معاہدہ ہے ہندو سماج میں شادی کو سنسکار مانا جاتا ہے اسی طرح دیگر مذاہب میں بھی شادی کے الگ الگ مقاصد اور طور طریقے ہیں لیکن کسی بھی مذہب میں بغیر شادی کے ازدواجی زندگی کا کوئی دوسرا تصور دور دور تک بھی موجود نہیں ہے بلکہ عزت و احترام کی زندگی بھی اسی بندھن کے بعد میسر آتی ہے لیکن اگر کوئی اسکے برخلاف جاکر بے راہ روی اختیار کرتا ہے یا والدین اور خاندان کی مرضی کے خلاف جاکر شادی رچاتا ہے تو اسکو اسکے ماحول میں رسوا اورذلیل ہونا پڑتا ہے لوگ طعنے دیتے ہیں اسکو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ دراصل ہندوستانی سماج کے روزمرہ کے طور طریقے ہیں لیکن اگر کوئی بالغ لڑکا لڑکی بغیر شادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں تو ایسے رشتے کو ہندوستانی سماج قطعی بھی قبول نہیں کرسکتا اور نہ سماج میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا بلکہ عام لفظوں میں اسکو ناجائز رشتہ اور گناہ عظیم بلکہ زنامانا جائے گا۔
گذشتہ چند دنوں سے شردھاوالکرکے قتل کو لیکر بحث چھڑی ہوئی ہے جسکا قاتل آفتاب امین ہے دراصل یہ دونوں کا رشتہ لیو ان ریلیشن شپ کا تھا کیونکہ انہوں نے نہ کسی مذہب کے مطابق شادی کی تھی نہ کورٹ میریج بلکہ یہ دونوں بناءشادی کے ہی ایکدوسرے کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہتے تھے جسکی آزادی نہ کسی مذہب کی طرف سے دی گئی ہے نہ والدین کی طرف سے بلکہ یہ آزادی اور حق لیو ان ریلیشن شپ نے دیا ہے جس کی کھلی چھوٹ ہمارے ملک کی عدالت عالیہ اور اسکا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہیکہ ایک بالغ لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے غیر مشروط وغیر رسمی ازدواجی زندگی گذارنا چاہتے ہیں تو انھیں اسکی اجازت حاصل رہے گی اب چاہے اس رشتہ کیلئے والدین اور سماج بھی مخالف ہوں تو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ کہ لڑکا اور لڑکی راضی ہوں کیونکہ یہ انکی انفرادیت کا معاملہ ہے اور قانون اس چیز کو انکا حق مانتاہے حتی کہ ایسے رشتہ کو ہر طرح کا حق حاصل رہے گا اور ہر طرح کا تعلق بنانے کا بھی حق حاصل ہے بلکہ ان سے ہونے والی اولاد بھی قانون کی نظر میں جائز اور حلال کہلائے گی بلکہ یہ رشتہ مختصر مدت یا طویل مدت بلکہ مستقل طور پر بھی قائم رکھنے کی بھی اجازت دیتاہے لیکن اکثر سنا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں بیشتر ایسے رشتے بہت کم عرصہ کیلئے قائم کیئے جاتے ہیں جن کو دنیا بڑی ہستیوں میں یاcelebrities کے طور پر شمار کرتی ہے وہ ایسے رشتوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں ہمارے ملک میں بھی ایسے ان گنت واقعات ماضی میں ہوچکے ہیں جنکے نقش قدم پر دنیا کی عام عوام چلنا چاہتی ہے جو سوائے خسارہ کے سودا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے چونکہ ایسے واقعات کے بعد چاہے کوئی بھی ہو وہ ذہنی طور پر تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور بات آگے بڑھ کر خودکشی یا قتل تک جا پہنچتی ہے جو رشتہ کسی بھی خاندان مذہب اور سماج سے الگ تھلگ کردیتا ہو وہ رشتہ اسکے خاندان مذہب اور سماج کیلئے قبول کرنا انتہائی نا ممکن سی بات ہے لیکن وہی رشتہ ہمارے ملک میں قانون کی نظر میں جائز مانا جائے گا۔
جس طرح سے شرادھا کا قتل ہوا ہے وہ یقینا اپنے آپ میں انتہائی شرمناک حرکت ہے قاتل کو اسکے اس جرم کی معقول سزا بھی ہونی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ اس انتہائی اقدام کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کونسی چیز نے قاتل کو قتل کرنے کا موقع فراہم کیا؟جسکا جواب اور قتل کی وجہ صرف اور صرف لیو ان ریلیشن شپ ہی اسکا اصل خمیازہ ہے لیکن اس سنگین جرم کو بھی سیاستداں اپنی سیاسی روٹی کا حصہ بنارہے ہیں اسکو لوجہاد سے جوڑ رہے ہیں سچائی یہ ہے کہ مجرم کو مذہب کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا اور نہ دیکھنا چاہئے بلکہ مجرم کو مجرم کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے آج مجرم مسلم ہے کل اسکی جگہ ہندو بھی ہوسکتا ہے جسکی سزا ملک کا قانون طے کرے گا لیکن جس طرح آفتاب کو لے جانے والی پولیس ویان پر ہندو سینا کے دس کارکنان نے ننگی تلواروں سے حملہ کیا ،کیا وہ قانون کی رو سے درست ہے؟جبکہ وہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہم اسے مار ڈالیں گے اگر ان ہی کی جگہ کوئی مسلم افراد لاٹھی بھی لیکر حملہ کرتے تو میڈیا اسے دہشت گرد ثابت کرنے میں اپنے شب وروز لگادیتی لیکن ان حملہ آوروں پر نہ کوئی دباؤ بنایا گیا نہ انھیں ابھی تک مجرم بنایا گیا نہ کوئی دھماکہ خیز بریکنگ نیوز دیکھنے کو ملی سوال یہ بھی ہے کہ ایک فرد کے جرم کے عوض پورے مذہب کو بدنام کرنا یہ کونسی حماقت ہے اگرچہ معاملہ اسکے برعکس ہوتا یعنی لڑکی مسلم ہوتی اور لڑکا ہندوہوتا تو اس کو کس جہاد کا نام دیا جاتا؟ اگر ان دونوں کے رشتہ کو مذہبی و سماجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس رشتہ کو دونوں خاندانوں سے کسی کی بھی سرپرستی حاصل نہیں تھی اور نہ اسکا کوئی ذمہ دار تھاکہا جاتا ہے جن رشتوں کی بنیاد کھوکھلی ہو وہ رشتے بکھر جاتے ہیں لیکن جن رشتوں کی بنیاد ہی نہ ہو تو وہ رشتے ایسے ہی جرائم کا سبب بنتے ہیں نہ جانے اور کتنے ایسے کھوکھلے رشتے جو پوشیدہ طور پر بنائے جارہے ہوں اور کل کاکیا پتہ کہ کونسا واقعہ پھر منظر عام پر آجائے۔
آزادی اور حقوق کے نام پر ہمارا ملک مغربی تہذیب کی مکمل پیروی کررہا ہے جس سے صدیوں پرانے ہندوستانی سماج کی تہذ یب زہر آلود بن رہی ہے 140 کروڑ آبادی والے سماج کے تعاون کے بغیر اسطرح کا قانون بنانا سماج کو تباہی کے دہانے پہنچانے کے مترادف ہے کیونکہ ایسے درجنوں واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ابھی چار روز قبل دہلی میں شردھا جیسا قتل کا ایک اور واقعہ پیش آیا، ایسے واقعات اور مستقبل میں بھی آتے رہیں گے اور تب تک آتے رہیں گے جب تک برائی کو برائی تسلیم نہ کیاجائے ،کیونکہ ایسی آزادی کی آڑ میں گھناؤنے جرائم پیش آنا عام سی بات ہے بلکہ ایسے غیر رسمی رشتوں کی وجہ سے حقیقی رشتے بھی پامال ہوتے ہیں۔ اگر فرض کرلیا جائے کوئی بالغ لڑکا لڑکی اپنی مرضی کے بغیر شادی کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں اور انکی زندگی بھی خوشگوار طریقے سے گذر رہی ہولیکن کیا سماج ایسے رشتوں کو قبول کرپائے گا؟کیا افراد خاندان اس رشتہ کو قبول کرسکیں گے؟کیا آنے والی نسلوں کا کوئی خاندانی وجود باقی رہے گا؟کیا ایسی نسل کو خاندان کی محبت مل پائے گی؟یقینا ہر ایک کا جواب نفی میں رہے گا بلکہ اس سے بھی بڑا نقصان ملک کے تنوع کو ہوگا۔ شردھا اور آفتاب کے معاملہ پر ہی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ایک جرم نے ہندو مسلم میں کشیدگی پیدا کردی ہے جسکے اثرات پورے سماج بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوئے ہیں حتی کہ ایسے واقعات کا سیاسی قائدین بھی فائدہ حاصل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے بات یہیں نہیں رکتی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھی نکل جاتی ہے یہی قانون جو بغیر شادی کے ساتھ رہنے کی آزادی فراہم کرتا ہے وہی قانون پھر ایسے جرائم کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ڈالے گا جس میں نقصان لڑکا اور لڑکی کے ساتھ ساتھ دونوں خاندانوں کا ہی ہوگا۔ لہٰذا شادی ہی ایک ایسا بندھن ہے جس میں زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا اور مسائل پر اسکا بہترین حل بھی نکالا جاسکتا۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا اتفاق ضروری نہیں ہے)












