اڈانی معاملہ الجھتا چلا جا رہا ہے اور بات اب سیدھے سیدھے سرکار کی نیت تک پہنچ رہی ہے۔ایک طرف پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن 2،چوتھے دن بھی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور دوسری طرف ملک کا ایک بڑا اخبار اور پورٹل ایسی ایسی خبریں دے رہا ہے جس کو پڑھ کر یہ احساس شدید ہوتا جا رہا ہے کہ اڈانی گروپ پر لگائے گئے الزامات سنگین سے سنگین تر ہیں۔لیکن ان تمام شکوک و شبہات کو درکنار کر کے الزام لگانے والوں کو خاموش کردینے کی قوت جس کے پاس ہے وہ خاموش تو یہ شک اور گہرا ہوجاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے۔کسی شخص سے اس کے والد کا نام پوچھنا اگر خلاف تہذیب نہیں ہے اور ہمارے معاشرے میں عام ہے تو پھر ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو والد کا نام پوچھتے ہی برہم ہو جاتا ہے اور مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے؟
گوتم اڈانی پر الزام لگانے والوں کی حیرت میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب یہ خبر آئی کہ گوتم اڈانی کے پیچھے صرف موجودہ سرکار ہی نہیں بلکہ کوئی ایسی قوت بھی کھڑی ہے جس کا تعلق بظاہر ماریشس سے ہے لیکن الارا نام کی اس کمپنی کا اصل مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں معلوم۔ ہمیں صبربھی آجاتا اگر گوتم اڈانی کی کمپنی صرف آٹا چاول کی کمپنی ہوتی او راس کے رشتے دنیابھر کی کمپنیوں اور شیئر مارکیٹ سے ہوتے۔تشویش تو یہ ہے کہ ہماری سرکار نے اڈانی کی کمپنی کو ڈی آر ڈی او جیسی ڈیفنس ایکویپمنٹ بنانے والی معتبر سرکاری کمپنی سے تقریباً سارا کام لے کر اڈانی کی کمپنی کو سونپ دئے ہیں اور سرکار کو یہ معلوم نہیں ہے کہ گوتم اڈانی کو فائنانس کرنے والی کمپنی کا اصل مالک کون ہے ؟اور جب پارلیمنٹ میںاس پر بحث کرنے اور جے پی سی بنانے کی بات کی جاتی ہے تو برسر اقتدار جماعت کو پتنگے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ بی جے پی کی موجودہ سرکار ظاہر یہی کرتی ہے کہ قومی مفاد کے سلسلے میں وہ کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔اور فی الوقت بھی وہ کانگریس کے ممبر آف پارلیمنٹ راہل گاندھی پر یہی الزام لگا رہی ہے کہ انہوں نے ملک کے باہر جا کر اندرون ملک میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات کھڑے کئے اور ملک کے وقار کو مجروح کیا۔
گالی کے جواب میں گالی دینے کی یہ روایت بھی بی جے پی کی اپنی اختراع ہے لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ اس کے اس رویہ سے جمہوری طرز حکومت کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور راہل گاندھی نے انگلینڈ میں بھی بی جے پی کے اسی رویہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔یہ بات کسی کی سمجھ میں کیسے آ سکتی ہے کہ حزب اختلاف کی وہ 19سیاسی جماعتیں جو انتخابی ضرورت کے پیش نظر بھی ایک محاذ بنانے کو تیار نہیںہیں۔ راہل گاندھی کے بیان کی حمایت میں کھڑی ہوکر پارلیمنٹ سے ای ڈی کے دفتر تک مارچ کریں۔صاف ہے کہ موجودہ سرکار جانتی ہے کہ اڈانی معاملے پر کسی بھی قسم کی تفتیش نہ صرف اڈانی کے لئے نقصاندہ ہے بلکہ موجودہ سرکار کو بھی پریشانی میں ڈال سکتی ہے۔ڈیفنس سے جڑی کسی بھی کمپنی کے بیک گراؤ نڈ کی چھان بین کے سوال کو سرے سے نظر انداز کرنے کی پالیسی بی جے پی سرکار اور اس کے ارادے کو شک کے گھیرے میں ڈالتے ہیں،اور ایسی حالت میں تو اس کی اشد ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ملک کے لوگوں کو اعتماد ہو کہ ہماری سرکار کے سامنے اقتدار اور پارٹی کی پالیسی قومی مفاد سے بڑی نہیں ہے۔اڈانی پر یہ سوالات اٹھائے ہی اس وقت گئے ہیں جب ہنڈن برگ کی رپورٹ سامنے آئی ہے ورنہ راہل نے تو بہت پہلے یہ کہ دیا تھا کہ ہمارے وزیر اعظم کا یہ موقف ملک کے مفاد میں نہیں ہے کہ کسی ایک یا دو کمپنی کو سرکار اپنا سارا اثاثہ بیچ دے یا ٹھیکہ پر دے دے۔لیکن راہل گاندھی کے اس موقف کو ملک کی دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔لیکن اب جب سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ معاملہ سیاست سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کا ہے ،تو پھر وہ سب مل کر سرکار سے اس معاملے کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے سپرد کرنے کی مانگ کر رہے ہیں اور بی جے پی اڑی ہوئی ہے کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک کمپنی کو بچانے کے لئے پوری سرکار کی ساکھ کو داؤ پر لگا دینے ،اور تمام حزب اختلاف کی آواز کو دبا دینے کی اسی عادت کا نام فاشزم ہے۔کسی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔
جے پی سی کسی سزا کا نام نہیں ہے کہ اس کے قیام سے سرکار کی بدنامی ہوگی عین ممکن ہے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ اڈانی کے حق میں آئے اور بی جے پی پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور فرضی نکلیں ،پھر تو مودی جی پر عوام کا اعتماد مزید پختہ ہو سکتا ہے ایسی صورتحال میں سرکار کو تو آگے بڑھ کر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی بنا دینی چاہئے۔لیکن وہ ایسا کر نہیں رہی ہے،یہاں تک کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں سارا کام معطل پڑا ہوا ہے اور کروڑوں روپئے روز سرکاری خزانے کا ضائع ہو رہا ہے۔دوسری طرف میڈیا نہ چاہتے ہوئے بھی اس ایشو کو دبا نہیں سکتی بات پھیل رہی ہے اور ملک کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ سرکار حزب اختلاف کے ساتھ وہی رویہ اختیار کئے ہوئے ہے جو رویہ غلامی کے دور میں زمینداروں کا ہوتا تھا کہ اگر زمیندار کی اولاد کسی غریب کے ساتھ زیادتی بھی کر دے تو پنچایت زمیندار کے بیٹے کے حق میں ہی فیصلہ سناتی تھی اور غریب کسان کو بھری پنچایت میں معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔بہر حال سرکار کے خلاف اپوزیشن کی یہ جنگ جتنی طویل ہوگی سرکار اور اور نریندر مودی کی ساکھ کو اتنا ہی نقصان ہوگا۔












