ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو اگر محض ایک حالیہ جنگ یا وقتی تصادم سمجھا جائے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوگی، کیونکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی، سیاسی اور تہذیبی پس منظر کارفرما ہے۔ یہ کشمکش دراصل دو مختلف نظام ہائے فکر، دو متضاد تہذیبوں اور دو الگ عالمی تصورات کے درمیان ایک مسلسل ٹکراؤ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتیں ہیں جو اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، اور دوسری طرف ایران ہے جو خود کو ایک خودمختار، دینی شناخت رکھنے والا اور بیرونی تسلط سے آزاد ریاست کے طور پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔
ایران کی موجودہ پالیسیوں اور اس کے مزاحمتی کردار کو سمجھنے کے لیے ہمیں شاہِ ایران کے دور کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ محمد رضا شاہ پہلوی کا زمانہ بظاہر ترقی اور جدیدیت کا دور کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا دور تھا جس میں عوامی آزادیوں کو سلب کیا گیا، دینی اقدار کو پامال کیا گیا اور مغربی طاقتوں کے مفادات کو ایرانی قوم پر مسلط کیا گیا۔ شاہ نے ”وائٹ انقلاب” کے نام سے جو اصلاحات نافذ کیں، انہیں ترقی کا نام دیا گیا، مگر ان کے اثرات ایرانی معاشرے کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوئے۔ان اصلاحات کے ذریعے بظاہر عورتوں کو آزادی دی گئی، لیکن درحقیقت یہ آزادی ایک خاص مغربی طرزِ زندگی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن گئی، جس میں حیا، پردہ اور خاندانی نظام کو کمزور کیا گیا۔ ایرانی معاشرے میں فحاشی و عریانی کو فروغ ملا، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کو ترقی کا معیار قرار دیا گیا اور نوجوان نسل کو اپنی دینی و ثقافتی جڑوں سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ نشہ آور اشیاء کے استعمال میں اضافہ ہوا، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جو ظاہری چمک دمک کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا تھا۔
سیاسی میدان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین تھی۔ شاہ کی حکومت ایک سخت گیر آمریت پر مبنی تھی جس میں اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ خفیہ پولیس ”ساواک” کے ذریعے علماء، دانشوروں اور سیاسی مخالفین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہزاروں افراد کو قید کیا گیا، اور کئی لوگوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔ مساجد اور دینی مراکز پر نظر رکھی جاتی اور مذہبی قیادت کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی۔ ایسے ماحول میں عوام کے اندر غم و غصہ بڑھنا ایک فطری امر تھا۔ایرانی تیل کے ذخائر پر مغربی ممالک خاص طورپر امریکہ کا کنٹرول ہوگیا۔تیل نکالنے سے لے کرریفائن کرنے تک کے تمام امور امریکی کمپنیاں انجام دینے لگیں ۔شاہ ایران نے اپنی عوام پر بے اعتمادی کا مظاہرہ کیا تو عوام کا بھی اعتماد ختم ہوگیا اور شاہ کے خلاف عوام کا احتجاج بڑھنے لگا ۔ایک دن شاہ کی فوج نے احتجاجیوں پر گولیاں چلادیں اور بے شمار لوگوں کو قتل کردیا ۔جس کے نتیجہ میں احتجاج پورے ملک میں پھیل میں گیا ۔شاہ کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔اس نے بھاگ کر آخر کار امریکہ میں پناہ حاصل کی ۔وہاں اس کی کینسر سے موت ہوگئی ۔اب اس کا بیٹا امریکہ کی گود میں بیٹھا ہوا ہے اور امریکہ نے اسے ایران کی بادشاہت کا خواب دکھا رکھا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، شاہ کی اس ظالمانہ حکومت کی پشت پناہی کیوں کر رہے تھے؟ اس کا جواب ان کے مفادات میں پوشیدہ ہے۔ ایران نہ صرف تیل کے وسیع ذخائر کا حامل ہے بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی ایک نہایت اہم مقام پر واقع ہے۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ کے لیے یہ ضروری تھا کہ ایران اس کے اثر و رسوخ میں رہے تاکہ سوویت یونین کے خلاف ایک مضبوط مورچہ قائم رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے لیے بھی ایران کا مغرب نواز ہونا اس کے لیے بہت فائدے مند تھا، کیونکہ اس طرح خطے میں ایک ایسا اتحادی موجود تھا جو اس کے مفادات کے خلاف مزاحمت نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ مغربی طاقتوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں اور عوامی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے شاہ کی مکمل حمایت جاری رکھی۔
یہی وہ حالات تھے جنہوں نے ایران میں خمینی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک تھی جس کا مقصد مغربی تسلط کا خاتمہ، دینی اقدار کی بحالی اور قومی خودمختاری کا حصول تھا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس انقلاب کو دل و جان سے قبول کیا، کیونکہ وہ اسے اپنے ایمان، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کی حفاظت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایرانی معاشرے میں آج بھی ایک بڑی اکثریت اس انقلاب کو اپنی آزادی اور خودمختاری کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔
موجودہ جنگ یا کشیدگی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایران اپنے آپ کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنی سرزمین، اپنی خودمختاری اور اپنے نظریات کا دفاع کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اس کی پالیسیوں کو اپنے لیے خطرہ قرار دے کر اس کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اگر اس صورتحال کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خطے میں بار بار مداخلت، اقتصادی پابندیاں، خفیہ کارروائیاں اور فوجی دباؤ زیادہ تر مغربی طاقتوں کی طرف سے آیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے ایک مزاحمتی پالیسی اختیار کی ہے۔
جمہوری و انسانی نقطہ نظر سے دفاع ایک جائز حق ہے۔ اگر کسی قوم پر حملہ کیا جائے یا اسے دبانے کی کوشش کی جائے تو اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ قرآن مجید میں بھی مظلوم کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اصول کی روشنی میں اگر ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑا ہواہے تو یہ عین جمہوری ،انسانی اوراسلامی تعلیمات ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہے۔اس کے برخلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نہ کسی اخلاقی اصول سے مطلب ہے اورنہ انسانی حقوق کے کسی چارٹر سے۔یہاں تک کہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت سے بھی انھیں کوئی لینا دینا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک اکثر اپنے مفادات کے لیے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے نعرے اس وقت کمزور پڑ جاتے ہیں جب بات اسٹریٹجک مفادات کی ہو۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک طرف اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف اس کے مخالفین کی حمایت کی جاتی ہے، چاہے وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں۔
اس تمام صورتحال میں ایک باشعور انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ تو محض جذبات کی رو میں بہے اور نہ ہی یک طرفہ بیانیوں کا اسیر ہو، بلکہ تاریخ، حقائق اور اصولوں کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرے۔ ایران کا موقف بہت سے لوگوں کے نزدیک ایک مزاحمتی اور دفاعی موقف ہے، جو مغربی تسلط کے خلاف ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ مغربی دنیا اسے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرتی ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ سرگرمی خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے، بلکہ بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے بھی اب تک اس کی واضح تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ جو ملک خود ایٹمی طاقت کا حامل ہے اور ماضی میں ہیروشیما و ناگاساکی پر ایٹم بم حملے جیسے ہولناک اقدام کا مرتکب ہو چکا ہے، اسے یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ دوسروں کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے یا ان کے پروگرام کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایران کی تاریخ میں کسی دوسرے ملک کے خلاف کھلی جارحیت کی کوئی واضح مثال موجود نہیں، جبکہ امریکہ کی تاریخ ایسے متعدد واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اگر جوہری ہتھیار بنانا اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ناجائز اور خطرناک ہے تو پھر اس کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، اور دنیا میں کسی بھی ملک کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اور اگر چند ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار رکھیں، تو پھر دیگر ممالک کو بھی اس حق سے محروم رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔اس تناظر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایران نے(NPT)Nuclear Non-Proliferation Treatyپر دستخط کر رکھے ہیں اور اس کا ایٹمی پروگرام(IAEA) International Atomic Energy Agency کی نگرانی میں ہے، جبکہ اسرائیل نہ تو اس معاہدے کا حصہ ہے اور نہ ہی وہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اپنے جوہری مراکز تک رسائی دیتا ہے۔
حالیہ جنگ سے جہاں ایران کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے وہیں امریکہ و اسرائیل کا بھی کم نقصان نہیں ہورہا ہے ۔امریکہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ اس کی عزت دائوں پر لگ گئی ہے ۔اس کی سپریمیسی پر خطرہ منڈراہا ہے ۔دنیا پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ اپنے اور اسرائیل کے مفاد کے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے ۔جب کہ ایران کی حمایت میں اضافہ ہواہے ،وہ جس طرح اپنے مخالفین پر حملہ کررہا ہے اسے دیکھ کر دنیا ششدر ہے ۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم باب ہے۔ اس میں جہاں طاقت اور مفاد کی کشمکش ہے، وہیں نظریات اور تہذیبوں کا تصادم بھی شامل ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا جنگ کے بجائے امن، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں کو فروغ دے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچا سکتا ہے اور ایک بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
امن پسندوں کی ذمہ دارای ہے کہ وہ حق پسند بھی بنیں ۔امن خواہ دوملکوں کے درمیان ہو یا دو لوگوں کے درمیان اس کی بنیاد انصاف ہی ہے ۔جہاں ظلم ہوگا وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔جنگی ہتھیاروں کے ذریعہ آپ کسی مزاحمت اور احتجاج کو کچھ وقت کے لیے روک سکتے ہیں ،مگر ختم نہیں کرسکتے ۔اس ضمن میں امریکہ کو گزشتہ اسی نوے سال میں اہم تجربات حاصل ہوچکے ہیں ،کیوں کہ اس نے سپرپاور ہونے کے زعم میں درجنوں ملکوں پر حملہ کیا ہے اور کئی ملکوں سے ذلیل ہوکر نکلا ہے ۔امید ہے کہ ایران کی حالیہ جنگ اس کے لیے آخری جنگ ثابت ہوگی اور امریکہ کا جنگی جنونی بیڑہ خلیج فارس میں ڈوب جائے گا ۔دانش مندی کاتقاضا یہی ہے کہ اس ڈوبتے جہاز سے اترلیا جائے اور اخلاقی بلندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں مظلوم کا ساتھ دیا جائے ۔












