
یونانی طریقہ علاج کا ماخذ عربی اور فارسی لٹریچر ہے اور اس کا بنیادی نظریہ اخلاط اربعہ (بلغم، خون، صفرا اور سودا) جو انسانی بدن کی بنیاد ہیں اور ان سے پیدا شدہ مزاج پر قائم ہے۔ چنانچہ جب یہ اخلاط اعتدال پر قائم رہتے ہیں انسان کا مزاج بھی معتدل رہتا ہے اور اسی کا نام صحت ہے اور جب یہ اخلاط کسی اندرونی یا بیرونی اثر کے سبب اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں تو انسان کا مزاج بھی اعتدال میں نہیں رہتا اور یہی صورت حال بیماری سے تعبیر کی جاتی ہے جسے اعتدال پر لانے کے لیے مناسب دوا و غذا اور ترکیب کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی کا نام علاج ہے۔ جو ایک طبیب کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ بدنِ انسان کا یہ نظام ایک قوت کے ذریعہ انجام پاتا ہے جسے قوت مدبرہ بدن، مناعت یا امیونٹی کہتے ہیں۔
ان دنوں پوری دنیا میں قدرتی علاج پر خوب زور دیا جا رہا ہے ۔اور یہ کہا جا رہا ہے کہ صحت مند شہری ،صحتمند معاشرہ بناتا ہے ۔اور صحت مند معاشرہ ہی ملک کی بنیاد بنتا ہے ۔جس میں صحت مند سوچ پروان چڑھتا ہے اور پھر پورے ملک کو صحت مند قرار دیا جاتا ہے ۔یونانی ڈرگس مینو فیکچرار ایسوسی ایشن صرف دوائی بنانے والوں کا اجتماعی پلیٹ فارم نہیں ہے ایک صحت مند معاشرے کا خواب دیکھنے والوں کا مشن ہے ۔جس میں شامل ہونا ہر مہذب شہری کا فرض ہے ۔
یونانی میڈیسین کے ذریعہ علاج یا یونانی طریقہ علاج ایک مکمل طبی نظام ہے ۔اس طریقہ علاج کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی شخص کی مکمل شخصیت کا مطالعہ کر کے اس کے مزاج کو قبول کرنے والے دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار کی گئی دوائیں دی جاتی ہیں ۔یونانی ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ انسانی مزاج کے توازن کے قائم نہ ہونے سے ہی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔یا ان میں اضافہ ہوتا ہے ۔اس لئے یونانی ڈاکٹر انسانی مزاج کا توازن بحال کرنے والی دوائیں تجویز کرتے ہیں اور پھر اس بیماری کو جڑ سے ختم کرتے ہیں ۔
موجودہ ترقی یافتہ دور میں انسانوں کے پاس اپنی صحت پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہوتا ہے ۔ایسے میں ان کی بیماریوں میں اضافہ کا ہونا فطری ہے کیونکہ انسانی جسم نہایت گنجلک اور بڑی مشین ہے جس کی مناسب دیکھ بھال اور رکھ رکھاؤ بھی اتنی ہی توجہ طلب ہے ۔انگریزی دواؤں سے فوری ریلیف تو مل جاتی ہے لیکن دیرپا اور مستقل علاج کے لئے انگریزی میں آپریشن ہی بھروسہ مند علاج ہے ۔انگریزی دواؤں کے استعمال کا سائڈ افیکٹ بھی مہلک ہوتا ہے اور شاید ہی انگریزی کی کوئی دوا ہو جس کا سائیڈ افیکٹ نہ ہو ۔جبکہ یونانی طریقہ علاج کےذریعہ ری ایکشن کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ۔اس کی دوائیں بھی چونکہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے بنائی جاتی ہیں اس لئے وہ فائدہ نہ ہونے کے باوجود جزو بدن ہو جاتی ہیں یا فضلہ یا پیشاب کے ذریعہ باہر نکل جاتی ہیں ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان دنوں ہربل کا استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قدرتی علاج کے نئے نئے راستے بھی تلاش کئے جا رہے ہیں اور حکومت نے ان قدرتی طریقہ علاج کے لئے ایک وزارت ہی تشکیل دے دی ہے جسے وزارت "آیوش”کہا جاتا ہے اور جس میں یونانی اور آیوروید سمیت تمام قدرتی علاج شامل ہیں۔یہ وقت کی مانگ ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی ۔کیونکہ ترقی کے اس دور میں جس تیزی سے یوروپین کلچر نے ہمارے تمام شعبہ زندگی پر حملہ کیا ہے وہیں کھانے پینے کی اشیا میں بھی تبدیلی ہوئی ہے ۔چاکلیٹ اور ٹافیوں سے لے کر ،پزہ برگر تک اور چائینیز سے لے کر کورین اور تھائی ڈشوں تک ہمارے کچن میں داخل ہو چکے ہیں ۔ان ڈشوں کے نہ صرف اناج مختلف ہیں بلکہ ان میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات بھی مختلف ہیں ۔اب تو مشروبات کی بھی شکل تبدیل ہو چکی ہے ۔اور سافٹ ڈرنک کے اتنے اقسام بازار میں موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ۔اشتہار بازی کے اس دور میں ان اشیاء کا استعمال تو فیشن بن چکا ہے لیکن کبھی اس امر پر غور نہیں کیا گیا کہ آیا یہ چیزیں جن ممالک سے ہمارے یہاں آ رہی ہیں کیا ان ممالک کی آب و ہوا اور ہمارے ملک کے آب و ہوا میں کوئی مماثلت ہے ؟
اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر پہلے غور کیا جانا تھا لیکن ایسا ہوا نہیں اور نہ یہ ممکن ہے ۔یہی وجہ ہے ہمارے ملک کی آب وہوا میں پروان چڑھنے والا انسانی جسم ان کھانوں کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کو دعوت دینے لگا ۔ہمارے ملک کے تمام ڈاکٹر اس بات سے متفق ہیں کہ ہمارے ملک میں سوگر کی بیماری نے جس طرح وبا کی صورت اختیار کی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری معمولات زندگی ہے ۔جس میں پیدل چلنے کی روایت ختم ہو گئی ہے ۔کھانے اور ناشتے کے اوقات تبدیل ہو گئے ہیں ۔سونے کے اوقات میں تبدیلی ہو گئی ہے ۔اور ان سب نے مل کر ہماری صحت کو بری طرح متاثر کر دیا ہے ۔
ReplyForward |












