قومی دارالحکومت دہلی کے جنترمنتر پر پچھلے تیرہ دنوں سے خواتین پہلوانوں کا احتجاج سخت اور مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔شایدان کو نہیں معلوم تھا کہ وہ جس ـ’شخص‘ کے خلاف اپنی شکایت حکومت کے دربار میں رکھیں گی ، اسے یاتو نظر انداز کردیا جائیگا یابرائے نام ایکشن یعنی محض ایف آئی آر درج کرکے معاملہ کو ایک ایسے موڑ پر لاکرچھوڑ دیا جائے گا جہاں سے ایک دوسرا راستہ بھی نکلتا ہے۔ہم بات کررہے ہیں بھارتیہ کشتی مہا سنگھ کے صدر برج بھوشن پر اس الزام کی جو جنسیہراسانی سے جڑا ہے اور نہایت سنگین ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سات خواتین پہلوانوںنے اتر پردیش کے قیسر گنج سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ برج بھوشن پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے جن میں ایک نابالغہ بھی شامل ہے ۔ ادھرریسلنگ فیدریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن سنگھ ان الزامات سے انکا ر کرتے رہے ہیں ،اور اپنا دفاع کر رہے ہیں۔شاید یہی وجہ رہی کہ خواتین پہلوانوں کو سڑک پر اترنا پڑا اور دہلی میں دھرنے پر بیٹھنا پڑا ۔سڑک پر کئی دنوں تک گلا پھاڑنے کے بعد جب حکومت نے ان کی آواز نہیں سنی تو انہوںنے سپریم کورٹ کا رخ کیا جس کے بعد برج بھوشن کیخلاف ’’پاکسو ایکٹ ‘‘کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری ہوئی ۔پاکسو ایکٹ نابالغ بچوں کے جنسی تحفظ کیلئے وضع کیا گیا قانون ہے ،تاکہ کوئی آسانی سے ان کی طرف بری یاجنسی ہوس سے نا دیکھ سکے اور ان کا تحفظ کیا جاسکے۔لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ ممبر پارلیمنٹ برج بھوش کے خلاف ایف آئی آر درج ہوجانے کے باوجود ایک ہفتہ بعد بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔خواتین پہلوان ان کی فوری گرفتاری کی مانگ کے تحت دھرنے پر جمی بیٹھی ہیں اور اب انہوںنے وہاں سے اٹھنے سے بھی انکار کردیا ہے ۔انکا کہناہے کہ وہ تب تک نہیں جائیںگی جب تک برج بھوش کو گرفتار نہیں کر لیا جائیگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت عالیہ نے بھی ہاتھ کھینچ لئے ہیں اور نچلی عدالت میں جانے کی ہدایت کے ساتھکارروائی کو بند کردیا ہے۔اب پہلوانوں کے سامنے سوائے پولس کی چھانبین کا انتظار کرنے کے کوئی راستہ نہیں بچتا ۔کہا جارہا ہے کہ دہلی پولس اس معاملے میں چھانبین کررہی ہے تاکہ ان کے الزامات کو پرکھا جاسکے۔لیکن اس پر خواتین پہلوان تیار نہیں ہیںاور وہ بھوشن کی فوری گرفتاری کے مطالبے پر اڑی ہوئی ہیں۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر بھوشن کی فوری گرفتاری نہیں ہوتی ہے تو بعد میں پولس اس کیس میں کلوزر رپورٹ بھی فائل کرسکتی ہے جس سے ممبر پارلیمنٹ بھوشن کو کلین چٹ مل جائیگی۔لہذا اب یہ معاملہ بحث کا موضو ع بنا ہوا ہے اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا حکمراں جماعت بی جے پی برج بھوشن کے دفاع میں اتر آئی ہے جس کی وجہ سے وہ گرفتاری سے آزاد ہیں؟۔جبکہ’’ پاکسو قانون‘‘ کے تحت کسی ملزم کو معمولی سی بھی مہلت نہیں ملتی اور اسے فوری گرفتار کرلیا جاتا ہے۔اس لئے پوچھا جارہا ہے کہ ’پاکسو ‘کے تحت درج مقدمہ کے بعد بھی کیوں آزاد ہیں بھوشن؟۔بادئی النظر میں یہ الزام سنگین اورشرمناک ہونے کے ساتھ سچ کی حدود کو چھوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔جس طرح سے بھوشن اپنے اوپر لگے الزام کو بے بنیادبتا رہے ہیں اس پر اگر یقین کر بھی لیا جائے تو سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک ساتھ سات اتھلیٹ نے اپنے صدر پر یہ الزام کیوں عائد کیا ،شاید کوئی اکا دکا ہی کرتی!۔ کوئی تو وجہ رہی ہوگی !ہو سکتا ہے کہ ساتوں کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا؟ جس کی وجہ سے سب کو ہمت کر کے سامنے آنا پڑا !۔
بہر حال اگر الزام درست ہے تو یہ انتہائی شرمناک ہے! ،اب ممبر پارلیمنٹ بھوشن اس میں تنہا نہیںگھرے ہیں بلکہ بی جے پی کی بھی نیند اڑی ہوئی ہے لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ کیونکہ کرناٹک میں الیکشن ہونے والے ہیں ۔غور طلب ہے کہ جنسی ہراسانی کا الزام ان اتھلیٹ نے لگایا ہے جن کی کامیابی پر گزشتہ سال وزیر اعظم مودی نے انہیں مبارک باد دی ،ان کے ساتھ کچھ خوشگوار پل گزارے اور انکو اپنے گھر پر کھانے پر مدعو کیا تھا۔ یہ وہی پہلوان خواتین ہیں جو ملک کا نام ساری دنیا میں روشن کرتی رہی ہیں لیکن آج بد قسمتی یہ ہے کہ اب ان کو نہایت آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔عالم یہ ہے کہ ان کو اپنی شکایت درج کرانے در در بھٹکنا پڑا یہاں تک کہ گزشتہ رات پولس اور ان کے مابین تصادم تک ہوگیا ۔اس سے پہلے مرکزی حکومت پر الزام یہ بھی لگا ہے کہ اس نے بھی ان کی شکایت پر کوئی کان نہیں دھرا۔الغرض ،اب یہ معاملہ اگر نہیں سلجھا تو اس کے مزید الجھنے کا اندیشہ منڈلا رہا ہے کیونکہ اب یہ بی جے پی اور پہلوانوں کیلئے ناک کا سوال بن گیا ہے !۔ادھر پہلوانوں کو مختلف پیشہ سے وابستہ لوگوں اور تنظیموں، وکلا اور کسانوں کی بھی حمایت ملنے لگی ہے اور وہ جنتر منتر پر پہلوانوں کا حوصلہ بڑھا نے پہنچ رہے ہیں ان کی حمایت کر رہے ہیںجس سے مودی حکومت کی کافی کرکری ہو رہی ہے۔












