• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

صالح معاشرہ کی تشکیل ضروری کیوں؟

اے۔آزاد قاسمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 5, 2023
0 0
A A
صالح معاشرہ کی تشکیل ضروری کیوں؟
Share on FacebookShare on Twitter

روزآفرینش سے یہ روایت چلی آرہی کہ انسانی جبلت اپنی فطری ملان اوربناوٹ کی وجہ سے تلاش وجستجوکا خوگررہا ہے ،اس کے مزاج میں خالق کائنات نے ہراس چیزکی کھوج وبین کےلئے تجسس ودیعت کر رکھی ہے جس میں انسانی ضروریات زندگی کے لئے اللہ رب العزت نے اپنی حکمت کاکوئی اہم امرپوشیدہ کررکھاہو۔زمین میں کامیاب اور قابل رشک انسانی زندگی کے لئے قرآن عظیم کی بیشتر آیتوں میں رہنمائی موجودہے ، جس میں صاف صاف انسانوں کو تغیرات عالم پرباربار توجہ دینے اوراس کے اسراررموزپرغوروفکر کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، قرآن پاک میں اکثرجگہ ایک کامیاب دینی ودنیاوی زندگی کی ترویج کے لئے لوگوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’تم آپس میں اچھی باتوں کاحکم کرو، بری اورفحش باتوں سے خودبھی بچواوراپنے کنبہ اورمعاشرہ میں رہنے والوں کو بھی ان فحش باتوںسے بچانے کی بساط بھرکوشش کرو، اوریہ کوشش مسلسل تمہاری زندگی کا حصہ رہے ، اسی میںتمہارے لئے بھلائی ،فلاح اورکامیابی کی ضمانت ہے ،ظاہر ہے رب کریم کے اتنے واضح اورصاف حکم کی عدولی یقینا ہمارے لئے خسارہ کا سوداہوگا، ہم خودفیصلہ کرسکتے ہیں کہ ہم کس طرف جارہے ہیں اورکس کے ہمسربنے بیٹھے ہیں ، اب بھی وقت ہے کہ بحیثیت مسلم امہ ہم اپنی ذمہ داری کودیگرتمام ترمعاملات کے ساتھ ساتھ شرعی لحاظ سے بھی جانچ پرکھ کرتے ہوئے آگے کی سمت طے کریں ، آج کے تناظرمیں اگر دیکھاجائے توکسی بھی میدان میں تعلیم کا حصول کس قدرآسان اورجدید آلات سے لیس ہے اس کا تصورآج سے چندسال قبل تک تصوراتی زندگی سے دورخیالی تمثیل ہی معلوم ہوتاتھا، آج کوئی بھی انسان ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھ کر کسی بھی میدان میں اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکتاہے ۔آ ج سے چند دہائی قبل انسان تعلیمی میدان میں برتری اورعبورپانے کےلئے بڑے شہروںاوربڑی بڑی یونیورسٹیوں کا رخ کیا کرتے تھے ،دنیا کے اس قدرسمٹ کر ایک عالمی گاؤںکے روپ میں ہمارے سامنے آجانے کے باوجود اگرہم تعلیمی و معاشی پسماندگی کا شکار ہیں یا اس میدان میں ہماری کوئی خاطرخواہ حیثیت نہیں ہے تواب اس کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش ہونی چاہئے ،تعلیم کے کسی بھی شعبہ میں مسلم امہ کاپیچھے رہ جاناا یک اہم بنیادی فرض سے محرومی قراردیا جاسکتاہے ۔ کیونکہ مسلمانوں کےلئے شرعی طورپراس قدربنیادی تعلیم کا حصول فرض قراردیا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کو حلال وحرام اورسنت رسول ﷺ کے مطابق گزارسکے ، آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمام تروسائل کے باوجود اس اہم بنیادی ضروریات سے بھی ہم دور ہوتے جارہے ہیں ،ذرائع ابلاغ کے اس دورمیں ہم صرف پرجوش نعروں یاتحریروں کے ذریعہ کسی بھی معیاری اورقابل اعتماد ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے، اس سلسلہ میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط اورحساس ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ تعلیم اورذرائع ابلاغ کا میدان ہی وہ پلیٹ فارم ہے جس میں برتری حاصل کرکے ہم ایک بہترسماج اورقابل تقلیدمعاشرہ کی تشکیل میںسوفیصد کامیاب ہوسکتے ہیں ،عالمی سطح پر بھی معاشی خلیج کی لکیریں ترقی یافتہ اورترقی پزیرممالک میں نمایاں طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں ، ایسے پرآشوب دورمیں اگرہمارے بچے اعلیٰ تعلیم سے لیس ہوں تویقینازندگی میں ہمیں سبقت حاصل کرنے میں سہولیات مہیاہوںگی اورآگے کی منزل طے کرنے میں خوداعتمادی بھی حاصل ہوگی ۔اس طرح ہم آگے کی منزل بہت ہی خوش اسلوبی سے عبورکرسکتے ہیں نیز معاشی پسماندگی کی کسی بھی وجہ کوبری ہی خوش اسلوبی سے پاٹ بھی سکتے ہیں جو ہمارے یہاں امیری غریبی کی شکل میں ہرجگہ دیکھنے کومل جاتی ہے ، ہمارے لئے ایک اہم مسئلہ جو اس وقت درپیش ہے وہ ہے کسی بھی میدان میں عملی تشہیرکافقدان، ہم اپنی بیشترصلاحیت کو بیجانام ونمودمیں صرف کرنے میں لگادیتے ہیں اورپھر اس پر یہ طرفہ تماشہ کہ ہماراکام فلاں کی وجہ سے پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پایا،چہ جائیکہ اس درخت سے ابھی پھل آنے کےلئے کونپل تک نمودارنہ ہوئی ہو، اس مادی ہوس پرستی پر وقت رہتے قدغن لگانے کی ضرورت ہے اوراپنی ملی توانائی کو عملی طورپر پیش کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی اپنی حقیقت کو سامنے رکھ کر کسی مؤ ثرروڈمیپ سے ملت کو باخبر کرنا بھی اتناہی ضروری ہے ۔
موجودہ عالمی تناظر میں جس طرح کے معاملات سے ہماراسابقہ ہے اس میں ہمیں معیاری اورمستحکم تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ، جس میں ہمارے بچوں کےلئے جدید عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹھوس اورمعیاری مذہبی تعلیم کا انتظام ہو،کیونکہ چوطرفہ ارتدادی والحادی صورتحال سے اس وقت ملت اسلامیہ سخت صدمہ میں ہے، اس سے اپنی آنے والی نسل کو ایمانی تقاضوں کے ساتھ ملک میں باقی رکھنا دن بدن چیلنج بنتاجارہاہے ، بچیوں کا مخلوط تعلیم کی وجہ سے اپنے دین وایمان سے دورہوجانا موجودہ دورکا بہت بڑاالمیہ ہے خدارااس کی طرف ہمیں پوری شدت کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورملت کو اس کا متبادل فراہم کرنے کےلئے ہرایک کوبساط بھر کردارنبھانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمارے بچے اپنی شرعی تقاضوں کوملحوظ رکھتے ہوئے تمام میدانوں میں آگے بڑھ سکیں ۔ ہماری بچیوں کی عصری تعلیم گاہوں سے دوری یا انٹرکے بعد ڈراپ آؤٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثرتعلیم گاہوںمیں مخلوط تعلیم اوردیگربہت ایسی شکلیں ہیں جس سے بچوں کے والدین اور سرپرست اس جانب رخ کرنے سے خوف زدہ رہتے ہیں اورپھریہ ہوتاہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی والدین اپنے بچوں کوخاص کر لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم گاہوں سے ڈراپ آؤٹ کرالیتے ہیں ۔ جو ایک لمحہ فکریہ کے ساتھ ساتھ اس طرف ہماری توجہ کا ترجیحی طورپرطالب ہے ۔
موجودہ پس منظرمیں مسلم امہ کو جہاں مختلف چیلنچزکاسامنا ہے وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں سے پیشتر کے ہم خودذمہ دارہیں، ہماری بے حسی نے ہمیں آج یہاں تک پہنچادیاہے ،کیا وجہ ہے کہ تمام تر معاشرتی تبدیلی کے تعلق سے آئے دن اخبارات اورمقامی اجلاس میں علماءاوردانشوران قوم و ملت اس جانب توجہ دینے کے لئے بروقت آگاہ کررہے ہیں لیکن ہم ہیں کہ باتوں کو سنی ان سنی کررہے ہیں ، ملکی سطح پر مختلف سرکاری کمیشن اورغیر سرکاری رپورٹیں ہمیں یہ باورکرارہی ہیں کہ ہم دن بدن تعلیم اورمعاشی میدان میں پچھڑتے جارہے ہیں، ہمارانوجوان طبقہ معاشی واقتصادی طورپرخودکے کاروبارسے دورہے جبکہ اسلامی تعلیمات میں تجارت کو معاشی واقتصادی خوشحالی کی کلید کہاگیاہے ،کتاب حکمت میںباری تعالیٰ نے بڑے ہی اچھوتے انداز میں لوگوں کو فرائض کی تکمیل کے بعدزمین میںپھیل جانے اورفضل ربی تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے، اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ تجارت اورخودکے کاروبارکی شریعت مطہرہ میں کس قدراہمیت ہے، لیکن بدلتے حالات میں جہاں ہم نے بہت ساری چیزوں کو خیربادکہہ دیاہے وہیں تجارت جیسے منافع بخش فعل سے بھی دورہوتے گئے اور تمام ترتوجہ نوکری پر مرکوزہوگئی، یہ ایک بڑی وجہ ہے معاشی میدان میںہمارے پچھڑنے کی ، ہمیں اس جانب بھی دیکھنا ہوگاکہ معاشی طورپرکس طرح اپنے کوخودکفیل بناسکتے ہیں ، معاشی اوراقتصادی میدان میں پیچھے رہ جانے کی اس وقت جو سب سے بڑی وجہ بنی ہوئی ہے وہ ہے بیجارسومات کی پیروی ، المیہ یہ بھی ہے کہ اب تو دیہاتوں تک میں ان رسومات کو ضروری سمجھ کربے دریغ پیسہ صرف کیا جارہاہے ،جس کی وجہ سے متوسط طبقہ معاشی طورپرکمزورسے کمزورترہوتاجارہا ہے ، آج ہمارے معاشرہ میںہر اس رسم کو ضروری سمجھ لیاگیاہے جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی سروکارنہیں ہے ، ہمارے معاشرہ میں شادی بیاہ میں فضول خرچی کے ساتھ بدلتے ماحول میں رسم ختنہ ، برتھ ڈے پارٹی، رسم منگنی اورنہ جانے کیسی کیسی غیر ضروری تقریبات کا تصور پیدا کرلیا ہے ، لوگوںنے عقیقہ وغیرہ میںاس قدربیجارسوم کواپنے اوپر مسلط کررکھا ہے کہ اللہ کی پناہ ،یہ وہ تمام برائیاں ہیں جس سے وقت رہتے برآت ضروری ہے ورنہ ہمارے لئے وہ دن دورنہیں جب ہمیں اس سے زیادہ بدترحالات کا سامنا کرناپڑے گا، آج کے اس قدر نا موافق حالات میں ہمیں ہوش سے کام لیکر آگے کی منزل طے کرناہے ، اس ذلت سے چھٹکاراکے لئے بے حدضروری ہے تعلیم اوراقتصادی میدان میں اپنے کو منوانے کا، تبھی ہم ایک صالح معاشرہ کے مکین کہلا سکتے ہیں ورنہ صرف اپنے اقتصادی پسماندگی کارونا رونے کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ، اب بھی وقت ہے کہ ہم ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کےلئے اپنے کو پابندکرلیں۔
اسطرح کی رائج معاشرتی خامیوںاور برائیوں کی بیخ کنی اورایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کےلئے ملت کی نمائندہ تنظیم جمعیتہ علماءہند نے اپنی صدسالہ تقریبات کو آگے بڑھاتے ہوئے پورے ملک میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے مسلسل پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جس کے تحت چھوٹے چھوٹے پروگراموں کے ذریعہ سماجی ومعاشرتی برائیوں سے لوگوں کوباہرنکالنے کی کوشش کررہی ہے ، خاص کر نوجوان طبقہ کومساجدسے جوڑنے کی بھرپورکوشش ہورہی ہے جویقینا ایک خوش آئند قدم ہے۔جمعیتہ علماءہند کے صدرامیرالہند مولانا ارشد مدنی اوران کی ورکنگ کمیٹی کایہ دوراندیشانہ فیصلہ یقینا صد لائق احترام ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس سمت میں اپنے کو ڈھال لیں اوراللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ان شاءاللہ ہم ضرورپھرسے سرخرور ہوسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہم بیدارہوجائیں اورسنت نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں ، اللہ ہماراحامی اورناصرہے ۔ کسی بینا اورصاحب طرزکا قول ہے کہ ”زندگی کے سفرمیں اگر ایسے حالات آن پڑے جہاں تمہیں یہ محسوس ہوکہ تم تنہاہوگئے ہویا تم تنہاکردیئے گئے ہو توگھبرانا نہیں خدابرتروبزرگ سے ناامید نہ ہونا،ہوسکتاہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی یادکےلئے تمہیںتنہائی سے گزاراہو ، اللہ کا شکراداکرو کہ اللہ نے اپنی یادکے لئے تمہیں منتخب کرلیا ہے ۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    مارچ 14, 2026
    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    مارچ 14, 2026
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist