سید مجاہد حسین
نئی دہلی : 2جون ،سماج نیوز سروس :بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اور ریسلنگ ایسوسی ایشن کے برطرف صدربرج بھوشن سنگھ کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔خواتین پہلوانوں کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی معاملے میں ان کی ابھی گرفتاری نہیں ہوئی ہے لیکن گرفتاری کامطالبہدن بہ دن زور پکڑ تا جارہا ہے ۔ایک دن پہلے کھاپ پنچایتوںنے حکومت کو9 جون تک بھوشن کے خلاف کارروائ کرنے کا الٹیمیٹم دیا تھا ،آج کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے سیدھا سوال پوچھاہے ۔انہوںنے پوچھا ہے کہ برج بھوشن کے خلاف ابتک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے ایک ٹوئیٹ کر کے پوچھاہے کہ ’’نریندر مودی جی ان سنگین الزامات کو پڑھیں اور ملک کو بتائیں کہ ملزموں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟‘‘۔پرینکا گاندھی نے ایک جریدہ میں شائع طویل خبر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے پوچھا ہے کہ ملزم کو کیوں تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کیوںنہیں کی جارہی ہے۔پرینکا گاندھی نے دی اینڈین ایکسپریس کی جلی سرخیوں میں شائر ایک اسٹوری کا فوٹو بھی اپنے ٹوئیٹر ہنڈل پر منسلک کیا ہے ۔انہوںنے ٹوئیٹ کرکے وزیر اعظم مودی کو ٹیگ کر کے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔جی ان سنگین الزامات کو پڑھئے اور دیش کو بتائیے کہ ملزم پر ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟انہوں نے انگریزی روزنامے انڈین ایکسپریس کی جس تفصیلی خبر کو اپنے سوال کے ساتھ منسلک کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ برج بھوشن سنگھ کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں چھیڑ چھاڑ کے کم از کم 10 معاملوں کا تفصیل سے ذکر ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ’’ اس کے علاوہ کم از کم دو ایسےمعاملے ہیں جن میں خواتین کھلاڑیوں کو پروموٹ کرنے کے عوض غیر اخلاقی مطالبہ کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے برج بھوشن سنگھ کے خلاف 28 اپریل کو دو ایف آئی آر درج ہوئیں تھیں ۔دونوں ایف آئی آر میں آئی پی سی کی دفع 354 (کسی عورت کی شائستگی کو مجروح کر نے کے ارادے سے طاقت سے مجرمانہ حملہ کرنا ،354 اے(جنسی طور پر ہراساں کرنا) 354D (پیچھا کرنا) اور 34 (عام ارادے)کا حوالہ دیا گیا ہے۔
بتادیں کہ ملزم برج بھوشن اپنے اوپر لگے سنگین جنسی ہراسانی کے الزامات سے انکار کرتےرہے ہیں بلکہ وہ ان کو آج بھی کھلا چیلنج بھی کررہے ہیں ۔ان کی ابھی تک گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔ جس سے معاملہ کافی طول پکڑ گیا ہے۔حالانکہ بھوشن کی فیڈریشن WFI کو تحلیل کردیا گیا ہے،جبکہ جنتر منتر پر احتجاج کررہی پہلوان خواتین کو 28 مئی کو منتشر کر دیا گیا تھا۔حکومت کے اس قدم سے پہلوان سخت ناراض ہیں ۔اپنے ساتھ دہلی پولس کی بد سلوکی کا الزم عائد کررہے ہیں۔ایک دن قبل برج بھوشن نے 5 ج ون کو ایودھیا میں مہا ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی ایودھیا انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ادھر مرکزی وزیر کھیل و مواصلات انوراگ ٹھاکر نےکہا ہے کہ مرکز اس معاملے کو سنجیدگی سے ہنڈل کررہا ہے۔انہوںنے پہلوانوںسے صبر و تحمل برتنے کہا ہے۔ادھر کھاپ پنچایتوںنے حکومت سے 9 جون تک بھوشن کے خلاف کارروائی کا الٹیمیٹم دے دیا ہے ۔9 جون کے بعد کھاپ پنچایتوںنے پہلوانوں کے حق میں تحریک چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔












