بات بات میں خود کو جدید بتانے والوں اور سناتن مذہب کو ہی اس گلوب کا اولین مذہب بتانے والوں کے سامنے سپریم کورٹ نے ایک چیلنج پیش کر دیا ہے۔بات ہم جنس پرستوں کی اس مانگ سے شروع ہوئی تھی کہ آخر ہم جنس پرستوں کے انسانی حقوق کا حق کیونکر ادا ہو سکتا ہے جب تک ان کو آپس میں شادی کا قانونی حق حاصل نہ ہو ۔لہٰذا بات عدالت عالیہ تک گئی اور عدالت عالیہ نے کہا کہ اسے قانونی طور پر جائز قرار دینا اس کا نہیں بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔
اور اس کے پہلے جب ہم جنس پرستوں کی جانب سے یہ مانگ کی گئی تھی تب ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بی جے پی اور مسلم تنظیموں نے ہم جنسوں کے مابین شادیوں کی مخالفت کی تھی۔لیکن اب عدالت عالیہ نے نہایت خوبصورتی سے گیند سرکار کے پالے میں ڈال دیا ہے ۔یہ معاملہ ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کی مخالفت کی ضد میں سرکار اس کی حمایت کرنے لگے اور ان ہم جنسوں کے حقوق کی حفاظت کے نام پر قانون بنا دے ۔لیکن اگر قانون نہیں بناتی تو پھر نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ سوال اٹھیگا کہ مسلمان خواتین پر ہونے والے مبینہ مظالم پر آبدیدہ ہو جانے والی سرکار ان کے حق میں تین طلاق پر قانون بنا سکتی ہے توپھر ہم جنس پرستوں کے حق میں قانون کیوں نہیں بنایا جاسکتا ۔
پانچ رکنی آئینی بنچ کی صدارت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے تاہم یہ بھی کہا کہ جو ازدواجی حقوق ہیٹرو سیکسوول (جنس مخالف) جوڑوں کو حاصل ہیں وہی حقوق ہم جنس پرست جوڑوں کو بھی ملنے چاہئیں ورنہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ مرکزی اور تمام ریاستی حکومتوں کو اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ ہم جنس افراد اور خواجہ سراوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی تفریق نہ ہو۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم جنسی کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر ایسے جوڑوں کو شادی کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی ۔ در اصل بھارت میں ہم جنس شادیوں کو بھی قانونی جواز فراہم کرنے کی مہم زورو شور سے جاری ہے۔ لیکن ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ متعدد ہندو اور مسلم مذہبی تنظیمیں اس کے خلاف ہیں۔ اس معاملے پر اس سال اپریل اور مئی میں فریقین نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، جن پر سپریم کورٹ نے 17اکتوبر کو اپنا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے سن 2018 میں ہم جنس سیکس کو غیر قانونی قرار دینے والے نوآبادیاتی دور کے قانون کو ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ہم جنس شادیوں کو قانونی جواز فراہم نہیں کرسکتا اور اس سلسلے میں قانون سازی پارلیمان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ چیف جسٹس چندر چوڑ کا کہنا تھا کہ "اس بات پر ایک حد تک اتفاق اور عدم اتفاق ہے کہ ہم ہم جنس شادیوں کے حوالے سے کہاں تک جاسکتے ہیں۔جسٹس چندر چوڑ کے ساتھ دو دیگر ججوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عدالت ہم جنس شادیوں کو قانونی جواز فراہم نہیں کرسکتی۔ اس وقت ایشیا میں صرف تائیوان اور نیپال ایسے دو ممالک ہیں جہاں ہم جنس شادیوں کی اجازت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شادی کے حق میں ترمیم کرنے کا اختیار قانون سازیہ کے پاس ہے لیکن ایل جی بی ٹی کیو پلس لوگوں کو اپنا ’’پارٹنر‘‘ منتخب کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا حق ہے اور حکومت کو انہیں حاصل حقوق کی حفاظت کرنی چاہئے تاکہ یہ ‘جوڑے کسی پریشانی کے بغیر ساتھ رہ سکیں۔ جسٹس چندر چوڑ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم جنس پرستی صرف شہری اشرافیہ یا ایلیٹ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں کا بھی معاملہ ہے جو ملک کے الگ الگ شہروں اور گاوں میں رہتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک انگلش بولنے اور کارپوریٹ آفس میں کام کرنے والا بھی ہم جنس ہو سکتا ہے اور گھریلو کام کاج کرنے والی خاتون بھی ہم جنس ہو سکتی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہم جنس شادیوں کو قانونی قرار دینے والی درخواستوں کی مخالفت کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایک’شہری اشرافیہ‘ خیال ہے اور اس مسئلے پر بحث کرنے نیز قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ ہی مناسب پلیٹ فارم ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ بھارتی سماج میں میاں بیوی اور بچے پر مشتمل خاندان کو ہی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ بھارتی سماج میں اب بھی روایتی قدروں کا غلبہ ہے البتہ ایل جی بی ی کیو کے حقوق بھی دھیرے دھیرے تسلیم کیے جارہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جو ہم جنس جوڑوں کو درپیش عملی مسائل، مثلا ً راشن کارڈ کے حصول، پنشن، گریچویٹی اور وراثت کے مسائل کو حل کرنے کے متعلق اپنی تجاویز دے گی۔
(شعیب رضا فاطمی )












