پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آئندہ دسمبر سے شروع ہونے والا ہے اور اس اجلاس میں حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ تقریبا سولہ سترہ بلوں کو پیش کرے ۔اہم بات یہ ہے کہ یہ اجلاس اس وقت شروع ہو گا جب ٹھیک ایک دن بعد گجرات اور ہماچل کے اسمبلی جبکہ دہلی کے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے نتائج آجائیںگے اوروہ تینوں ریاستوں میں بی جے پی،کانگریس اور عام آدمی پارٹی کی قسمت کا فیصلہ کرینگے اور طے کرینگے کہ گجرات اور ہماچل میں حکومت کس کی ہوگی اور ریاست پر کس پارٹی کا قبضہ ہو گا۔گجرات میں کل پانچ تاریخ کو دوسرے مرحلے کے 93سیٹوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیںگے ،جبکہ دہلی میں چار دسمبر کو یعنی اتوار کو کارپوریشن کیلئے بھی ووٹنگ ہوگی ۔دونوں ریاستوںمیں ہونے والے الیکشن بی جے پی کی ساکھ کا سوال بنے ہوئے ہیں ۔کیونکہ جہاں دہلی میں وہ دو دہائیوں سے قابض ہے تو وہیں گجرات میں تقریبا ستائیس سال سے حکومت کررہی ہے اور کانگریس اپوزیشن میں ہے ۔ادھر دوسری جانب دہلی میں چونکہ عام آدمی پارٹی گزشتہ چھ سال سے حکومت کررہی ہے ایسے میں امید یہ جتائی جارہی ہے کہ وہ کارپوریشن کی کچھ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔لیکن گجرات کے تعلق سے یہ امید کم ہی ہے کہ ریاست میں عام آدمی پارٹی کو کامیابی ملے اور کانگریس اور بی جے پی کے قلعوں میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہو پائے۔ اس لئے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ریاستوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔جہاں تک کانگریس کی بات ہے تو اس کی ساری توجہ اس وقت گجرات الیکشن کے ساتھ آنے والے اس سرمائی اجلاس پر مرکوز ہے جس میں اوہ بحث کرنے کے لئے حکومت پر نشانہ سادھے ہوئے ہے ۔آج بھی کانگریس نے سرمائی اجلاس سے قبل ایک میٹنگ کی ہے اور اس میں تین اہم ایشوز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس طرح جہاں ایک جانب حکومت سرمائی اجلاس میں متعدد بلوں کو پیش کرنے کی تیاری میں ہے تو وہیں اپوزیشن جماعت کانگریس بھی ایوان میں اپنا اہم رول ادا کرنے کیلئے نہ صرف تیار ہے بلکہ حکومت کو کئی اہم یشوز پر سوال کرے گی۔کانگریس کے لیڈرجے رام رمیش کا کہنا ہے کہ وہ اس بار ایوان پارلیمنٹ میں تین اہم ایشوز اٹھائیںگے ،اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان پر بحث کرے ۔رمیش کاکہنا ہے کہ انکے کے تینوں ایشوز جس میں معاشی معاملات ،آئینی اداروں کے رول اورجی ایس ٹی شامل ہونگے ،پر بحث کرنے کے لئے حکومت کو تیار کرے گی ۔کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت ان اداروں میں مداخلت کررہی ہے جو اپنے فیصلے کرنے میں بااختیار اور آزاد ہوتے ہیں۔ اس لئے سرکار اس بار ان ایشوز کو پارلیمنٹ میں سنے اور بحث کرائے ،وہ بحث سے نہیں بھاگے ۔رمیش کا سوال ہے کہ حکومت بحث سے کیوںبھاگ رہی ہے ؟
الغرض اس بار پارلیمانی اجلاس کافی اہم ہوگا اور گرما گرم بحث ہونے کا امکان ہے ،وہیں امید ہے کہ اپوزیشن کے سوالوں پر حکومت کی عدم توجہی اور نظر اندازگی بڑے ہنگامے کی وجہ بھی بن سکتی ہے،کیونکہ جے رام رمیش کانگریس کے سینئر لیڈر کا صاف الزام ہے کہ حکومت جب اپوزیشن کی بات نہیں سنتی ہے ،تبھی ہنگامہ ہوتا ہے اس لئے اسے بحث کرانا چاہئے !۔
بہر حال ،آج کانگریس کی میٹنگ ان معنوں میں اہم ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کو اپنا رول ادا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ۔دو رائے نہیں کہ پارلیمنٹ میں ملک کے مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور ان کو حل کرنے کی تدابیر اختیار کر جاتی ہیں ،نئے قوانین بنائے جاتے ہیں تو بعض میں ترامیم بھی کی جاتی ہیں ۔لیکن ان سب کے ساتھ حکومت کا اہم فرض ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کی بات سنے ، عوامی پریشانیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے۔لیکن پچھلے کچھ اجلاس میں کام کاج کم ہوا ہے بلکہ پارلیمنٹ کا ماحول ہنگامہ آرائی اور گھمسان کی نذر ہوکر رہ گیا ۔یہ جمہوری ملک کے حق میں شدیدنقصاندہ بات ہے ۔حکومت کو سمجھناچاہئے کہ اپوزیشن اور اس کے سوالات پارلیمنٹ میں اہم کردار نبھاتے ہیں ۔لیکن اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ بات بات پر ہنگامہ یا واک آئوٹ کرنے سے گریز کرے۔دونوں کو ایک دوسرے سے اعتراض ہو سکتاہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع کیا جائے اور بات نہ سنی جائے!۔پارلیمنٹ میں ملک کے مسائل پر بحث اورپریشانیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے ،ضروری ہوا تو تجاویز رکھی جاتی ہیں اور حکومت بل لاکر قانون سازی کرتی ہے ۔لیکن شاید اس کامقصد فوت ہوتا جارہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کو یہ خدشہ کیوں ستا رہاہے کہ پارلیمنٹ میں اس کی آواز کیوں دبائی جاتی ہے یا اس کی بات سنی کیوںنہیں جاتی ہے؟۔یہ ایک بڑا الزام ہے اور اس کا ازالہ ہونا چاہئے !۔وہیں سوال یہ بھی ہے کہ کیا کانگریس کو امید ہے کہ اس بار وہ اپنے مطالبات کو منوانے میں کامیاب ہو پائے گی؟۔کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی اجلاس میں دیکھا گیا کہ کانگریس کے مطالبات گلے میں گھٹ کر رہ گئے اور اس کو اپنے سوالات کا جواب نہیں مل پایا۔اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اپوزیشن کی شکایات کو بغور سنے اور اس کاازالہ کرے اور پارلیمنٹ میں بامقصد بحث کرے ۔












