حیدر آباد، پریس ریلیز،ہمارا سماج:خواتین کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں فعال شرکت ان کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے سمپوزیم "ہندوستان میں خواتین کی تحریر: عصری تناظر اور نئی جمالیات” کے دوران صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔شعبہ انگریزی،مانو اور ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی کے تعاون سے اس ایک روزہ قومی سمپوزیم کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ سمپوزیم ہندوستان میں خواتین کی تحریروں کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا گیا۔جس میں خاص طور پر معاصر ادبی تناظرات اور ابھرتے ہوئے جمالیاتی رجحانات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کا مقصد ہندوستانی تناظر میں خواتین کے ادبی اظہار کو تشکیل دینے والی متنوع آوازوں اور تجربات پر غور و فکر کرنا تھا۔ پروفیسر عین الحسن نے اس اہم اور فکری طور پر بامعنی موضوع پر سمپوزیم کے انعقاد کے لیے شعبہ انگریزی کی ستائش کی۔ رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ انگریزی کی جانب سے خواتین کی ادبی خدمات پر مبنی قومی سطح کے علمی پروگرام کے انعقاد کو قابلِ ستائش قرار دیا۔مہمانِ خصوصی محترمہ عرشیہ حسن صدر "مانو انجمن خواتین” نے خواتین کی تخلیقی آوازوں کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ جامعات میں ایسے علمی ماحول کو فروغ دیا جانا چاہیے جہاں صنف، نمائندگی اور ثقافتی اظہار جیسے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو ممکن ہو۔مہمانِ اعزازی ڈاکٹر گوگو شیامالا، جو حاشیے پر موجود طبقات کی آوازوں اور ان کے تجربات پر اپنی تحقیق و تحریروں کے لیے معروف ہیں، نے خواتین کی تحریروں کی تبدیلی لانے والی قوت پر اظہارِ خیال کیا۔ابتداءمیں سمینار کے ڈائرکٹر اور صدر شعبہ انگریزی، ڈاکٹر ناگیندر کوٹا چیرو، مانو نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے معاصر ادبی مباحث میں خواتین کی تحریروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سمپوزیم کی کنوینر اور شعبہ انگریزی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر گیتا نے اپنے ابتدائی کلمات میں سمپوزیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور مختلف لسانی، علاقائی اور سماجی پس منظر سے ابھرنے والی خواتین کی بیانیہ روایتوں کے مطالعے کی اہمیت پر زور دیا۔افتتاحی نشست کا اختتام ڈاکٹر اکرم خان کے کلماتِ تشکر پر ہوا، جبکہ اس پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر افشان مسکان نے انجام دی۔سمپوزیم میں کلیدی خطبہ پروفیسر ناندینی ساہو، وائس چانسلر ہندو یونیورسٹی،مغربی بنگال،کی جانب سے پیش کیا گیا۔ پروفیسر ناگرتنا وی پراندے (رانی چنما یونیورسٹی)کی صدارت میں پینل مباحثہ بھی منعقد کیا گیا۔ پروفیسرکے سنیتا رانی (یونیورسٹی آف حیدرآباد) ، ڈاکٹر رینوکا ایل نایک (سنٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک) اور ڈاکٹر اسماءرشید (ایفلو) نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔












