فلسطين:حماس کے ایک ذمےدار کا کہنا ہے کہ تنظیم کو یحیی السنوار کے لیے محفوظ راستہ دینے کی کوئی اسرائیلی تجویز کبھی نہیں پیش کی گئی۔
العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے میں مذکورہ ذمے دار نے کہا کہ حماس کے سربراہ کے حوالے سے اسرائیلی ذمے دار کی بات غیر معقول، غیر منطقی اور نا قابل قبول ہے۔ یہ تجویز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے سیاسی دیوالیے پن کی دلیل ہے۔
انھوں نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب حکومت عمر قید کے سزا یافتہ 65 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر چکی ہے۔ذمے دار کے مطابق اسرائیل فلاڈلفیا راہ داری کا معاملہ مذاکرات کو طول دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔یاد رہے کہ قیدیوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے اسرائیلی حکومت کے مقرر کردہ مذاکرات کار گال ہیرش نے منگل کے روز بلومبرگ کو انٹرویو میں کہا تھا کہ "میں السنوار اور ان کے اہل خانہ کو اور جو کوئی بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہے، ان سب کو محفوظ راہ داری فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں”۔
ہیرش کے مطابق غزہ میں "ہتھیار اور شدت پسندی سے دست برداری کے ساتھ” یہ شرط جنگ کے خاتمے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل یہ الزام عائد کرتا ہے کہ حماس کی طاقت ور ترین شخصیات میں شمار ہونے والے یحیی السنوار سات اکتوبر کے حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ اس حملے میں اسرائیل کے اندر 1200 افراد کو ہلاک اور 250 کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا گیا۔ السنوار حماس کے ان رہنماؤں میں سے ہیں جن پر امریکی استغاثہ نے بھی مذکورہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
حماس نے 31 جولائی کو اپنے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے چند روز بعد گذشتہ ماہ یحیی السنوار کو ہنیہ کی جگہ تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔
امریکی عہدے داران کے مطابق السنوار غزہ میں زیر زمین کھو دی گئی سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک میں آزادانہ طریقے سے نقل و حرکت کر رہے ہیں … جب کہ اسرائیل حماس کے سربراہ کو ہر جگہ تلاش کر رہا ہے۔
دریں اثنا حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار نے اسرائیل کے ساتھ تنازعہ میں اپنے گروپ کی حمایت کرنے پر لبنانی گروپ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا شکریہ ادا کیا، یہ بات حزب اللہ نے جمعہ کو بتائی۔ سنوار کے اگست میں حماس کے سربراہ بننے کے بعد یہ پہلا اطلاع شدہ پیغام ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ غزہ جنگ کے متوازی لبنانی-اسرائیلی سرحد کے پار تقریباً ایک سال سے اسرائیل پر حملے کر رہی ہے۔ حزب اللہ کے مطابق ان حملوں کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے۔
حزب اللہ کے نشریاتی ادارے المنار کے مطابق سنوار نے نصر اللہ کو بتایا، "آپ کی طرف سے جنگ میں حمایت اور شرکت کے مبارک اقدامات سے محورِ مزاحمت کے محاذوں پر آپ کی ہمارے لیے یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔”
سنوار سات اکتوبر کے حملوں کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں اور زیادہ تر یہ خیال ہے کہ وہ غزہ کی زیرِ زمین سرنگوں سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس ہفتے یہ دوسرا موقع تھا جب ان کے خط بھیجنے کی اطلاع ملی۔ حماس نے منگل کو کہا کہ انہوں نے الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد بھیجی تھی۔












