نئی دہلی، مبینہ ایکسائز گھوٹالے میں جیل میں بند دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل نے آج ایک بار پھر ٹویٹ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ باتیں کہی ہیں، حالانکہ ٹویٹ میں صاحب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سسودیا کے اکاؤ نٹ سے ٹوئٹ کیا گیا، ‘، آپ مجھے جیل میں ڈال کر دکھ پہنچا سکتے ہیں، لیکن آپ میرے حوصلے نہیں توڑ سکتے، انگریزوں نے بھی آزادی پسندوں کو تکلیف دی، لیکن ان کے حوصلے نہیں ٹوٹے۔ منیش سسودیا کا جیل سے پیغام۔منیش سسودیا نے ہولی کی شام اپنے ٹوئٹر سے ایک ٹویٹ بھی کیا تھا، جس پر بی جے پی نے سوال اٹھایا کہ سیسوڈیا نے کیسے ٹویٹ کیا، کیا جیل میں ان کے پاس موبائل ہے؟تہاڑ جیل میں بند سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے جمعرات کو ملک کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ مرکزی حکومت پر بی جے پی کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے سسودیا نے لکھا کہ بی جے پی لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی سیاست کر رہی ہے۔ ہم بچوں کو پڑھانے کی سیاست کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا جرم اتنا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے ایک متبادل سیاست بنائی، یہی وجہ ہے کہ کیجریوال حکومت کے دو وزیر اس وقت جیل میں ہیں۔ جیل کی سیاست کامیاب نظر آتی ہے، لیکن ہندوستان کا مستقبل اسکولی سیاست میں ہے۔ اگر پورے ملک کی سیاست جسم، دماغ اور جان سے تعلیم کے میدان کو آگے بڑھانے کے کام میں لگ جاتی تو ترقی یافتہ ممالک کی طرح ملک میں ہر بچے کے لیے اچھے اسکول بن چکے ہوتے۔سسودیا نے خط میں لکھا ہے کہ میں جیل کے اندر سے دیکھ سکتا ہوں کہ جب سیاست میں کامیابی جیل چلا کر حاصل کی جارہی ہے تو پھر کسی کو اسکول چلانے کی سیاست کی ضرورت کیوں محسوس ہوگی۔ اقتدار کے خلاف اٹھنے والی آواز کو جیل بھیجنا بچوں کے لیے اچھے اسکول اور کالج کھولنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ایک بار تعلیم کی سیاست قومی اسٹیج پر آئے گی تو نہ صرف جیلوں کی سیاست پسماندہ ہو جائے گی بلکہ جیلیں بھی بند ہونا شروع ہو جائیں گی۔حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جیل بھیج کر یا جیل بھیجنے کی دھمکی دے کر حکومت چلانا ایک عظیم اسکول کالج کھولنے اور چلانے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
جب اتر پردیش کے حکمرانوں کو ایک لوک گلوکارہ کا فوک گانا ان کے خلاف ملا تو انہوں نے پولیس کو نوٹس بھیجا اور اسے جیل جانے کی دھمکی دی۔ جب کانگریس کے ترجمان نے وزیر اعظم کے بارے میں کوئی لفظ بولا تو دو ریاستوں کی پولیس نے انہیں فلمی انداز میں ایک خوفناک مجرم کی طرح پکڑ لیا۔سسودیا نے خط میں لکھا ہے کہ تصویر صاف نظر آرہی ہے۔ جیل کی سیاست اقتدار میں بیٹھے لیڈر کو بڑا اور طاقتور بنا رہی ہے۔ تعلیم کی سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے ملک بڑا ہوتا ہے لیڈر نہیں۔ جب ملک کے کمزور ترین گھرانے کا بچہ بھی تعلیم حاصل کرکے مضبوط شہری بنتا ہے تو ملک مضبوط ہوتا ہے۔ ملک صاف دیکھ رہا ہے کہ کون خود کو بڑا بنانے کی سیاست کر رہا ہے اور کون ملک کو بڑا بنانے کی سیاست کر رہا ہے۔سسودیا نے لکھا کہ یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کی سیاست کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کم از کم یہ سیاسی کامیابی کا شارٹ کٹ نہیں ہے۔ بہت سارے بچوں کے والدین اور خصوصاً اساتذہ کو تعلیم کے لیے ترغیب دینے کا راستہ طویل ہے۔ جیل کی سیاست میں تفتیشی ایجنسی کے چار افسران کو دباؤ میں لے کر ہی کام کیا جاتا ہے۔ تعلیم کی سیاست میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ملک میں تعلیم کی سیاست کے ذریعے آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے سسودیا نے لکھا ہے کہ جیل کی سیاست کی اس آسان کامیابی نے سیاست میں تعلیم کو پسماندہ کردیا ہے۔ تاہم، اچھی علامت یہ ہے کہ تعلیم کی سیاست ملک کے ووٹروں میں ایک گونج پیدا کر رہی ہے۔ دہلی کے تعلیمی ماڈل سے متاثر ہو کر پنجاب کے ووٹروں نے بھی بہترین تعلیم، اچھے سرکاری سکولوں اور کالجوں کو ووٹ دیا۔ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ کئی غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی ریاستی حکومتوں نے سیاست سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کے اچھے کاموں سے سیکھنے اور سمجھنے کا عمل شروع کیا ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت خراب ہو سکتی ہے، پھر بھی وہاں کے وزرائے اعلیٰ تعلیم سے متعلق اشتہارات دینے پر مجبور ہیں۔وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ منیش سسودیا نے جیل سے ملک کو خط لکھا ہے۔ بی جے پی لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی سیاست کرتی ہے۔ ہم بچوں کو پڑھانے کی سیاست کر رہے ہیں۔ قوم جیل بھیجنے سے نہیں تعلیم سے ترقی کرے گی۔












