شعیب رضا فاطمی
یہ صرف ایک خطبہ نہیں تھا… یہ انسانیت کے سینے پر رکھا ہوا ایک سوال تھا، ایک ایسا سوال جس کا جواب آج تک دنیا کے کسی ایوان، کسی پارلیمنٹ، کسی محل اور کسی تخت سے نہیں آیا۔غزہ کی اس بستی میں وہ جمعہ بھی آیا… مگر وہ عام جمعہ نہیں تھا۔ وہاں نہ خطبے کی طوالت تھی، نہ الفاظ کی گھن گرج، نہ فقہی نکات کی باریکیاں۔ وہاں صرف بھوک تھی… ایسی بھوک جو آواز کو نگل جائے، جسم کو توڑ دے اور روح کو لرزا دے۔امام ممبر پر کھڑا ہوا… مگر اس کے الفاظ اس کے ساتھ نہ دے سکے۔ اس نے صرف اتنا کہا: “میں بے حد بھوکا ہوں… مجھ میں بولنے کی قوت نہیں… آپ بھی بہت بھوکے ہیں… آپ میں سننے کی تاب نہیں… آئیے جماعت کھڑی کرتے ہیں۔”یہ چند جملے نہیں تھے… یہ پوری امت مسلمہ کے ضمیر پر ایک طمانچہ تھے۔یہ خطبہ اس دنیا کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ تھا جو خود کو مہذب کہتی ہے، انسانی حقوق کی دعویدار ہے، اور ہر فورم پر انصاف کے نعرے لگاتی ہے۔ کہاں گئے وہ ادارے؟ کہاں گئی وہ قراردادیں؟ کہاں ہیں وہ آنسو جو صرف تقریروں میں بہتے ہیں؟یہ خطبہ صرف اسرائیلی بمباری کا نوحہ نہیں تھا… یہ مسلم حکمرانوں کی خاموشی کا ماتم تھا۔56 اسلامی ممالک… کروڑوں مسلمانوں کے نمائندے… مگر ایک بھوکے امام کے پاس نہ الفاظ تھے، نہ طاقت، نہ امید۔ اس کے سامنے صرف بھوکی صفیں تھیں… ایسے نمازی جو روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترس رہے تھے، مگر پھر بھی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے تھے۔یہ منظر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہماری عبادتیں بھی اب صرف رسم رہ گئی ہیں؟ کیا ہماری غیرت بھی بیانات تک محدود ہو چکی ہیں ؟ کیا ہماری امت صرف تعداد کا نام رہ گئی ہے؟غزہ کا وہ امام جب کہتا ہے “آئیے جماعت کھڑی کرتے ہیں”، تو وہ دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ ہم بھوکے ہیں… کمزور ہیں… بے بس ہیں… مگر ہم ٹوٹے نہیں ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں غزہ مادی طاقت سے ہار کر بھی اخلاقی بلندی پر کھڑا نظر آتا ہے، اور باقی دنیا طاقتور ہو کر بھی اخلاقی طور پر شکست کھا جاتی ہے۔یہ خطبہ تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے… نہ اس لیے کہ وہ مختصر تھا، بلکہ اس لیے کہ اس نے لمبی لمبی تقریروں، قراردادوں اور دعووں کی حقیقت کھول دی۔آج سوال صرف غزہ کا نہیں… سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟اگر ایک بھوکا امام اپنی کمزوری میں بھی سچ بول سکتا ہے، تو کیا ہم اپنی آسائشوں میں بھی سچ سننے کی ہمت رکھتے ہیں؟












