دہلی کی میونسپل کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی نے تاریخی جیت درج کی ہے وہیں اس کی جیت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی کارپوریشن میں پندرہ سالہ سرداری کا خاتمہ کردیا ہے۔عام آدمی پارٹی کیلئے یہ فتح معمولی نہیں ہے ،اسے تاریخی ہی کہا جاسکتا ہے۔اس کا مقابلہ اس قومی سطح کی سب سے بڑی پارٹی سے تھا جو خود مرکز میں حکومت کررہی ہے ۔اور اس نے دہلی میں سوک شعبہ کو جیتنے کے لئے کیا کچھ جتن نہیں کیئے تھے۔جب دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشہیری مہم جاری تھی تو اس کے روڈ شوز میں اور لیڈروں کی گھر گھر ملاقاتوں کی مہم میں نہ صرف سات ریاستوں کے وزراء شامل تھے بلکہ کئی قومی سطح کے لیڈڑ اور بی جے پی کے قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اوروزیر داخلہ اجے مشرا جیسے یونین وزیر تک نے حصہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔بی جے پی عام آدمی پارٹی کو کئی معاملوں اور جھگی بستیوں کے مستقل نہ کئے جانے پر مسلسل طعنہ دے رہی تھی ،اس کے کاموں میں نقص نکال رہی تھی اور اس کی ناک میں دم کئے تھی۔اس الیکشن کو جیتنے کے لئے نہ صرف الیکشن کو ٹالا گیا بلکہ تین حصوں میں بٹی ایم سی ڈی کو ضم کر کے ایک کردیا گیا تاکہ اس کا مئیر ایک ہی چناجائے۔ بی جے پی کو چھ ماہ پہلے جب پنجاب کے انتخابات ہونے والے تھے تبھی دہلی میں الیکشن کرائے جانے تھے ،لیکن انہیں ایم سی ڈی کو تحلیل کرنے کا بہانہ کر کے ملتوی کردیا گیا تھا ۔بی جے پی کو اس وقت خدشہ تھا کہ وقت پر الیکشن کرانے میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔کیونکہ پنجاب میں وہ نتائج کو بھانپ گئی تھی ۔ادھر یہ بات عام آدمی پارٹی بھانپ گئی تھی تاہم وہ ڈپلومیسی اور صبر سے کام لے رہی تھی اور مقصد پر نگا رکھے ہوئے تھی! ۔وہ پورے بھروسے اور یقین کے ساتھ کہہ رہی تھی کہ ایم سی ڈی سے بی جے پی کا صفایا کر کے رہیں گے۔لہذا اس نے ایسا کر کے بھی دکھادیا۔الیکشن میںمہم کے دوران اس کے امیدوار مسائل کو زور شور سے اٹھا رہے تھے اور بعض کہہ رہے تھے کہ کوڑے کے ساتھ بی جے پی کا بھی صفایا کر دینگے !۔کجریوال کا روز اول سے یہی کہنا تھا کہ ’’ایم سی ڈی میں بھی کجریوال‘ ‘،جس کا مطلب تھا کہ انہیں آپ کا جیتنے کا پورا بھروسہ تھا۔وہیں دوسری جانب آپ کی جیت ان معنوں میں بھی اہم ہوجاتی ہے کہ وہ مجموعی طور سے سیٹوں کے معمولی فرق سے کامیاب ہوئی ہے۔یعنی کارپوریشن کی کل 250سیٹوں میں سے اگر بی جے پی کو 104سیٹیں ملیں ہیں تو وہیں عام آدمی پارٹی کو 134سیٹیں ملیں ،یہ کوئی بہت بڑا فرق نہیں ہے ،لیکن مشکل تھا،اسلئے عام آدمی پارٹی کے لئے بڑی کامیابی ہے ۔ایک تو وہ بی جے پی کے سامنے چھوٹی اور نئی نویلی پارٹی ہے اور دوسرے یہ کہ کارپوریشن میں اس کے پاس کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔لہذاان معنوں میں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عام آدمی پارٹی نے اپنی فتح درج کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ دہلی میں بی جے پی پندرہ سالوں سے راج کررہی تھی لیکن آپ حکومت سے ٹکرائو کی حالت میں رہتی تھی۔ دہلی حکومت سے خراب رشتوں میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔صفائی کا معاملہ ہو یا ملازمین کو تنخواہ جاری کرنے کی بات ہو ،کئی پہلوں سے دہلی حکومت کو ہی بدنا کرنے اور مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔لیکن امید ہے کہ اب یہ تکرار تھم جائے گی ۔
بلاشبہ عام آدمی پارٹی کو اکثریت ملنے کے بعد بی جے پی کے وہ تمام دعوے اب کھوکھلے ثابت ہوئے جس میں وہ اسے ناکام اور بدعنوان ثابت کرنے میں لگی تھی ۔لیکن دہلی کے عوام نے اسے کامیاب بنا کر یہ جتا دیا ہے کہ دہلی میں وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ایم سی ڈی میں وہ کسے پسند کرینگے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس سچائی کو بھی بی جے پی اب جھٹلاپائے گی ؟ یہ بی جے پی کیلئے کم خفت کی بات نہیں ہونی ہے!۔
ایم سی ڈی میںکراری ہار کے بعد اگرچہ بی جے پی اپنا محاسبہ کرے یا نہیں ،یہ بات عیاں ہے کہ یہ ہار اور جیت سنہ 2024کیلئے واضح اشارہ ہے جو بتا رہی ہے کہ بھارت کے لوگوں کے دلوں میں کیا منصوبہ چل رہا ہے اور وہ بی جے پی سے کس قدر اکتا چکے ہیں۔ دوسری جانب اس الیکشن میں کجریوال پارٹی کی جیت یہ اعلان کررہی ہے کہ جو لیڈر اور بھگت ا سکی اسکیموں کو مفت کی ریوڑیاں کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے ،اس میں انہیں بڑی ناکامی ہاتھ لگی ہے۔بی جے پی کے اکثر اعلیٰ سطحی لیڈر یہاں تک کہ وزیر اعظم مودی بھی اشاروں میں کہہ چکے ہیں جو لوگ مفت کی ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں ، یہ ملک کیلئے خطرناک ہے!،لیکن لوگوں نے ان کی باتوں کو سرے سے خارج کردیا! ۔ اس کے لیڈروں کو جیل میں ڈالنا ،انہیں بدنام کرنا یا ان کی ویڈیوز اچھالنے کا حربہ بھی بی جے پی کے کچھ کام نہ آیا!۔اس لئے کہنا غلط نہیں ہوگا کہ گجرات اور ہماچل میں ایگزٹ پول پر بھروسہ کر بھی لیا جائے تو دہلی میں کم از کم بی جے پی کی ہار اس کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے ۔ دوسری جانب ابھی عام آدمی پارٹی کو زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے ،اگر چہ یہ اس کیلئے بڑی کامیابی ہے ،تاہم انہیں مقصد پر نگا رکھتے ہوئے ممکنہ چیلنجوں کیلئے تیار رہنا ہوگا۔












