رانچی میں دیوں کی جگمگاہٹ اور مٹی کے گھروندوں میں روایت کی جھلک، بازاروں میں رونق
رانچی (یو این آئی) جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں دیوالی کے موقع پر بازار پوری طرح سج کر تیار ہو گئے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں پٹاخوں، مٹی کے دیوں، رنگ برنگی جھالروں اور گھر سجانے کے سامان کی دکانیں گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں بازاروں میں خریداری کرنے والوں کی بھیڑ امڈ رہی ہے۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک میں دیوالی کی خریداری کے سلسلے میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ اس بار بازار میں پٹاخوں کے نئے ڈیزائن کے ساتھ جھارکھنڈ کے دیہی کاریگروں کے تیار کردہ مٹی کے روایتی گھروندے بھی خاص توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
اس سال پٹاخوں کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود گاہکوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بازار میں بیٹ بم، بس انار بم، ہیلی کاپٹر بم اور ڈرون بم جیسے نئے قسم کے پٹاخے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ بس انار بم میں 3 انار ایک ساتھ جوڑے گئے ہیں۔ ایک کے جلنے کے بعد دوسرا خود بخود جلنے لگتا ہے۔ وہیں بیٹ بم سے انار کی طرح روشنی کا فوارہ نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ رنگ برنگی روشنیاں بکھیرنے والے 12 سے 100 شاٹس تک کے اسکائی شاٹس کی بھی زبردست مانگ ہے۔
ماحولیات کے تئیں بڑھتی ہوئی بیداری کے باعث لوگ گرین پٹاخوں کی خریداری میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ وہیں بچوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین چھوٹے پٹاخوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پٹاخوں کے کاروباری غلام مرتضیٰ کے مطابق، قیمتوں میں اضافے کے باوجود بازار میں گاہکوں کا جوش و خروش برقرار ہے۔ نئے ڈیزائن کے پٹاخوں اور اسکائی شاٹس کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ کاروباریوں کو امید ہے کہ اس سال بھی رانچی میں کروڑوں روپے کا پٹاخوں کا کاروبار ہوگا۔
دیوالی کے بازار میں اس بار جھارکھنڈ کے دور دراز دیہی علاقوں سے آئے کاریگروں کے مٹی کے گھروندے خاص توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان گھروندوں میں صرف مٹی کی کاریگری ہی نہیں، بلکہ دیہی زندگی، مقامی فن اور پرانی روایات کی جھلک بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
رانچی کے بازاروں میں اس بار گھروندوں کی کئی قسمیں دستیاب ہیں۔ چینی آرائشی سامان اور تھرماکول سے بنے رنگ برنگے گھروندے بھی خریداروں کو لبھا رہے ہیں۔ تاہم، روایتی مٹی کے گھروندوں کی اپنی الگ پہچان اور مانگ ہے۔ خاص طور پر ایسے خاندان، جو بچپن سے گھروندے بنانے اور دیوالی پر ان کی پوجا کرنے کی روایت نبھاتے آ رہے ہیں، وہ مٹی کے گھروندوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وہیں راجدھانی کے چوراہوں پر مٹی کے خوبصورت دیوں، جھالروں، برقی قمقموں اور گھر سجانے کے مختلف سامان کی دکانوں پر بھی رونق بڑھ گئی ہے۔ لوگ دیوالی کی تیاریوں کو آخری شکل دینے میں مصروف ہیں۔ مجموعی طور پر پٹاخوں کی چمک، دیوں کی روشنی اور مٹی کے گھروندوں کی روایتی خوبصورتی سے رانچی کا بازار پوری طرح دیوالی کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔
