مہاراشٹر میں اراضی ریکارڈ سے محروم 1.6 لاکھ کسانوں کو فارمر آئی ڈی جاری کرنے کا فیصلہ
اگپور (یو این آئی) مہاراشٹر حکومت نے سرکاری اراضی ریکارڈ میں نام درج نہ ہونے کے سبب مختلف سرکاری سہولتوں سے محروم کسانوں کو بڑی راحت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے تقریباً 1.6 لاکھ کسانوں کو فارمر آئی ڈی جاری کی جائے گی۔ ریاستی وزیر برائے محصولات چندرشیکھر باونکولے نے ہفتہ کو یہ اعلان کیا۔وزیر کے مطابق اس فیصلے سے ایسے کسان مستفید ہوں گے جو یکم جنوری 2015 سے زمین پر کاشت کاری کر رہے ہیں، لیکن اب تک انہیں فارمر آئی ڈی حاصل نہیں ہوئی یا ان کے نام 7/12 اراضی ریکارڈ میں درج نہیں کیے گئے ہیں۔ ایسے کسان کسی ایک مستند دستاویز کی بنیاد پر بھی اپنا اندراج کرا سکیں گے۔
اس اقدام سے ان ہزاروں کسانوں کو سرکاری ڈیٹابیس میں شامل کرنے میں مدد ملے گی جو اب تک سرکاری ریکارڈ سے باہر ہیں۔ خاص طور پر قبائلی کسانوں کو اس سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جنہیں زمین الاٹ کی گئی ہے لیکن ان کے نام سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں ہیں۔
چندرشیکھر باونکولے نے اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت کی جانب سے دیوالی کا تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فارمر آئی ڈی کے ذریعے اہل کسان مختلف سرکاری اسکیموں اور فلاحی پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے ان علاقوں میں آف لائن طریقے سے اراضی کی پیمائش اور سروے کرانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جہاں آن لائن سروے کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اس اقدام سے ریاست کے تقریباً ایک لاکھ کسانوں کو راحت ملنے کا امکان ہے۔
باونکولے نے مزید بتایا کہ ریاستی وزراء دیوالی کے موقع پر مختلف علاقوں میں کسانوں کے گھروں کا دورہ کریں گے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تہوار منائیں گے۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس ناگپور ضلع کے نرکھیڑ تعلقہ کے لوہاری ساونگا گاؤں میں ایک کسان خاندان کے ساتھ دیوالی منائیں گے۔
ان کے دورے کے دوران کئی برسوں سے زیر التوا ایک آبپاشی منصوبے کو بھی حکومت کی منظوری ملنے کا امکان ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے علاقے کے تقریباً ایک ہزار کسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
