ریاستی خبریں

مہایوتی اتحاد میں سیاسی ہلچل کے درمیان سنجے راوت کی مہاراشٹر حکومت پر سخت تنقید

ممبئی (یو این آئی) مہاراشٹر کے حکمراں مہایوتی اتحاد میں سیاسی ہلچل کے درمیان شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں اندرونی طاقت کا توازن مکمل طور پر نوجوان رہنما پارتھ پوار کے حق میں منتقل ہو گیا ہے، جبکہ پارٹی کے سینئر اور بااثر رہنما محض نمائشی عہدوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ سنیل تتکرے اور پرفل پٹیل جیسے سینئر رہنماؤں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی گھٹن کے باعث دوبارہ اتحاد کی باتیں سیاسی حلقوں میں گردش کرنے لگی ہیں۔
قومی سیاست کے تناظر میں بات کرتے ہوئے راوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل متنازعہ حد بندی بل منظور کرانے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق ڈی ایم کے کی جانب سے واضح طور پر حمایت سے انکار کے بعد حکمراں اتحاد 36 ارکان پارلیمنٹ کی کمی پوری کرنے کے لیے دیگر اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ تاہم انہوں نے شرد پوار کے بی جے پی کے ساتھ جانے کے کسی بھی امکان کو مسترد کردیا۔
حکمرانی کے معاملے پر تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) رہنما نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی کمشنر اشونی بھیڑے کی جانب سے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خط میں بااثر رئیل اسٹیٹ تاجروں کی جانب سے مبینہ طور پر کئی کروڑ روپے مالیت کی اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور سیاسی قیادت کی سرپرستی میں دباؤ ڈالنے کے حربوں پر تنقید کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سنجے راوت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے کارکن منوج جارنگے پاٹل کے خلاف حکمراں حکومت پر مختلف محاذوں سے سیاسی انتقامی کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے 500 کروڑ روپے کے مبینہ آڈیو کلپ تنازع اور ریاستی حکومت کی سرپرستی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات کے پس پردہ سیاسی مقاصد پر بھی سوال اٹھائے۔راوت نے ایودھیا میں ریاستی حکومت کے خرچ پر بڑے پیمانے پر منعقد کیے جانے والے دیپوتسو پروگرام پر بھی سخت تنقید کی۔