عالمی خبریں

چین پر ایغور مسلمانوں سے متعلق مظالم چھپانے کے لیے مغربی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے استعمال کاالزام

بیجنگ۔۔ ایم این این۔ چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق عالمی تنقید کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی ممالک کے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو منظم انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں چینی حکومت کی مالی معاونت سے منعقد ہونے والے دوروں، مربوط سوشل میڈیا مہمات اور تشہیری سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔تحقیق کے مطابق چین نے امریکہ، برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے انفلوئنسرز کو سنکیانگ کے دوروں پر مدعو کیا، جہاں انہیں سیاحتی مقامات، بازاروں، جدید کارخانوں اور خوشحال مقامی آبادی کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے مواقع فراہم کیے گئے۔اگست میں شروع ہونے والی ایک مہم کے تحت 13 ممالک کے 16 غیر ملکی انفلوئنسرز نے سنکیانگ کا دورہ کیا۔ اس پروگرام کا انتظام چین کے انٹرنیٹ اور آن لائن مواد کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے نے کیا تھا۔اطالوی انفلوئنسر اینڈریا رینڈیسی اور برطانوی وی لاگر جیسن لائٹ فوٹ سمیت متعدد افراد نے ایسی ویڈیوز شائع کیں جن میں سنکیانگ کو ایک خوشحال اور آزاد خطے کے طور پر پیش کیا گیا۔ان ویڈیوز میں مخصوص ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے، تاہم بعض انفلوئنسرز نے اپنے دوروں کی سرکاری مالی معاونت کو واضح طور پر ظاہر نہیں کیا۔ستمبر میں ایک اور پروگرام کے تحت 14 ممالک کے 20 انفلوئنسرز کو سنکیانگ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرایا گیا۔
ان کی ویڈیوز میں کپاس کی پیداوار، جدید صنعتوں اور مقامی ثقافت کو نمایاں کیا گیا۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں میں جولائی 2026 میں چین کے نئے نسلی اتحاد قانون کے نفاذ کے بعد تیزی آئی۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے ذریعے ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر چینی زبان، ثقافت اور سیاسی نظریات اختیار کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔قانون میں مذہبی تنظیموں کو چینی ثقافتی اور سیاسی اصولوں کے مطابق سرگرمیاں انجام دینے کا پابند بنانے والی دفعات بھی شامل ہیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی انفلوئنسرز کی ویڈیوز میں سیاحت، ثقافتی تقریبات اور معاشی ترقی کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ اجتماعی حراست، مذہبی پابندیوں اور جبری مشقت جیسے سنگین الزامات پر عموماً بات نہیں کی جاتی۔چینی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور سنکیانگ میں اپنی پالیسیوں کو سلامتی، ترقی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔مبصرین کے مطابق سرکاری سرپرستی میں تیار کردہ سوشل میڈیا مواد اور آزادانہ صحافت کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے، تاکہ عالمی ناظرین سنکیانگ کی صورتحال کے بارے میں مختلف دعووں کا درست جائزہ لے سکیں۔یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین اپنی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے اور ایغور مسلمانوں کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تنقید کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ پر توجہ بڑھا رہا ہے۔