اتر پردیش

سماج وادی پارٹی بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ ہے، اکھلیش یادو کی سیاسی سمت واضح نہیں: آکاش آنند

سہارنپور (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کے بھتیجے اور پارٹی کے قومی کنوینر آکاش آنند نے پیر کو سہارنپور میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) پر سخت سیاسی حملے کیے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکھلیش یادو کی سیاسی سمت واضح نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی، دونوں کی حکومتوں کے دور میں ریاست میں جنگل راج دیکھنے کو ملا۔

نکڑ اسمبلی حلقے کے سورانہ میں منعقدہ بی ایس پی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آکاش آنند نے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے مغربی اتر پردیش میں پارٹی کی عوامی حمایت مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا کے ایک اجلاس میں اکھلیش یادو کو اپنا دوست بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ وقتاً فوقتاً ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔

آکاش آنند نے اکھلیش یادو پر سیاسی موقف بدلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی سمت طے نہیں ہے۔ وہ کبھی پی ڈی اے میں ‘پی’ کا مطلب پسماندہ طبقہ بتاتے ہیں تو کبھی اس کا استعمال پنڈتوں کے لیے کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی مرتب کردہ آئین کی کتاب دکھا کر دلت طبقے کو گمراہ کیا اور اس کی حمایت حاصل کی۔ انہیں بتانا چاہیے کہ انہوں نے اس طبقے کے لیے کیا کام کیا ہے۔

آکاش آنند نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر بلڈوزر اور پولیس مڈبھیڑ کی کارروائیوں کو لے کر بھی تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قتل کے سب سے زیادہ مقدمات اتر پردیش میں درج ہوتے ہیں۔بی ایس پی کے کنوینر نے اپنی پھوپھی مایاوتی کے دور حکومت میں قانون و انتظام، سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی تعریف کی۔