بہار نامہ

گیا جی میں چڑیا گھر تعمیر تعمیر کرنے کا وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کا اعلان

پٹنہ : وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج نئی دہلی میں ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو سے ملاقات کی۔ اس دوران بہار میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے متعلق اہم منصوبوں کے لیے جنگلاتی اراضی کے استعمال سے وابستہ تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں دستیاب بنجر جنگلاتی اراضی کو صنعتی اور ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
میٹنگ میں بہار کے مختلف اضلاع کے اہم منصوبوں سے متعلق جنگلاتی اراضی کے غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال(  Diversion Land  Forest)کی  تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں خاص طور پر:45.9 ہیکٹیئر جنگلاتی اراضی پر گیا جی چڑیا گھر کی تعمیر کے لیے مرکزی چڑیا گھر اتھارٹی سے ضروری منظوری حاصل کر نے کی تجویز،جموئی میں مجوزہ شمسی توانائی اور فولاد کی صنعتوں کے قیام کے لیے درکار مجموعی 9,000 ایکڑ اراضی میں سے 4,340 ایکڑ جنگلاتی اراضی کے استعمال کی منظوری کی تجویز، گیا جی کے ڈوبھی میں امرتسر-کولکاتا صنعتی راہداری کے تحت انٹیگریٹیڈ مینوفیکچرنگ کلسٹرCluster  Integrated Manufacturing)  کے قیام کے لیے کل 1,600 ایکڑ اراضی میں سے 1,308.72 ایکڑ جنگلاتی اراضی کے استعمال کی تجویز، مغربی چمپارن ضلع کے والمیکی ٹائیگر ریزرو کے تحت 5.8 کلومیٹر طویل مدن پور-پنیہوا سڑک کی مرمت اور اسے مجوزہ ایلیویٹیڈ کوریڈور کے طور پر ترقی دینے کی تجویز،مونگیر ضلع کے تاراپورڈویزن کے تحت سنگرام پور میں صنعتی علاقہ  کی ترقی کے لیے مجموعی 114 ایکڑ اراضی میں سے 84 ایکڑ جنگلاتی جھاڑیوں والی اراضی کے استعمال کی منظوری کی تجویز اور مونگیر ضلع کے بھیم باندھ میں ایکو ٹورزم  کے وسیع امکانات کو فروغ دینے کے لیے ضروری قانونی اور ماحولیاتی منظوری حاصل کرنے کی تجویزشامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے تلافیاتی شجرکاری( Afforestation)  Compensatory)   سے متعلق قانونی التزامات اور ماحولیاتی معیارات کی پابندی کو یقینی بناتے ہوئے ان منصوبوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے نفاذ سے بہار میں صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست کے مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں وسعت آئے گی۔ صنعتی ترقی کے ساتھ سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نئی رفتار ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور جنگلی حیاتیات کی حفاظت کے لیے بھی پوری طرح پابند عہد ہے۔ تمام منصوبوں کو مقررہ قانونی دفعات، تلافیاتی شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کے معیارات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر سے ان تجاویز کی جلد جانچ اور ضابطوں کے مطابق ضروری منظوریوں کے عمل میں تیزی لانے کے لیے تعاون کی درخواست کی۔