پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے میں تاخیر پر کانگریس کا سوال، حد بندی بلوں کے لیے خصوصی اجلاس بلانے کا شبہ
نئی دہلی، (یواین آئی) کانگریس نے منگل کو پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے باضابطہ اعلان میں مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر خصوصی اجلاس بلانے کا امکان کھلا رکھے ہوئے ہے، تاکہ مجوزہ حد بندی بلوں کو لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جا سکے، حالانکہ ان بلوں کے مندرجات کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد 82 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اسے باضابطہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے اشارہ دیا کہ اس تاخیر کا تعلق وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے مجوزہ حد بندی قانون سازی کی منظوری یقینی بنانے کے لیے خصوصی اجلاس بلانے پر غور کرنے کی اطلاعات سے ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ مجوزہ بل سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ممکنہ انتخابی شکست سے بچانا ہے۔انہوں نے الزام لگایا، ان بلوں کے مندرجات کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے، حالانکہ ان کا مقصد واضح ہے کہ 2029 میں بی جے پی کو سامنے نظر آنے والی شکست سے بچایا جائے۔امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے، جنہیں انہوں نے خود ساختہ چانکیہ قرار دیا، کانگریس رہنما نے انتخابی بے ضابطگیوں پر پارلیمنٹ میں بحث کے معاملے پر حکومت کے موقف میں دوہرے معیار کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امت شاہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر بحث کے اپوزیشن کے مطالبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ عمل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔مسٹر رمیش نے کہا،گزشتہ سال جب پوری اپوزیشن ایس آئی آر پر بحث چاہتی تھی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔پارلیمنٹ میں ووٹ چوری کے الزامات پر بحث کے لیے حکومت کی آمادگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ اس طرح کی کوئی بھی پہل اس وقت تک بے معنی ہوگی، جب تک مرکز الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی جاری نظرثانی کے عمل سے متعلق اپوزیشن کے خدشات دور نہیں کرتا۔انہوں نے مطالبہ کیا، اگر وزیر داخلہ ووٹ چوری کے معاملے پر خصوصی اجلاس بلانے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے آلۂ کار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ یقینی بنانا چاہیے۔ انہیں ایس آئی آر بھی معطل کر دینی چاہیے۔مسٹر رمیش نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پیش کرنے سے پہلے حد بندی کے نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکز نے اپوزیشن کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور ان تجاویز، ان کے آئینی مضمرات اور مختلف ریاستوں کی سیاسی نمائندگی پر ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ کیوں نہیں بلائی۔انہوں نے پوچھا، اور ظاہر ہے، انہیں حد بندی سے متعلق اپنی نئی تجاویز بھی اپوزیشن کے ساتھ کافی پہلے شیئر کرنی چاہئیں۔ ان تجاویز پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی ان میں ہمت کیوں نہیں ہے؟حد بندی کے عمل میں پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی سرحدوں کی ازسرنو تعیین اور نشستوں کی تقسیم کا تعین کیا جاتا ہے۔ ملک گیر سطح پر مجوزہ آئندہ حد بندی کے پیش نظر یہ معاملہ سیاسی طور پر انتہائی حساس بن گیا ہے۔2026 کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری سے حلقوں کی آئندہ ازسرنو ترتیب کو جوڑنے والی آئینی دفعات کے تناظر میں اس بحث کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔اپوزیشن، بالخصوص جنوبی ہندوستان کی سیاسی جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حد بندی کا عمل بنیادی طور پر آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی ہوا تو اس سے مختلف ریاستوں کے درمیان سیاسی نمائندگی کا توازن بدل سکتا ہے۔جنوبی ریاستوں کا کہنا ہے کہ آبادی پر قابو پانے کی پالیسیوں کو کامیابی سے نافذ کرنے کی وجہ سے انہیں پارلیمانی نمائندگی کے معاملے میں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی آئینی تحفظات، اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار اور مجوزہ حلقہ بندی کی تنظیم نو کے وقت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔کانگریس کا اصرار ہے کہ حد بندی کو محض انتظامی یا تکنیکی عمل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے وفاقی نظام اور سیاسی طاقت کی تقسیم پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکز اپنی تجاویز منظر عام پر لائے اور اس عمل کو آگے بڑھانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کرے۔مسٹر رمیش کے تازہ بیان نے یوں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تین اہم اور متنازع مسائل کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے: انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری، الیکشن کمیشن کی جواب دہی اور انتخابی حلقوں کی مجوزہ حد بندی۔کانگریس اس بحث میں شفافیت اور مشاورت کو مرکزی اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ خصوصی اجلاس بلانے کے لیے حکومت کی بظاہر آمادگی پارلیمانی بحث کے تئیں حقیقی عزم کا نتیجہ ہے یا 2029 کے عام انتخابات سے پہلے سیاسی مفادات کے پیش نظر کیا جا رہا اقدام ہے۔
